بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو القعدة 1441ھ- 14 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

والدین، اولاد اور بیوہ میں وراثت کی تقسیم


سوال

کیا بیٹے کی وفات کے بعد ماں باپ وراثت کے حق دار ہوں گے؟بیٹے نےترکہ میں تقریباً بیس کروڑ کی جائیداد اور کاروبار وغیرہ چھوڑا ہو تو ماں باپ کے حصے میں کیا آئے گا؟مرحوم نے بیوہ اور چار بیٹے، تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

جواب

جی ہاں! مرحوم بیٹے کے ترکہ میں والدین بھی وارث ہوں گے، اور مرحوم بیٹے کے کل ترکہ کو 264حصوں میں تقسیم کیاجائے گا،جس میں سے 44حصے  مرحوم کے والد کو ، 44حصے مرحوم کی والدہ کو ،33حصے مرحوم کی بیوہ کو ،اور 26،26 حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 13،13حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو  دیے جائیں گے۔

یعنی سو روپے میں سے 16.66روپے والدکو ،16.66روپے والدہ کو، 12.05روپے مرحوم کی بیوہ کو ،9.85روپے ہر ایک بیٹے کو اور 4.92روپے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو  دیے جائیں گے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200414

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں