بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تصویر سے متعلق فتوی

سوال

تصویر کے متعلق تفصیلی فتوی ارسال کریں!

جواب

کسی شدید ضرورت کے بغیر کسی بھی جان دار کی  تصویر کھینچنا، بنانایا بنوانا ناجائز اور حرام ہے،  خواہ  اس تصویر کشی کے  لیے کوئی بھی  آلہ استعمال کیا جائے.

تفصیل کے لیے مفتی شعیب عالم صاحب کی کتاب  ”ڈیجیٹل تصویر (فنی وشرعی تجزیہ) “ کا مطالعہ کیجیے۔

نیز درج لنک پر جامعہ کے ترجمان رسالہ ماہنامہ بینات کے تصویر سے متعلق مضمون کا مطالعہ کیجیے:

ڈیجیٹل تصویر یا اباحیتِ عامہ

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144008200683
تاریخ03-05-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں