بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

دین دار خاندان کی لڑکی کا نکاح فاسق (گناہ گار) سے کرنے کے متعلق تفصیل


سوال

لڑکی کے اولیاء نیک اور دین دار ہوں تو  کیا اس لڑکی کا نکاح کسی فاسق آدمی کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟ لڑکی بھی راضی ہے.

جواب

لڑکی کے اولیاء نیک اور دین دار ہوں اور لڑکا فاسق ہو اور لڑکی اس لڑکے سے نکاح کرنے پر راضی ہو تو شرعاً ایسے لڑکے اور لڑکی کے نکاح کے متعلق تفصیل یہ ہے :

اگر لڑکی دین دار ہو اور لڑکی اور اس کے اولیاء فاسق سے لڑکی کے نکاح پر راضی ہوں تو یہ نکاح جائز ہے۔

اگر لڑکی دین دار ہو  اور لڑکی کے دین دار اولیاء لڑکی کے نکاح پر راضی نہ ہوں توان کی اجازت اور رضامندی کے بغیر لڑکی کے لیے یہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے،  اور نکاح ہوجانے کی صورت میں اولاد ہونے سے پہلے پہلے اولیاء دونوں میں تفریق کرانے کے حق دار ہوں گے۔

اگر لڑکی بھی لڑکے کی طرح فاسق ہو تو ایسے لڑکے اور لڑکی کا نکاح جائز ہے اور لڑکی کے اولیاء کو دونوں میں تفریق کرانے کا حق نہیں ہوگا۔

" والحاصل: أن المفهوم من كلامهم اعتبار صلاح الكل، وإن من اقتصر على صلاحها أو صلاح آبائها نظر إلى الغالب من أن صلاح الولد والوالد متلازمان، فعلى هذا فالفاسق لايكون كفؤاً لصالحة بنت صالح، بل يكون كفؤا لفاسقة بنت فاسق، وكذا الفاسقة بنت صالح كما نقله في اليعقوبية، فليس لأبيها حق الاعتراض؛ لأن ما يلحقه من العار ببنته أكثر من العار بصهره. وأما إذا كانت صالحةً بنت فاسق فزوجت نفسها من فاسق فليس لأبيها حق الاعتراض؛ لأنه مثله وهي قد رضيت به، وأما إذا كانت صغيرةً فزوجها أبوها من فاسق فإن كان عالماً بفسقه صح العقد، ولا خيار لها إذا كبرت؛ لأن الأب له ذلك ما لم يكن ماجناً كما مر في الباب السابق، وأما إذا كان الأب صالحاً وظن الزوج صالحاً فلايصح، قال في البزازية: زوج بنته من رجل ظنه مصلحاً لايشرب مسكراً فإذا هو مدمن فقالت بعد الكبر: لاأرضى بالنكاح إن لم يكن أبوها يشرب المسكر، ولا عرف به وغلبة أهل بيتها مصلحون فالنكاح باطل بالاتفاق اهـ فاغتنم هذا التحرير فإنه مفرد". (فتاوی شامی، ۳/ ۸۹، سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200964

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے