بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

وراثت کی تقسیم


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ غلام سرور یعنی بندہ کی وفات کے بعد میری اولاد میں میراث کیسے تقسیم ہوگی، جب کہ بندہ کی ایک زوجہ، سات بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، اور بندہ کی ملکیت میں 27 مرلہ زمین ہے. میراث کی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

اگر کسی کی  وفات کے وقت یہی ورثاء موجود ہوں جو آپ نے لکھے ہیں تو  کل جائیداد  کے 144 حصے کرکےزوجہ کو 18 حصے اور ہر بیٹے کو 14 حصے اور ہر بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908200903

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے