بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 شعبان 1441ھ- 31 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

کرنٹ پلس اکاؤنٹ میں رقم رکھواکر سہولیات حاصل کرنا


سوال

 بینک آف خیبر میں کمال پلس کرنٹ اکاؤنٹ کے نام سے ایک اکاؤنٹ ہے۔ بنک والوں کا کہنا ہے کہ اگر اس اکاؤنٹ میں پچیس ہزار روپے موجود ہوں تو آپ سے کسی قسم کی سروس چارجز کی وصولی نہیں ہوگی، اس اکاؤنٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

اگر بینک کی جانب سے سہولیات کے حصول کے لیے ایک مقررہ رقم اکاؤنٹ میں رکھوانے کی شرط رکھی گئی ہے اور اسی شرط کی بنیاد پر رقم رکھوانے کی صورت میں بینک اپنے اکاؤنٹ ہولڈر کومفت  سروس کی سہولیات دیتی ہے ، تو ان سہولیات سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ اکاؤنٹ میں رکھی گئی رقم کی حیثیت قرض کی ہے اور قرض کی بنیاد پر نفع اٹھانا شرعاً حرام ہے۔فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144106201345

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے