بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 29 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

بوڑھی ماں کو استنجا کرانا


سوال

میری والدہ بہت کم زور ہیں، کیا میں ان کو استنجا کر وا سکتا ہوں?ان کی عمر 71 سال ہے!

جواب

صورتِ مسئولہ میں اصل حکم یہی ہے کہ والدہ صاحبہ کو پیشاب پاخانہ کرانے کی ذمہ داری ان کے شوہر اٹھائیں، اور شوہرنہ ہونے کی صورت میں مذکورہ کام کوئی عورت (خواہ وہ بیٹی ہو یا کوئی اور) ادا کرے اور  والدہ صاحبہ خود اپنے ہاتھ سے استنجا کریں، کوئی غیر ان کا ستر نہ دیکھے، تاہم اگر وہ استنجا کرنے پر قادر نہ ہوں تو اس صورت میں استنجا کا حکم ساقط ہوجائے گا، البتہ اگر کوئی عورت استنجا کرانا چاہے تو اپنے ہاتھ پر کوئی کپڑا یا میڈیکل گلوز پہن کر کرائے، بغیر حائل کے ان کے ستر کو ہاتھ نہ لگائے۔

اوراگر والدہ صاحبہ خود استنجا نہیں کرسکتیں اور کوئی عورت دست یاب نہ ہو تو آپ (بیٹے) کو استنجا کرانے کی شرعاً اجازت نہیں، اس صورت میں استنجا ساقط ہوجائے گا۔  جیساکہ فتاوی شامی میں ہے:

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 341):
"والمرأة المريضة إذا لم يكن لها زوج وهي لاتقدر على الوضوء ولها بنت أو أخت توضئها ويسقط عنها الاستنجاء".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200200

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے