بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

المیزان انویسٹمنٹ/ میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کا حکم

سوال

آپ کے فتوی نمبر : 144003200213 میں میزان انوسٹمنٹ کی بعض صورتوں کو ناجائز اور بعض کو جائز لکھا گیا ہے، جب کہ دوسرے فتوی 144004201098 میں میزان انوسٹمنٹ کو مطلقاً ناجائز بتلایا ہے، ان دونوں فتووں میں تضاد معلوم ہوتا ہے، اب اس میں کون سا فتویٰ ٹھیک ہے؟ اس کی تعیین فرمادیں!

جواب

مذکورہ دونوں جوابات میں سے 144003200213 جواب تفصٰیلی ہے۔ اور دوسرا جواب مطلق ہے ، چوں کہ بہت سی جگہوں پر شرائط کا لحاظ نہیں رکھا جاتا؛ اس لیے مطلق اور مختصر جواب لکھا گیا،  ورنہ تفصیلی جواب سے اپنی صورت معلوم کرلی جائے۔ فقط واللہ اعلم

مزید تفصیل کے لیے درج ذیل لنک پر فتویٰ ملاحظہ کیجیے:

المیزان انویسٹمنٹ میں سرمایہ کاری کرنا (اسلامک میوچل فنڈز اور اسٹاک مارکیٹ کے شئیرز کا حکم)

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200984
تاریخ21-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں