بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا کرایہ کے مکان کو کرائے پر دے سکتے ہیں؟


سوال

کیا کرایہ کے مکان کو کرائے پر دے سکتے ہیں؟

جواب

کرایہ کا مکان جتنے کرائے پر لیا ہے اتنے ہی کرائے پر کسی اور کو دینا جائز ہے،  تاہم اگر پہلے کرایہ دار نے مالکِ مکان سے مکان لینے کے بعد اس  پر کچھ خرچہ وغیرہ  کیا ہو، مثلاً کوئی اضافی تعمیرات کرائی ہوں  یا مرمت وغیرہ کرائی تو اس صورت میں زائد کرایہ پر دینا جائز ہوگا۔

المحيط البرهاني للإمام برهان الدين (7 / 762):
"قال محمد رحمه الله: وللمستأجر أن يؤاجر البيت المستأجر من غيره، فالأصل عندنا: أن المستأجر يملك الإجارة فيما لايتفاوت الناس في الانتفاع به؛ وهذا لأنّ الإجارة لتمليك المنفعة والمستأجر في حق المنفعة قام مقام الآجر، وكما صحت الإجارة من الآجر تصح من المستأجر أيضاً فإن أجره بأكثر مما استأجره به من جنس ذلك ولم يزد في الدار شيء ولا أجر معه شيئاً آخر من ماله مما يجوز عند الإجارة عليه، لاتطيب له الزيادة عند علمائنا رحمهم الله".

الفتاوى الهندية - (35 / 395):
"وَإِذَا اسْتَأْجَرَ دَارًا وَقَبَضَهَا ثُمَّ آجَرَهَا فَإِنَّهُ يَجُوزُ إنْ آجَرَهَا بِمِثْلِ مَا اسْتَأْجَرَهَا أَوْ أَقَلَّ ، وَإِنْ آجَرَهَا بِأَكْثَرَ مِمَّا اسْتَأْجَرَهَا فَهِيَ جَائِزَةٌ أَيْضًا إلَّا إنَّهُ إنْ كَانَتْ الْأُجْرَةُ الثَّانِيَةُ مِنْ جِنْسِ الْأُجْرَةِ الْأُولَى فَإِنَّ الزِّيَادَةَ لَا تَطِيبُ لَهُ وَيَتَصَدَّقُ بِهَا ، وَإِنْ كَانَتْ مِنْ خِلَافِ جِنْسِهَا طَابَتْ لَهُ الزِّيَادَةُ وَلَوْ زَادَ فِي الدَّارِ زِيَادَةً كَمَا لَوْ وَتَّدَ فِيهَا وَتَدًا أَوْ حَفَرَ فِيهَا بِئْرًا أَوْ طِينًا أَوْ أَصْلَحَ أَبْوَابَهَا أَوْ شَيْئًا مِنْ حَوَائِطِهَا طَابَتْ لَهُ الزِّيَادَةُ ، وَأَمَّا الْكَنْسُ فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ زِيَادَةً وَلَهُ أَنْ يُؤَاجِرَهَا مَنْ شَاءَ إلَّا الْحَدَّادَ وَالْقَصَّارَ وَالطَّحَّانَ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِمَّا يَضُرُّ بِالْبِنَاءِ وَيُوهِنُهُ، هَكَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200703

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے