بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

غیر قانونی ادویات فروخت کرنا


سوال

(1) بھینسو ں اور دیگر جا نوروں کے دو دھ کے ٹیکے فروخت کر نا کیسا ہے؟ جب کہ حکو مت کی طر ف سے ان ٹیکوں کی فر وخت پر پا بند ی ہے ۔

(2) میڈیکل سٹو ر  والوں کے لیے مریضو ں کوٹیکا  لگا نا یا معمو لی دو ائی وغیر ہ لگا نا کیسا ہے، جب کہ حکو مت کی طر ف سے آر ڈر یہ ہے کہ مستند ڈا کٹر کے علا وہ کوئی میڈیکل سٹو ر وا لا کسی مر یض کو  ٹیکا وغیرہ نہیں لگاسکتا ؟

(3)سیکس کی ادویا ت فر وخت کر نے پر حکو مت کی طر ف سے پا بند ی ہے، لیکن ہما رے  بعض بڑ ی عمر وا لے دو ست جن کو ان ادویا ت کی شدید ضرو رت ہوتی ہے اگر دو ا ئی نہ دی جا ئے تو گھروں کے اجڑنے کا خطرہ ہے، ایسے احبا ب کو حکومتی پا بند ی کے با وجو د یہ ادویا ت فر وخت کرنا کیسا ہے؟

(4) اس طر ح کی حکو متی پا بند یو ں کی پا س دا ری کس حد تک ضروری ہے؟ اگر کو ئی پا بند نہ کر ے اور چھپکے سے یہ ادویا ت وغیر ہ فر و خت کر دے تو اس کے با رے میں شریعتِ مطہر ہ کا کیا حکم ہے؟

(5) مذکو رہ اشیا ء کی فر وخت میں حکو متی پکڑ دھکڑ اور جرما نے نیز دو کا ن کے سیِل ہو نے سے بچنے کے لیے متعلقہ حکا م کو ما ہا نہ یا سا لا نہ کچھ رقم دینا کیسا ہے؟  اگر ہم یہ رقم نہ دیں تو حکو متی ممنو عہ اشیا ء کو بالکل نہیں بیچ سکتے  اور دکا ن کی بکری بھی بند ہو جائے گی!

جواب

حکومت کے ایسے قوانین جو   ملک کے جائز انتظامی قوانین کا حصہ ہیں جو عوام کی فلاح وبہبود پر مبنی ہیں، اور امور مباحہ میں سے ہے تو  ایسے قوانین میں رعایا کو شریعت نے تاکید کے ساتھ پابندی کا حکم دیاہے، اس لیے کہ  کسی بھی ریاست میں رہنے والا شخص اس ریاست میں رائج قوانین پر عمل درآمد کا (خاموش)  معاہدہ کرتاہے، اور جائز امور میں معاہدہ کرنے کے بعد اسے پورا کرنا چاہیے؛  اس طرح کے جائز امور  سے متعلق قانون کی خلاف ورزی گویا معاہدہ کی خلاف ورزی ہے، اور معاہدے کی خلاف ورزی سے شریعت نے منع کیا ہے۔ نیز قانون شکنی کی صورت میں  مال اور عزت کا خطرہ رہتا ہے، اور پکڑے جانے کی صورت میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ سزا ملنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے،  اور اپنے آپ کو ذلت  کے مواقع سے بچانا شرعاً ضروری ہے۔

1،2،3۔۔لہذا ایسی تمام ادویات غیر قانونی طریقہ سے بیچنے سے اجتناب لازم ہے، نیز میڈیکل والے کا خود ڈاکٹر بن کر دوا تجویز کرنا نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے، اس میں اگر کسی شخص کا کوئی نقصان ہوگیا تو اس کا ذمہ دار بھی وہی ہوگا، باقی مذکورہ ادویات میں جو واقعی ایسی ہوں جن کی ضرورت ہو تو اس کے لیے وہ دوائیں فروخت کی جاسکتی ہیں جو ادویات کے قانونی معیار پر پورا اترتی ہوں ۔ جن کے گھر اجڑنے کا خطرہ ہو، انہیں چاہیے کہ مستند معالج کے مشورے سے دوا لیں، اس صورت میں قانونی تقاضے بھی پورے ہوجائیں گے۔

4۔۔ قانون شکنی اور عہد شکنی ہے، لیکن اگر مضر صحت نہ ہو اور اس میں کوئی حرام اجزاء شامل نہ ہو تو اس کی آمدنی حرام نہیں ہوگی۔

5۔۔  اس کام کے لیے  دی جانے والی رقم رشوت ہے اور رشوت لینا ،دینا حرام ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200625

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں