بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1441ھ- 11 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

شتر مرغ کی قربانی کا حکم


سوال

شتر مرغ کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جن جانوروں کی قربانی ہوسکتی ہے وہ یہ ہیں:  بکری، بکرا، بھیڑ، دُنبہ، گائے، بیل، بھینس، بھینسا، اُونٹنی، اُونٹ، صرف ان جانوروں کی قربانی کرنا  جائز ہے، اس کے علاوہ دیگر جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے؛ لہذا شتر مرغ اگرچہ حلال ہے، لیکن اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔

العناية شرح الهداية (9/ 516):
"قال: (والأضحية من الإبل والبقر والغنم)لأنها عرفت شرعًا ولم تنقل التضحية بغيرها من النبي عليه الصلاة والسلام  ولا من الصحابة - رضي الله عنهم - ... والثني منها ومن المعز سنة، ومن البقر ابن سنتين، ومن الإبل ابن خمس سنين، ويدخل في البقر الجاموس لأنه من جنسه، والمولود بين الأهلي والوحشي يتبع الأم لأنها هي الأصل في التبعية، حتى إذا نزا الذئب على الشاة يضحى بالولد".

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 646):
"(و) صح (الثني) فصاعدًا من الثلاثة والثني (هو ابن خمس من الإبل، وحولين من البقر والجاموس، وحول من الشاة) والمعز والمتولد بين الأهل، والوحشي يتبع الأم". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110200916

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں