بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام جس کاغذ پر لکھا ہو اس کا حکم

سوال

اکثر دفتر میں کام کرتے ہوئے بے کار کاغذ ضائع کرنے پڑتے ہیں، شریڈ کر کے یا جلا کر، اکثر کاغذات میں محمد نام انگلش میں لکھا ہوتا ہے، کیا ایسے کرنے سے گناہ ہوتا ہے؟ ایسا کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟ 

جواب

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک خواہ کسی بھی زبان میں لکھا ہو،نہایت  قابلِ  احترام وتعظیم ہے، لہذا جس کاغذ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لکھا ہو حتی الامکان اس کو ردی کی نذر نہ کیا جائے، کوئی اور صورت نہ  ہو تو نام مبارک  نام والا حصہ کاٹ علیحدہ کردیا جائے  اور کسی  مناسب  جگہ  جہاں مقدس اوراق رکھے جاتے ہیں، رکھ دیا جائے،  نام مبارک کی قصدًا  بے احترامی کرنا بڑا گناہ ہے۔  فقط واللہ اعلم 

مزید دیکھیے:

مقدس اوراق کا حکم اور حفاظت کا طریقہ!

مقدس اوراق کی حفاظت کا طریقہ اور ان کو آگ میں جلانا

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200959
تاریخ20-07-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں