بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

داڑھی کا خط بنوانا / سلیقہ سے رکھنے کے لیے کٹوانا

سوال

لوگ جو داڑھی سیٹ کرواتے ہیں یہ جائز ہے یا پھر جو خط بنواتےہیں داڑھی کا وہ جائز ہے؟

جواب

 ایک مشت داڑھی رکھنا شرعاً واجب ہے ایک مشت داڑھی سے زائد بالوں کو سیٹ کروانے میں کوئی قباحت نہیں، شرعی حدود میں رہتے ہوئے ٹھوڑی اور جبڑے کے علاوہ رخسار اور گردن کے بالوں کو صاف کرنا اور خط بنوانا جائز ہے۔ البتہ خط کے نام پر  آج کل مختلف انداز کی جو داڑھیاں بنائی جارہی ہیں وہ داڑھی کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔ 

’’الدر المختار ‘‘  میں ہے:

"و أما الأخذ منها وهي دون ذلك كما فعله بعض المغاربة و مخنثة الرجال فلم يبحه أحد، و أخذ كلها فعل يهود الهند و مجوس الأعاجم". (٢/ ٤١٨، ط: سعيد) فقط واللہ اعلم

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کے فتاویٰ ملاحظہ کیجیے:

داڑھی کی حدود اور خط بنوانا

گالوں پر موجود داڑھی سے زائد بالوں کو چمٹے سے نوچنے کا حکم

داڑھی کتنی ہونی چاہیے؟

چاروں طرف سے داڑھی کی شرعی حد اور اس کی دلیل

مسنون داڑھی

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200747
تاریخ13-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں