بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

جاز کیش کے ڈیبٹ کارڈ کا حکم


سوال

جاز کیش کا ڈیبٹ کارڈ بنوانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

جب کوئی صارف اپنے جاز اکاؤنٹ میں  رقم رکھتا ہے تو اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے، گویا اس نے وہ رقم کمپنی کو قرض پر دی ہوتی ہے،لہذا جس حد تک رقم اکاؤنٹ میں موجود ہو اسی حد تک استعمال درست ہے، البتہ مذکورہ اکاؤنٹ میں رقم رکھ کر اس سے نفع اٹھانا شرعاً سود ہے، لہذا جب صارف جاز ویزا کارڈ استعمال کرتے ہوئے  اس اکاؤنٹ سے شاپنگ کرتا ہے اور کمپنی اس کو کچھ اضافی رقم دیتی ہے تو وہ سود کے حکم میں ہو گی  اور اس کا  استعمال شرعاً درست نہیں ہوگا۔ اور اگر خریداری کی صورت میں ڈسکاؤنٹ کمپنی نہیں دیتی تو درست صورتِ حال معلوم کرکے دوبارہ جواب حاصل کرلیجیے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200250

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے