بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

کس رنگ کی ٹوپی پہنی جائے؟


سوال

کس رنگ کی ٹوپی پہنی جائے؟

جواب

لباس اور ٹوپی کے سلسلہ میں شریعت نے کسی خاص رنگ کی تحدید یاتعیین نہیں فرمائی اس طورپر کہ وہی رنگ لازم ہو،بلکہ آدمی کو اختیار ہے کہ کسی بھی رنگ کی ٹوپی استعمال کرے۔ البتہ رسول اللہﷺنے سفید رنگ کو  پسند فرماکراس کے پہننے کی  ترغیب دی ہے اور آپﷺسے خود بھی سفید رنگ کی ٹوپی پہنناثابت ہے ۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی معمول عمامہ پہننے کا تھا، اور عمامہ بھی اکثر اوقات آپ ﷺ سفید پہنتے تھے، بعض اوقات سیاہ رنگ کا عمامہ بھی ثابت ہے۔ 

اس لیے لباس اور ٹوپی میں رسول اللہﷺکی پسند کے مطابق سفید کو اختیار کرنا  زیادہ بہتر ہے۔ دیگر رنگوں میں سرخ اور زرد رنگ اور ریشم سے مردوں کو منع کیاگیاہے، نیزشوخ رنگ اور وہ رنگ جو اہلِ باطل یا کسی گم راہ فرقے کا شعار(علامت)بن جائے ان رنگوں کے استعمال سے احتراز کرناچاہیے ۔

سنن نسائی  شریف میں ہے:

"عن سمرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عليكم بالبياض من الثياب، فليلبسها أحياؤكم، وكفنوا فيها موتاكم؛ فإنها من خير ثيابكم". (8/205بیروت)

شعب الایمان میں ہے:

"عن ابن عمررضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يلبس قلنسوة بيضاء". (8/293)

اخلاق النبی للاصبھانی میں ہے:

"عن ابن عباس، قال : كان لرسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث قلانس: قلنسوة بيضاء مضربة، وقلنسوة برد حبرة، وقلنسوة ذات آذان، يلبسها في السفر، وربما وضعها بين يديه إذا صلى". (1/125قاہرہ )

ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺکے پاس تین ٹوپیاں تھیں : (1)سفید (یمنی) ٹوپی ۔ (2)منقش دھاری دار یا بوٹی دار سبز ٹوپی ۔(3)باڑ دار اونچی ٹوپی ، جسے آپ ﷺ سفر میں پہنا کرتے تھے اور بسا اوقات اسے سترہ بھی بنالیتے تھے۔

فتاوی شامی میں ہے:

''( ولا بأس بلبس القلانس ) غير حرير وكرباس عليه إبريسم فوق أربع أصابع.  سراجية. وصح أنه حرم لبسها ( وندب لبس السواد وإرسال ذنب العمامة بين كتفيه إلى وسط الظهر ) وقيل: لموضع الجلوس، وقيل: شبر. ( ويكره ) أي للرجال كما مر في باب الكراهية ( لبس المعصفر والمزعفر ) لقول ابن عمر رضي الله عنهما: ونهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبس المعصفر، وقال: إياكم والأحمر فإنه زي الشيطان".(6/755) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200747

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے