بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1442ھ- 04 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

موسمِ سرما کی دو دن چھٹیوں کی وجہ سے مکمل چھٹیوں کی کٹوتی


سوال

ایک اسکول اپنے اساتذہ کو موسم سرما کی تعطیلات از خود دے رہا ہے، مگر ان تعطیلات کی تنخواہ اس شرط پر دے گا کہ پڑھائی شروع ہونے سے دو دن پہلے اساتذہ حاضر ہوں، اگر کوئی استاد ان دو دنوں میں سے کسی بھی ایک دن غیر حاضر ہوگا تو اس کی مکمل تعطیلات کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی، کیا یہ کٹوتی جائز ہے،  جب کہ اسکول نے خود چھٹی دی ہو؟

جواب

اگر اسکول انتظامیہ اساتذہ کو اس بات کا پابند کرتی ہے کہ وہ موسم سرما کی چھٹیاں ختم ہونے سے دو دن پہلے اسکول میں حاضری دیں تو اساتذہ کے ذمہ لازم ہوگا کہ وہ چھٹیاں ختم ہونے سے دو دن پہلے اسکول میں حاضری دیں، اگر وہ ان دو دنوں میں حاضر نہ ہوسکیں تو صرف دو دنوں کی تنخواہ کاٹی جاسکتی ہے، بشرطیکہ چھٹیوں  کی کٹوتی کے لیے کوئی  دوسرا معاہدہ  نہ کیا گیا ہو، لیکن یہ جائز نہیں کہ دو دن چھٹی کرنے کی وجہ سے پوری چھٹیوں کی تنخواہ کاٹی جائے۔

غمز عيون البصائر (2 / 135):

"ومنها البطالة في المدارس، كأيام الأعياد ويوم عاشوراء، وشهر رمضان في درس الفقه لم أرها صريحةً في كلامهم.

والمسألة على وجهين: فإن كانت مشروطةً لم يسقط من المعلوم شيء، وإلا فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي، وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب له من بيت المال في يوم بطالته، فقال في المحيط: إنه يأخذ في يوم البطالة؛ لأنه يستريح لليوم الثاني، وقيل: لايأخذ. انتهى

وفي المنية: القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح، واختاره في منظومة ابن وهبان، وقال: إنه الأظهر، فينبغي أن يكون كذلك في المدارس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة يكون للمطالعة والتحرير عند ذي الهمة، ولكن تعارف الفقهاء في زماننا بطالة طويلة أدت إلى أن صار الغالب البطالة، وأيام التدريس قليلة، وبعض المدرسين يتقدم في أخذ المعلوم على غيره محتجًّا بأن المدرس من الشعائر مستدلًّا بما في الحاوي القدسي مع أن ما في الحاوي القدسي إنما هو في المدرس للمدرسة لا في كل مدرس، فخرج مدرس المسجد، كما هو في مصر.

والفرق بينهما أن المدرسة تتعطل إذا غاب المدرس بحيث تتعطل أصلًا بخلاف المسجد؛ فإنه لايتعطل؛ لغيبة المدرس". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200735

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں