بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں غیرمحرم عورت کا شریک ہونا

سوال

موجودہ وباء کے پیشِ نظر گھر میں جماعت کراتے ہوۓ اگر غیر محرم عورت بھی شریک ہو جاۓ تو اس کی نماز جائز ہو گی ؟

جواب

موجودہ حالات میں جب تک مساجد میں باجماعت نمازوں پر پابندی ہو اس وقت تک مجبوری کی بنا پر  گھر میں انفرادی نماز کے بجائے  اہلِ خانہ کے ہم راہ باجماعت نماز ادا کرنا افضل ہے، اس میں اگر کوئی غیر محرم رشتہ دار عورت شریک ہوجائے تو وہ عورتوں کی صف میں پیچھے ان کے ساتھ کھڑی ہوگی، اور اس کی نماز درست ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم

گھر میں نماز باجماعت کے وقت صفوں کی ترتیب کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

عورتوں کو مردوں سے پیچھے صف بناکر جماعت سے نماز پڑھنا اور اس کا طریقہ

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144108200296
تاریخ30-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں