ٹیکس سے بچنے کے لیے جھوٹ بولنا
سوال
سرکاری یا حکومتی ظالمانہ ٹیکس سے بچنے کے لیے جھوٹ بولنا مثلاً زمین کی خریداری پر خریدار کا ٹیکس سے بچنے کے لیے قیمتِ خرید کم لکھوانا کیسا ہے؟
جواب
ناقابلِ تحمل ٹیکس سے بچنے کے لیے صریح جھوٹ بولناجائز نہیں، البتہ کوئی جائز تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے۔
"533- عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، ومَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ ويَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا، وإِيَّاكُمْ والْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، ومَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ ويَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ". فقط واللہ اعلم
ٹیکس کی شرعی حیثیت جاننے کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

