بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عمیرہ رضی اللہ عنہا کا مختصر تعارف


سوال

کیا عمیرہ نام کسی صحابیہ کا ہے؟ اگر ہے تو تھوڑا سا تعارف؟

جواب

جی ہاں! "عمیرہ"  صحابیہ کا نام ہے، ان کا پورا نام "عمیرہ بنتِ سہل بن رافع" ہے،  ان کے والد سہل رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں جنہوں نے غزوۃٔ تبوک کے موقع  پر دو صاع کھجور رات بھر محنت کر کے حاصل کی تھی،اور اپنی اس بیٹی کو ساتھ لیا تھا،اور ایک صاع کھجور لے کر حاضرِ خدمت ہوئے تھے،اور یہ صاع بھر کھجور تعمیلِ ارشاد میں پیش کی تھی،اور منافقوں نے اس ہمہ تن ایثار کا مذاق اڑایا تھا، قرآن مجید میں ان منافقین کی مذمت اور ان کے صدقہ کی تحسین کی گئی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیٹی کے لیے دعاکی درخواست کی،کیوں کہ ان کی اور کوئی اولاد نہ تھی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیرہ رضی اللہ عنہا  کے سر پر ہاتھ پھیرا تو عمیرہ نے یوں محسوس کیا گویا آپ کے ہاتھوں کی ٹھنڈک ان کے کلیجے تک پہنچ گئی ہے۔

جامع المسانيد والسنن (4/ 107):
"قال أبو نعيم: حدثنا أبو محمد الحسن بن أحمد بن كيسان، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا عمرو بن زرارة الحدثى (4) ، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا سعيد بن عثمان البلوى، عن جدته ابنة عدى: أن أمها عميرة بنت سهل صاحب الصاعين الذى لمزه المنافقين: أنه خرج بزكاته صاع من تمر وبابنته عميرة، حتى أتى النبي صلى الله عليه وسلم فصبه، ثم قال: يا رسول الله إن لى إليك حاجةً، قال: «وما هي؟» قال: تدع الله لي ولها بالبركة، وتمسح رأسها، فإنه ليس لي ولد غيرها. قال: فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده.
فأقسم بالله لكان برد يد رسول الله صلى الله عليه وسلم على كبدي". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200835

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے