بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 جُمادى الأولى 1441ھ- 22 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا شوہر کے والدین کے لیے کھانا بنانا بیوی کی ذمہ داری ہے یا نہیں؟


سوال

میری بیوی کو میرے ماں باپ سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ میرے گھر میں ایک بھائی اور میرے ماں باپ ہیں۔ کیا وہ ان کے لیے کھانا بھی نہیں بنا سکتی؟ خاوند کے ماں باپ کی خدمت نہ کرے، لیکن ان کا کھانا تو بنائے۔ اگر بیوی پر خدمت فرض نہیں تو کیا ماں باپ کا کھانا شوہر بنا کر کھلائے؟

جواب

میاں بیوی کا باہمی اور اسی طرح سسرالی رشتہ حسنِ اخلاق، حسنِ معاشرت  اور ہم دردی و ایثار  کے جذبہ سے ہی چل سکتا ہے، شریعتِ مطہرہ نے میاں بیوی کے حقوق میں توازن رکھا ہے  اور حسنِ معاشرت کا حکم دے کر  یہ واضح کیا ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ باہم اخلاقیات اور ایثار اور ہم دردی سے چلتا ہے،  کچھ چیزیں  بیوی کے ذمہ لازم نہیں کیں، اور کچھ شوہرکے ذمہ لازم نہیں کیں، لیکن حسنِ معاشرت کے باب میں دیانۃً اور اخلاقاً یہ چیزیں  دونوں کی ایک  دوسرے پر لازم ہیں۔

لہذا آپ کی بیوی کے ذمہ آپ کے والدین یعنی اپنے ساس اور سسر کی خدمت  اگرچہ شرعاً وقضاءً واجب نہیں ہے، لیکن اَخلاقی طورپر آپ کی بیوی کو اِس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ساس اور سسر  اُس کے شوہر کے ماں  باپ ہیں، لہٰذا جس طرح  وہ اَپنے ماں باپ  کی راحت کا خیال رکھتی ہے اِسی طرح شوہر کے ماں باپ کی خدمت اور اُن کو راحت پہنچانا اُس کی اخلاقی ذمہ داری میں شامل ہے۔

لیکن اس میں یہ پہلو بھی پیشِ نظر ہونا چاہیے کہ آپ کا اپنی بیوی کو اپنے والدین کی خدمت پر مجبور کرنا اور اس پر اس ظلم جبر کرنا درست نہیں ہے،(بلکہ خود آپ  پر اپنے والدین کی خدمت کرنا اور ان کے لیے کھانے کا انتظام کرنا ضروری ہے)  یعنی دونوں طرف اعتدال کی ضرورت ہے، آپ پیار و محبت سےترغیب دیں، زبردستی کی اجازت نہیں، اسی طرح آپ کی بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ اس خدمت سے یہ کہہ کر انکار نہ کرے کہ یہ میرے ذمہ نہیں ہے،کیوں کہ شوہر بھی بیوی کے متعدد ایسے کام کرتا ہے جو اس کے ذمہ واجب نہیں ہوتے، اگر میاں بیوی ایک دوسرے کو یہ کہنا شروع کردیں کہ تمہارا یہ کام میرے ذمہ نہیں تو وہ دونوں خوش گوار زندگی نہیں گزارسکتے ہیں۔

 آپ کے والدین کو بھی  چاہیے کہ وہ اپنی بہو کو بیٹی کی طرح سمجھیں، اور اس کے دکھ درد میں شریک ہوں، اور بہو کو چاہیے کہ وہ ساس و سسر  کو اپنے ماں باپ کی طرح سمجھے اور اس کی خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھے، اس سے گھریلو زندگی میں خوش گوار ماحول پیدا ہوگا، اور میاں بیوی کا ازدواجی رشتہ پائے دار اور مستحکم ہوگا۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ  ’’بہشتی زیور‘‘ میں خواتین کو خطاب کرکے تحریر فرماتے ہیں:

’’جب تک ساس خسر زندہ رہیں ان کی خدمت کو، ان کی تابع داری کو فرض جانو، اور اسی میں اپنی عزت سمجھو، اور ساس نندوں سے الگ ہوکر رہنے کی ہرگز فکر نہ کرو، ساس نندوں سے بگاڑ ہوجانے کی یہی جڑ ہے، خود سوچو کہ ماں باپ نے اسے پالا پوسا اور بڑھاپے میں اس آسرے پر اس کی شادی بیاہ کیا کہ ہم کو آرام ملے اور جب بہو آئی، ڈولے سے اترتے ہی یہ فکر کرنے لگی کہ میاں آج ہی ماں باپ کو چھوڑدیں ۔۔۔ جو کام ساس نندیں کرتی ہیں تو اس کے کرنے سے عار نہ کرو، تم خود بے کہے ان سے لے لو اور کردو، اس سے ان کے دلوں میں تمہاری محبت پیدا ہوجائے گی‘‘۔ (بہشتی زیور، حصہ چہارم، نکاح کا بیان، [باب: 31] (ص:47، 48) ط: تاج کمپنی کراچی)

جامعہ کے رئیس دار الافتاء حضرت مولانا مفتی محمدعبدالسلام چاٹ گامی صاحب دامت برکاتہم العالیہ ایک فتوے میں تحریر فرماتے ہیں:

’’اگر بیوی فارغ ہو تو سسر اور ساس کی جائز خدمت کرنا اس پر لازم ہے، انسانی ہم دردی کے علاوہ اس وجہ سے بھی کہ وہ شوہر کے والدین ہیں، شوہر کے والدین کی خدمت کرنا درحقیقت شوہر کی خدمت کرنا ہے، البتہ جب وہ فارغ نہ ہو یا کوئی ایسی خدمت جو انجام دینا اس کے لیے درست نہیں، وہ بہو کے ذمہ نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم‘‘ (کتبہ: محمد عبدالسلام، 4/2/1412)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200080

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے