بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ کا کام کرنا


سوال

ایزی پیسہ کا کام کرنا جائز ہے کیا؟

جواب

 ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں پیسے ڈالنے کا کام کرنا جائز ہے، اور پیسے منتقل کرنے/ لوڈ کرنے کی جو اجرت ملتی ہے وہ سائل کے لیے حلال ہے۔ باقی ان پیسوں کو اکاؤنٹ میں رکھ کر ان سے فری منٹس حاصل کرنا (جو کہ سود کے حکم میں ہے اور ناجائز ہے) گاہک کا ذاتی فعل ہے، اگر سائل کا اکاؤنٹ ایسے ناجائز معاہدے پر مشتمل نہیں ہے تو اس سے سائل کی آمدنی پر کوئی اثر نہیں آئے گا۔

جواہر الفقہ میں ہے :

’’دوسری قسم سببِ قریب کی وہ ہے کہ ہے تو سببِ قریب، مگر معصیت کے لیے محرک نہیں، بلکہ صدورِ معصیت کسی دوسرے فاعلِ مختار کے اپنے فعل سے ہوتا ہے، جیسے بیع عصیر عنب ممن یتخذہ خمراً یا  إجارة دار ممن یتعبد فیها الأصنام غیرہ کہ یہ بیع و اجارہ اگرچہ ایک حیثیت سے سببِ قریب ہے معصیت کا، مگر جالب اور محرک للمعصیۃ نہیں، شیرۂ انگور خریدنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کو شراب ہی بنائے اور گھر کو کسی مشرک کے لیے کرایہ پر دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اس میں بت پرستی بھی کرے، بلکہ وہ اپنی خباثت یا جہالت سے اس گناہ میں مبتلا ہوتا ہے، شیرہ بیچنے والا یا مکان کرایہ پر دینے والا معصیت کا باعث اور محرک نہیں ہے۔

ایسے سببِ قریب کا حکم یہ ہے کہ اگر بیچنے یا اجارہ پر دینے والے کا مقصد اس معصیت ہی کا ہو، تب تو یہ خود ارتکابِ معصیت اور اعانتِ معصیت میں داخل ہو کر قطعاً حرام ہے۔ اور اگر اس کا قصد ونیت شامل نہ ہو، تو پھر اس کی دو صورتیں ہیں، یک یہ کہ اس کو علم بھی نہ ہو کہ یہ شخص شیرۂ انگور خرید کر سرکہ بنائے گا یا شراب، یا گھر کرایہ پر لے کر اس میں صرف سکونت کرےگا، یا کوئی ناجائز کام فسق وفجور کرےگا، اس صورت میں یہ بیع و اجارہ بلا کراہت جائز ہے…‘‘ (۷/۵۱۳ مکتبہ دار العلوم کراچی)

پس  مسئولہ صورت میں جب سائل کو یہ معلوم نہیں ہے کہ گاہک ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں پیسے ڈال کر کیا کرے گا، تو اس کے لیے ایزی لوڈ کرنا جائز ہے۔ اور تحقیق و تفتیش بھی اس کے ذمہ لازم نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201507

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں