بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1441ھ- 02 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

میت کے مصنوعی دانت نکالنے کا حکم


سوال

میت کے منہ سے مصنوعی دانت نکالنے چاہییں یا نہیں?

جواب

اگر میت کے منہ سے مصنوعی دانتوں کا نکالنا مشکل ہو  اور زیادہ محنت کرنے میں میت کی بے حرمتی ہو تو منہ کے اندر ہی چھوڑ دیے جائیں، غسل اور دفن میں کوئی حرج نہیں ہوگا،  کیوں کہ مال کی حرمت سے میت کی حرمت وعزت زیادہ ہے۔ اور اگر مصنوعی دانت فکس ہیں تو  ان کے نکالنے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے ورنہ میت کی بے حرمتی ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 238):
"ولو بلع مال غيره ومات هل يشق؟ قولان، والأولى نعم، فتح. 

(قوله: ولو بلع مال غيره) أي ولا مال له كما في الفتح وشرح المنية، ومفهومه أنه لو ترك ما لايضمن ما بلعه لايشق اتفاقًا (قوله: والأولى نعم) لأنه وإن كان حرمة الآدمي أعلى من صيانة المال لكنه أزال احترامه بتعديه كما في الفتح، ومفاده أنه لو سقط في جوفه بلا تعد لايشق اتفاقًا". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200457

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں