بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الثانی 1441ھ- 09 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

ایصالِ ثواب کا شرعی طریقہ کار


سوال

ایصالِ  ثواب کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ اور کن لوگوں کو ایصالِ  ثواب کر سکتے ہیں،تفصیل سے بتا دیں؟

جواب

ایصالِ ثواب کا کوئی خاص طریقہ شریعت میں متعین نہیں ہے، نہ اس میں کسی دن کی قید ہے، نہ کسی خاص ذکر کی پابندی ہے اور نہ قرآنِ کریم کو ختم کرنا ضروری ہے؛ بلکہ بلاتعیین جو نفلی عبادت بدنی  اور مالی سہولت  کے ساتھ ہوسکے اس کا ثواب میت کو پہنچایا جاسکتا ہے۔

نفلی اعمال کا ثواب مُردہ اور زندہ دونوں کو بخشا جاسکتا ہے، اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک یہ ثواب ان کو بلاشک و شبہ پہنچتا ہے۔ 

ایصالِ ثواب کا مختصر طریقہ یہ ہے کہ نفلی عمل کرنے کے بعد صرف یہ نیت کرلیں یعنی دل میں یہ کہہ دیں کہ "یااللہ اس عمل کا ثواب فلاں فلاں شخص تک پہنچا دیں" ۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201849

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے