بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈز کا حکم

سوال

پرائز بانڈز کے  بارے میں کیا رائے ہے ؟

جواب

پرائز (انعامی) بونڈ سود اور جوئے کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے حرام ہے؛ اس لیے انعام اور نفع کی غرض سے کسی بھی قسم کے پرائز (انعامی) بونڈ خریدنا یا اس رقم سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

تفصیل کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ کیجیے:

پرائز بانڈ کا شرعی حکم کیا ہے؟

پرائز بانڈز کا حکم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144010200381
تاریخ25-06-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں