بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شپنگ کمپنی سے کنٹینر کلئیر کرانے کی گارنٹی لے کر امپوٹر سے اجرت لینا


سوال

 میں گارنٹی کا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں, جو کسٹم امپورٹ سے منسلک ہے, جس میں امپورٹر ملک سے باہر کنٹینر کے ذریعے مال منگواتے ہیں، جب وہ مال پاکستان آتا ہے تو شپنگ کمپنی کنٹینر لے جانے کے بدلے ضمانت کے طور پر امپورٹر سے پےآرڈر (Pay Order) کی صورت میں روپےلیتی ہے،  جوہر شپنگ کمپنی کے مختلف ہیں.مثلاً کچھ کے 300,000 کچھ کے 500,000 اور کچھ کے 800,000 روپے ہیں، امپورٹر کے پاس روپے نہ ہونے کی وجہ سے وہ روپے ہم شپنگ کمپنی میں ضمانت کے طور پر پے آرڈر(Pay Order) بنا کر جمع کراتے ہیں، جو کنٹینر خالی ہوکر واپس آنے تک شپنگ کمپنی کے پاس جمع رہتے ہیں، کنٹینر 20 سے 25 دن میں خالی ہوکر واپس آتا ہے اور کبھی کبھی کنٹینر 20 سے 25 دن کے بجائے 35 سے 40 دن میں واپس آتا ہے تو ہم وہ خالی کنٹینر شپنگ کمپنی کو واپس کر کے اپنے روپے واپس لے لیتے ہیں. اور امپورٹر کو ہر 100,000 روپے کے بدلے 4,000 روپے کمیشن چارج کرتےہیں. مثال کے طور پر اگر ہم 300,000 روپے جمع کراتے ہے تو 12,000 اور اگر 500,000 روپے جمع کراتے تو 20,000 روپے کمیشن چارج کرتے ہیں جو امپورٹر ہمیں کنٹینر خالی ہونے کے بعد ادا کرتا ہے. ضروری بات اس میں ہمیں کوئی نقصان نہیں ہوتا, خدانخواستہ اگر کنٹینر کو کوئی نقصان یا خرابی ہوتی ہے تو وہ نقصان امپورٹر ہی برداشت کرتا ہے. ہمیں نقصان صرف اُس صورت ہوسکتا ہے جب امپورٹر بھاگ جائے یا پھر نقصان بھرنے سے انکار کرلے تو اُس صورت کنٹینر کا نقصان شپنگ کمپنی ضمانت کے طور پر ہمارے جمع کیے گئے روپوں سے کاٹ لے گی. برائے مہربانی میری اصلاح کیجیے کہ یہ کاروبار جائز ہے یا نہیں؟

جواب

کفالت،ضمانت/گارنٹی ایک عقدِ تبرع ہے، اس پر اجرت لینا جائز نہیں ہے،  لہذا  صورتِ مسئولہ میں امپورٹر کے کنٹینر لے جانے پر ،  شپنگ کمپنی والوں کو اس کی گارنٹی دینا تو جائز ہے،  لیکن محض اس گارنٹی پر امپورٹر سے  اجرت لینا جائز نہیں ہے.

اگر آپ شپنگ کمپنی والوں سے کنٹینر کلئیر  کرانے کے لیے ضمانت کی رقم  امپورٹر کی طرف سے اداکردیں تو یہ  امپورٹر کے ذمہ آپ کا دین (قرض) ہوگیا، اور قرض کی واپسی پر کسی قسم کا مشروط نفع لینا سود ہے،لہذا یہ بھی جائز نہیں ہے۔

الإشراف على مذاهب العلماء لابن المنذر (6/ 230):

"قال أبو بكر: م 3849 - أجمع كل من نحفظ عنه من أهل العلم على أن الحوالة  بجعل يأخذه الحميل، لاتحل، ولاتجوز".

الجامع الصغیر میں ہے:           

"كل قرض جر منفعةً فهو ربا". (الجامع الصغیر للسیوطی، ص:395، برقم :9728، ط: دارالکتب العلمیہ، بیروت)

الفقہ الاسلامی  وأدلتہ میں ہے: 

’’تصح الوكالة بأجر، وبغير أجر؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم كان يبعث عماله لقبض الصدقات، ويجعل لهم عمولةً، فإذا تمت الوكالة بأجر، لزم العقد، ويكون للوكيل حكم الأجير، أي أنه يلزم الوكيل بتنفيذ العمل، وليس له التخلي عنه بدون عذر يبيح له ذلك، وإذا لم يذكر الأجر صراحةً حكم العرف‘‘.  (4/151، الفصل الرابع : نظریۃ العقد، الوکالۃ، الوکالۃ باجر،ط:دارالفکر) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 200007

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے