بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیرونِ ملک میں عارضی نکاح

سوال

بیرونِ ملک میں خاص وقت کے لیے نکاح کرنا کیسا ہے؟ یعنی نکاح کرکے ایک یا دو سال بعد طلاق دینا۔

جواب

مرد حالتِ سفر یا ملازمت کےلیے  کسی دوسرے ملک میں جائے اور  اسے وہاں اپنی طبعی  خواہش پوری کرنے   کی حاجت ہو تو  اگر طلاق کی نیت سے نکاح کرلے، یعنی دل میں یہ سوچے کہ جب میں سال دو سال بعد واپس  چلا جاؤں گا تو طلاق دے دوں گا عرف میں ’’نکاح مسیار‘‘  کہلاتا ہے، اور اس طرح نکاح کرنا ناجائز ہے۔

تفصیل کے لیے جامعہ کا فتوی درج ذیل لنک میں ملاحظہ کریں :

نکاح مسیار کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144105201034
تاریخ24-01-2020

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں