بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نماز میں آنکھیں بند کرنا


سوال

نماز کے اندر آنکھ بند کرنا کیسا ہے؟  اگر بند نہ کرے تو توجہ ہٹ جاتی ہے، اگر بند کرلے تو توجہ پھر صحیح ہوتی ہے؟

جواب

آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے،البتہ اگر آنکھیں بند کرلینے سے خشوع اور عاجزی زیادہ ہوتی ہے تو مکروہ نہیں، تاہم آنکھیں کھلی رکھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے؛ کیوں کہ (حالتِ قیام میں) سجدہ کی جگہ کو دیکھنا مسنون ہے اور آنکھیں بند کرنے سے یہ سنت ترک ہوجاتی ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (2 / 343):
"ويكره أن يغمض عينيه في الصلاة ؛ لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن تغميض العين في الصلاة ؛ ولأن السنة أن يرمي ببصره إلى موضع سجوده وفي التغميض ترك هذه السنة ؛ ولأن كل عضو وطرف ذو حظ من هذه العبادة فكذا العين".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200151

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے