بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1441ھ- 10 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عدت کے دوران رجوع کا طریقہ  اور شرائط


سوال

عدت کے دوران رجوع کا طریقہ  اور شرائط کیا ہیں؟

جواب

 رجوع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو زبان سے یہ کہہ دے کہ میں تم سے رجوع کرتا ہوں اور اس پر دوگواہ بھی قائم کردے، اگرشوہر  حقوق زوجیت  ادا کردے اور منہ سے  رجوع کا نہ کہے تو رجوع ہوجائے گا، مگر ایسا کرنا مکروہ ہے۔البتہ رجوع صرف طلاق رجعی کی عدت  میں ہوتا ہے اورصرف ایک یا دو طلاق رجعی  کے بعد ممکن ہے ۔

’’وهي في حرة تحیض لطلاق، أو فسخ بعد الدخول حقیقة، أو حکماً ثلاث حیض کوامل‘‘. (شامي، باب العدة، کراچي۳/۵۰۴-۵۰۶، زکریا۵/۱۸۱)
قال الله تعالیٰ:الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌ بِاِحْسَانٍ۔ [ البقرة:۲۲۹]

’’عنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ أَنَّه سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَه ثُمَّ یَقَعُ بِها وَلَمْ یُشْهدْ عَلٰی طَلاََقِها وَلَاَ عَلٰی رَجْعَتِها؟ فَقَالَ: طَلَّقْتَ لِغَیْرِ سُنَّة وَرَاجَعْتَ لِغَیْرِ سُنَّة اِشْهدْ عَلٰی طَلاََقِها وَعَلٰی رَجْعَتِها‘‘. (ابوداؤد)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو (ایک) طلاق دے پھر اس سے (رجوع کے طور پر) صحبت کرلے اور نہ تو اس نے عورت کو طلاق دینے پر گواہ بنایا اور نہ اس سے رجوع کرنے پر گواہ بنایا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے طلاق بھی غیر مسنون (یعنی غیر مستحب) طریقے پر دی اور رجوع بھی غیر مستحب طریقے پر کیا۔ (مستحب طریقہ یہ ہے کہ) عورت کو طلاق دینے پر اور اس سے رجوع کرنے پر گواہ بنا لیا کرو۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200437

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے