بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

ملتانی مٹی کھانے کاحکم


سوال

ملتانی مٹی کھانا کیسا ہے؟ خواتین اکثر اس کو کھاتی ہیں،  کیا یہ جائز ہے یا نا جائز؟

جواب

مٹی بذات خود کوئی حرام چیز نہیں ہے، لیکن اس کا کھانا انسانی صحت کے لیے عموماً نقصان دہ ہوتا ہے، اس لیے فقہاءِ کرام نے مٹی کے کھانے کو مکروہ قرار دیا ہے، لہذا اگر خواتین ملتانی مٹی کھاتی ہوں تو اتنی مقدار  کھانے کی اجازت ہوگی جو صحت کے لیے نقصان دہ نہ ہو  ۔

 فتاویٰ عالمگیریمیں ہے:

"أکل الطین مکروه ذکر في فتاویٰ أبي اللیث، ذکر شمس الأئمة الحلوائي في شرح صومه: إذا کان یخاف علی نفسه أنه لو أَکَلَه أَوْرَثَه ذلك علة أو آفة لایباح له التناول، وکذلك هذا في کل شيءٍ سوی الطین، وإن کان یتناول منه قلیلاً أو کان یفعل ذلك أحیاناً لا بأ س به، کذا في المحیط. الطین الذي یحمل من مکة ویسمیٰ طین أحمر، هل الکراهیة فیه کالکراهة في أکل الطین علی ما جاء في الحدیث، قال: الکراهیة في الجمیع متحدة،کذا في جواهر الفتاویٰ. وسئل عن بعض الفقهاء عن أکل طین البخاری ونحوه، قال: لا بأس بذلك مالم یضر، و کراهیة أکله لا للحرمة، بل لتهیج الداء". (الفتاویٰ الهندية، ص ۲۲۷ج۶، کتاب الکراهیة، الباب الحادي عشر في الکراهیة في الأکل وما یتصل بها) فقط واﷲ أعلم


فتوی نمبر : 144102200172

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے