بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا ٹیکس زکاۃ کی رقم سےادا کیا جاسکتا ہے؟

سوال

جب دورِ خلافت اور اوئلِ اسلام کی اسلامی حکومتیں اپنے معاملات کی تکمیل اور عوامی فلاح کے کاموں کی تکمیل کے لیے زکاۃ وعشر کے نظام سے اکٹھا ہونے والی رقم سے استفادہ کرتیں تو  کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی زکاۃ وعشر موجودہ ٹیکس کا نعم البدل ہے، اگر ایسا ہے تو کیا میں اپنا واجب الادا ٹیکس اپنی زکاۃ سے ادا کر سکتا ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ زکاۃ اور ٹیکس دونوں علیحدہ چیزیں ہیں، زکاۃ ایک فرض عبادت ہے، زکاۃ کے اپنے مخصوص مصارف ہیں،  جس میں مستحقینِ زکاۃ کو مالک بنا کر زکاۃ کا مال دیا جاتا ہے، فلاحی یا رفاہی کاموں میں براہِ راست زکاۃ کا مال استعمال کرنا درست نہیں، دور خلافت اور اوائل اسلام کی حکومتیں عوامی اور رفاہی کاموں کے لیے زکاۃ یا عشر کی رقوم سے استفادہ نہیں کرتی تھیں، بلکہ اس کے لیے مالِ غنیمت، خراج وغیرہ  یا بوقتِ ضرورت لوگوں پر مالی ذمہ داری عائد کرکے اس سے امور انجام دیے جاتے تھے، لہذا سائل کی مذکورہ بات درست نہیں ہے، اور اس کے لیے واجب الادا ٹیکس زکاۃ کی مد سے ادا کرنا جائز نہیں ہے۔

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

کیا ٹیکس ادا کرنے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی؟

فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144106200394
تاریخ05-02-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں