بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ کی وجہ سے پیٹرول سستا ملنا

سوال

عام طور پر پیٹرول 118 میں ملتا ہے جب کہ وہی پیٹرول ایزی پیسہ کے ذریعے 99 روپے فی لیٹر ملتا ہے تو  اب جو یہ پٹرول کم ریٹ پہ ملتا ہے تو اس کا حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں ? نیز یہ بتائیے کہ اس میں سود ہے کہ نہیں?

جواب

واضح رہے کہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم "قرض" ہے اور قرض دے کر اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا ناجائز ہے، یہ سود ہے جو کہ حرام ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ایزی پیسہ اکاؤنٹ ہولڈر کو مخصوص رقم جمع کرانے کی شرط پر یومیہ فری منٹس وغیرہ کی سہولت، سستے پیٹرول کا حصول یا رقم کی منتقلی پر بونس وغیرہ کا حصول اور اس جیسی دیگر منفعت حاصل کرنا ناجائز ہے، اس لیے کہ اس اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا درحقیقت قرض ہے اور قرض دینا جائز ہے، لیکن کمپنی اس پر جو مشروط منافع یا سہولت دیتی ہے وہ شرعاً ناجائز ہے۔ اس لیے کہ قرض پر شرط لگا کر نفع کے لین دین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود قرار دیا ہے۔

نیز  چوں کہ اس میں اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز معاملے کے ساتھ مشروط ہے، اس لیے یہ اکاؤنٹ کھلوانا بھی جائز نہیں، اگر کوئی ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوا چکا ہے تو وہ صرف اپنی جمع شدہ رقم لے سکتا ہے یا اس کے برابر استفادہ کرسکتا ہے، اس رقم پر ملنے والے اضافی فوائد اس کے لیے ناجائز ہوں گے، فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: كل قرض جر نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر وعن الخلاصة، وفي الذخيرة: وإن لم يكن النفع مشروطًا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به". (5/166، سعيد)  فقط والله اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیے:

ایزی پیسہ اکاؤنٹ کے ذریعہ پیٹرول ڈلوانے پر ڈسکاؤنٹ کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201009
تاریخ07-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں