بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شعبان 1441ھ- 03 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

قبرستان میں گھر بنانے کا حکم


سوال

قبرستان کے اوپر رہن سہن کے لیے گھر بنانے کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر قبرستان موقوفہ ہو کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو تو اس کی زمین پر کسی کے لیے ملکیتی تصرف کرنا شرعاً جائز نہیں،  بلکہ جس مقصد کے لیے وقف ہے اسی میں استعمال کرنا لازم ہے۔ اور اگر قبروں کے نشانات مٹ چکے ہوں اور اس میں مدفون اَموات مٹی بن چکی ہوں تو اس میں جدید اَموات کی تدفین کی جائے اور اگر تدفین کی حاجت نہیں رہی تو اس زمین کو کسی ایسے مصرف میں استعمال کیا جائے جو وقف ہی ہو ،مثلاً: مدرسہ،مسجد،عیدگاہ یا جنازہ گاہ وغیرہ بناکر وقف کردیا جائے، ذاتی ملکیت میں لینا کسی صورت جائز نہیں۔ نیز اگر قبرستان کے وقف ہونے کا کوئی واضح ثبوت نہ ہو تو عام اَموات کا اس میں بلا روک ٹوک دفن ہوتے رہنا ہی اس کے وقف ہونے کا قرینہ قرار دیا جائے گا۔

اور اگر قبرستان کی زمین کسی کی ذاتی ملکیت ہو اور اس کی اجازت کے بغیر اس میں میت دفن کی گئی ہو تو مالکِ زمین اس میت کو وہاں سے نکال سکتا ہے۔  اور اگر اس کی اجازت سے میت دفن کی گئی ہو، لیکن قبر کے نشانات مٹ چکے ہوں اور اس میں دفن میت مٹی بن چکی ہو تو اس پر گھر بنانا یا کھیتی باڑی کرنا جائز ہے۔

الفتاوى الهندية - (19 / 291):
"وَسُئِلَ هُوَ أَيْضًا عَنْ الْمَقْبَرَةِ فِي الْقُرَى إذَا انْدَرَسَتْ وَلَمْ يَبْقَ فِيهَا أَثَرَ الْمَوْتَى لَا الْعَظْمُ وَلَا غَيْرُهُ هَلْ يَجُوزُ زَرْعُهَا وَاسْتِغْلَالُهَا؟ قَالَ : لَا، وَلَهَا حُكْمُ الْمَقْبَرَةِ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ".

حاشية رد المحتار على الدر المختار - (2 / 233):
" وقال الزيلعي: ولو بلي الميت وصار تراباً جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ  قال في الإمداد ويخالفه ما في التاترخانية: إذا صار الميت تراباً في القبر يكره دفن غيره في قبره؛ لأن الحرمة باقية، وإن جمعوا عظامه في ناحية، ثم دفن غيره فيه تبركاً بالجيران الصالحين ويوجد موضع فارغ يكره ذلك اهـ قلت: لكن في هذا مشقة عظيمة، فالأولى إناطة الجواز بالبلاء إذا لايمكن أن يعد لكل ميت قبر لايدفن فيه غيره وإن صار الأول تراباً، لا سيما في الأمصار الكبيرة الجامعة، وإلا لزم أن تعم القبول السهل والوعر على أن المنع من الحفر إلى أن لايبقى عظم عسر جداً وإن أمكن ذلك لبعض الناس لكن الكلام في جعله حكماً عاماً لكل أحد، فتأمل".

عمدة القاري شرح صحيح البخاري - (6 / 473):
"فإن قلت: هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجداً لم أر بذلك بأساً، وذلك؛ لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لايجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد؛ لأن المسجد أيضاً وقف من أوقاف المسلمين لايجوز تملكه لأحد".

کفایت المفتی میں ہے:

’’مسجد کی طرح قبرستان میں بھی عام اموات کا بلاروک ٹوک دفن ہونا اس کے وقف ہونے کے لیے کافی ہے‘‘۔ (7/ 212, کتاب الوقف ،چھٹا باب،ط:دارالاشاعت کراچی)

امدادالفتاوی میں ہے:

’’الجواب: عام قبرستان وقف ہوتا ہے اور سوا اللہ جل شانہ کے کوئی اس کا مالک نہیں ہوتا اور جب وقف ہوا تو متولی بحیثیت قبضہ اس کا مالک نہیں بن سکتا اور اس میں کوئی تصرف مالکانہ بیع و شراء وغیرہ نہیں کرسکتا۔۔۔‘‘الخ (2/ 570, کتاب الوقف،ط:دارالعلوم کراچی)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200314

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے