بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کاٹنے والے شخص کی امامت

سوال

 کیا وہ شخص جو داڑھی کاٹتا ہو، اگروہ امام بن جاۓ تو کیا اس کے لیے امامت کرانا جائز ہے؟  اور کیا اس کے پیچھے نماز ادا کرنے والوں کی نماز درست ادا ہوگی؟

جواب

داڑھی منڈوانا یا ایک مشت سے کم رکھنا گناہِ کبیرہ، فسق اور حرام ہے، لہذا  ڈاڑھی منڈےشخص کا امام بننا مکروہِ تحریمی ہے، ایسے امام کے پیچھے نماز کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا ہوگی۔ اسے مستقل امام نہ بنایا جائے، نیز باشرع شخص کی موجودگی میں بھی اسے امام نہیں بنانا چاہیے، تاہم اگر وہ امامت کے لیے آگے ہوگیا اور کسی باشرع شخص نے اس کی اقتدا میں نماز ادا کرلی تو نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی، نماز کے اعادے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل فتاوی ملاحظہ کیجیے:

داڑھی کاٹنے والے شخص کی امامت

ایک مشت سے کم داڑھی والے کے پیچھے نمازکا حکم

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144107201340
تاریخ25-03-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں