بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1441ھ- 27 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

کسی پر کفر کا فتویٰ لگانا


سوال

کسی پر بے جا کفر کا فتویٰ لگانا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے کسی مسلمان کو کافر کہا تو وہ کفر, ان دونوں میں سے ایک کی طرف لوٹے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی کو کافر کہا، تو اگر کہنے والے کی بات واقعتاً سچ ہو تو دوسرا کافر ہے، اور اگر کہنے والے نے جھوٹ کہا یعنی سامنے والا کافر نہیں تھا تو مؤمن کو کافر کہنے والے کا کفر کہنے والے کی طرف لوٹے گا۔ ترمذی شریف میں  ہے:

"عن ابن عمر: عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أيما رجل قال لأخيه: كافر فقد باء به أحدهما". (ج: 5، ص: 22، باب فی من رمی اخاہ بکفر، ط: دار احیاء التراث العربی)

شرح النووی علی مسلم میں ہے:

"عن ابن عمر، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كفر الرجل أخاه فقد باء بها أحدهما».

قوله صلى الله عليه وسلم: (إذا كفر الرجل أخاه فقد باء بها أحدهما، وفي الرواية الأخرى: أيما رجل قال لأخيه: كافر، فقد باء بها أحدهما إن كان كما قال، وإلا رجعت عليه، وفي الرواية الأخرى: ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلمه إلا كفر ... ومن دعا رجلاً بالكفر أو قال: عدو الله وليس كذلك إلا حار عليه)". (ج: 2، ص: 49، باب بیان حال ایمان من قال لأخیہ یا کافر، ط: دار احیاء التراث العربی)

جواہر الفقہ میں ہے:

’’کسی مسلمان کو کافر یا کافر کو مسلمان دونوں جانب سے نہایت ہی سخت معاملہ ہے۔ قرآن کریم نے دونوں صورتوں پر شدید نکیر فرمائی ہے، مسلمان کو کافر کہنے کے متعلق ارشاد ہے:

{يا أيها الذين آمنوا إذا ضربتم في سبيل الله فتبينوا ولا تقولوا لمن ألقى إليكم السلٰم لست مؤمناً تبتغون عرض  الحياة الدنيا فعند الله مغانم كثيرة كذلك كنتم من قبل فمن الله عليكم فتبينوا إن الله كان بما تعملون خيبراً}

الغرض اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنا اسلام ظاہر کرے تو جب تک اس کے کفر کی پوری تحقیق نہ ہوجائے اس کو کافر کہنا ناجائز اور وبال عظیم ہے‘‘۔ (ج:1، ص: 20، ط: دارالعلوم کراچی) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200336

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے