بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جمادى الاخرى 1441ھ- 29 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

زکات کب فرض ہے؟


سوال

زکاۃ کب فرض ہے؟

جواب

جس مسلمان عاقل بالغ شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا ،یاساڑھے باون تولہ چاندی یاساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نقد رقم یامالِ تجارت موجود ہو یا ان چاروں چیزوں میں کسی بھی دو یازائد کامجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر پہنچتاہو اور وہ شخص مقروض بھی نہ ہوتواس مال پر سال گزرنے کی صورت میں زکاۃ واجب ہوگی۔خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص کے پاس ضروریات اصلیہ کے علاوہ نصاب کے برابر زیور ،نقدرقم یامال تجارت موجود ہو اس پر زکاۃ واجب ہے۔فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 143909200911

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے