بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نماز کی ایک رکعت میں ایک سے زائد سورتیں پڑھنا


سوال

 کیاسنت و نفل نمازوں میں اور فرض نماز اگر تنہا پڑھ رہے ہوں تو ایک ساتھ دو تین سورتیں ایک رکعت میں پڑھ سکتے ہیں؟ مثال کے طور پر مجھے بڑی سورتیں یاد نہیں، اگر فجر میں منفرد پڑھ رہا ہو  تب کیا فرض نماز میں ایک ساتھ تین سورتیں پہلی رکعت میں اور تین سورتیں  دوسری رکعت میں پڑھ سکتا ہوں کیا؟

جواب

فرض نماز میں ایک رکعت میں ایک سے زائد سورتیں پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے، نماز ہوجاتی ہے، سجدہ سہو لازم نہیں آتا،  البتہ سنن و نوافل میں ایک سے زائد سورتیں پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و يكره تكرار السورة في ركعة واحدة في الفرائض ، ولا بأس بذلك في التطوع". ( كتاب الصلاة، الباب السابع فيما يفسد الصلاة و ما يكره فيها، (١/ ١٠٧، ط: رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: و يكره الفصل بسورة قصيرة... و في التتارخانية: إذا جمع بين سورتين في ركعة رأيت في موضع أنه لا بأس به. و ذكر شيخ الإسلام: لاينبغي له أن يفعل علی ما هو ظاهر الرواية. و في شرح المنية: الأولی أن لايفعل في الفرض، ولو فعل لايكره إلا أن يترك بينهما سورةً أو أكثر". (قبل باب الإمامة، ١/ ٥٤٦، ط: سعيد) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004201049

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے