بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 28 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

نماز میں فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی کی تلاوت/ قبرستان میں ایصالِ ثواب میں تمام قبروں کی نیت کرنا


سوال

1. کیا نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت  کے بجائے بطورِ  تلاوت آیۃ الکرسی پڑھ سکتے ہیں؟

2. قبرستان میں ایصالِ ثواب کے لیے دیگر دعا و اذکار کی طرح عموماً  قبر کے سرہانے سورہ بقرہ کا پہلا  رکوع اور پائنتی کو آخری رکوع تلاوت کیا جاتاہے. کیا ایسا ایک ساتھ  بہت سی قبروں کے لیے کرنا جائز ہے یا ہر قبر کے لیے الگ الگ تلاوت لازمی ہے؟

جواب

1. آیۃ الکرسی ایک بڑی آیت ہے  سورت فاتحہ کے بعد سورت کی جگہ اسے تلاوت کرنا درست ہے۔

2۔ قبرستان میں عام طور پر  ایصالِ ثؤاب میں سورۂ فاتحہ، سورۂ زلزال،  سورۂ تکاثراور سورۂ اخلاص  پڑھنے کو مستحب لکھا ہے،  تاہم کوئی بھی سورت یا آیت پڑھنے میں حرج نہیں ، حسبِ توفیق  جو تلاوت و اذکار چاہے  ایصالِ ثواب کرسکتے ہیں ۔

البتہ قبر کے سرہانے سورۃ بقرہ کا پہلا اور پائنتی آخری رکوع پڑھنے کو جو مستحب بتایا جاتا ہے اس کا تعلق صرف تدفین کے وقت سے ہے، اور حدیث شریف میں تدفین کے وقت مطلقاً میت کے سرہانے  کے  پاس کھڑے ہوکر پڑھنے کا حکم ہے جس کا تعلق ہر ایک دفن ہونے والی میت کے سرہانے الگ الگ پڑھنے  سے ہے۔ 

عام حالات میں یہی رکوع اگر ایصال ثواب کے لیے پڑھنا ہو تو سرہانے اور پائنتی  کھڑے  ہونے کے بجائے کسی بھی جگہ کھڑے ہوکر پڑھ لیں، ایصالِ ثواب میں تمام قبرستا ن والوں کی عمومی نیت کرنا زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔

"عن عبد اللّٰه بن عمر رضي اللّٰه عنه قال: سمعت النبي صلی اللّٰه علیه وسلم یقول: إذا مات أحدکم فلاتحبسوه واسرعوا به إلی قبره ولیقرأ عند رأسه فاتحة البقرة وعند رجله بخاتمة البقرة". (شعب الإیمان ۷؍۱۶ رقم: ۹۲۹۳، مشکاة المصابیح ۱۴۹)

فتاویٰ عالگیری میں ہے :

"(الباب السادس عشر في زيارة القبور وقراءة القرآن في المقابر) لا بأس بزيارة القبور وهو قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وظاهر قول محمد - رحمه الله تعالى - يقتضي الجواز للنساء أيضا؛ لأنه لم يخص الرجال، وفي الأشربة: واختلف المشايخ رحمهم الله تعالى في زيارة القبور للنساء قال شمس الأئمة السرخسي - رحمه الله تعالى -: الأصح أنه لا بأس بها، وفي التهذيب: يستحب زيارة القبور، وكيفية الزيارة كزيارة ذلك الميت في حياته من القرب والبعد، كذا في خزانة الفتاوى.

وإذا أراد زيارة القبور يستحب له أن يصلي في بيته ركعتين يقرأ في كل ركعة الفاتحة وآية الكرسي مرةً واحدةًُ والإخلاص ثلاث مرات ويجعل ثوابها للميت يبعث الله تعالى إلى الميت في قبره نورًا ويكتب للمصلي ثوابًا كثيرًا، ثم لايشتغل بما لايعنيه في الطريق، فإذا بلغ المقبرة يخلع نعليه، ثم يقف مستدبر القبلة مستقبلاً لوجه الميت ويقول: السلام عليكم يا أهل القبور ويغفر الله لنا ولكم أنتم لنا سلف ونحن بالأثر، كذا في الغرائب. وإذا أراد الدعاء يقوم مستقبل القبلة، كذا في خزانة الفتاوى. وإن كان شهيدًا يقول: {سلام عليكم بما صبرتم فنعم عقبى الدار}. وإذا كان قبور المسلمين مختلطةً بقبور الكفار يقول: {السلام على من اتبع الهدى}، ثم يقرأ سورة الفاتحة وآية الكرسي ثم يقرأ سورة {إذا زلزلت} [الزلزلة: 1] وألهاكم التكاثر، كذا في الغرائب.

وحكي عن الشيخ الإمام الجليل أبي بكر محمد بن الفضل - رحمه الله تعالى -: أن قراءة القرآن في المقابر إذا أخفى ولم يجهر لاتكره ولا بأس بها، إنما يكره قراءة القرآن في المقبرة جهرًا، أما المخافتة فلا بأس بها وإن ختم، وكان الصدر أبو إسحاق الحافظ يحكي عن أستاذه أبي بكر محمد بن إبراهيم - رحمه الله تعالى - لا بأس أن يقرأ على المقابر سورة الملك سواء أخفى أو جهر، وأما غيرها فإنه لا يقرأ في المقابر ولم يفرق بين الجهر والخفية، كذا في الذخيرة في فصل قراءة القرآن.

وإن قرأ القرآن عند القبور إن نوى بذلك أن يؤنسه صوت القرآن فإنه يقرأ وإن لم يقصد ذلك فالله تعالى يسمع قراءة القرآن حيث كانت، كذا في فتاوى قاضي خان". (فتاویٰ عالمگیری)فقط واللہ تعالیٰ اعلم


فتوی نمبر : 144106200602

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے