بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شیعہ کے ساتھ کھانا کھانا


سوال

میں ایک جگہ ملازمت کرتا ہوں اور میرے ساتھ کچھ اہلِ تشیع لوگ کام کرتے ہیں اور میری کوشش ہوتی ہے  کہ میں ان سے بچ کے ہی رہوں،  میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان کے ساتھ مجبوری کی حالت میں کھانا کھانا پڑجائے تو کیا میں ان کے ساتھ ایک پلیٹ میں کھا سکتا ہوں؟  دوسرا اگر ان کے ساتھ آتے جاتے ہاتھ ملایا جائے یا وہ گلے ملے تو اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟  وہ بظاہر ہمارے دین کے بارے میں کچھ نہیں کہتے نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا بھلا کہتے ہیں اور نہ اس طرح کی کوئی دوسری بات کرتے ہیں؛ کیوں کہ ہمارے ادارے میں فرقہ واریت پر سخت پابندی ہے۔

جواب

عام احوال میں  شیعہ کے ساتھ کھاناکھانا  جائز ہے، البتہ  اگر  ان کے ساتھ کھانا پینا رکھنے میں اپنے عقائد  کے بگڑنے کا اندیشہ ہو  تو  ان کے ساتھ کھانا پینا درست نہیں ہوگا، اسی طرح آتے جاتے ہاتھ ملانےاور معانقہ کرنے سے بھی عقائد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو تو مصافحہ وغیرہ کرنا بھی جائز ہو گا۔ آپ کی بیان کردہ صورتِ حال میں ایک ساتھ بیٹھ کر کھانے اور ہاتھ  ملانے یا گلے ملنے کی گنجائش ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201051

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے