بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جان دار کے کارٹون والی ویڈیو بنانا

سوال

کیا کسی بھی تصویر کو کارٹون میں تبدیل کر کے ویڈیو میں استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب

جان دار اشیاء کے ایسے کارٹون بنانا جس سے جان دار  کی حکایت اور شناخت ہوتی ہو، یہ تصویر کے حکم میں ہے، ایسے کارٹون بنانا جائز نہیں ہے، اور اگر اس میں اس طرح کا تصرف کردیا کہ اس کا سر کاٹ دیا جائے یا مٹادیا جائے یا اس کے مکمل خدوخال ختم کردیے جائیں تو  یہ تصویر کی حرمت سے نکل جائے گا، (صرف آنکھیں مٹانے سے یہ حکم نہیں ہوگا)  اور  کسی جائز مقصد کے لیے جائز طریقہ سے بنائی گئی ہو ویڈیو میں اسے استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی، بشرط یہ ہے کہ کوئی اور مفاسد نہ پائے جائیں ۔

مروجہ کارٹون ڈرامہ وغیرہ  کئی دیگر مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ان کا دیکھنا ناجائز ہے۔ اس کی تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر جامعہ کا فتوی ملاحظہ فرمائیں:

بچوں کے لیے کارٹون دیکھنے کا حکم

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144012201282
تاریخ15-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں