بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 شوال 1441ھ- 05 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں بل جمع کرانے پر یا لوڈ کرنے پر اکاؤنٹ میں پیسہ آنا، اور فری منٹس ملنا


سوال

1۔ایزی پیسہ ریٹیلر اکاؤنٹ سے بل جمع کرنے پر ساڑھے چار روپے اکاؤنٹ میں آتے ہیں۔

2۔ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے اپنے نمبر پر لوڈ کرنے سے ایک ہزار منٹس۔ایس ایم ایس۔انٹرنیٹ دیتے ہیں۔مثلاً اپنے نمبر پر اپنے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے سو روپے سے زائد لوڈ کرنے پر ہزار منٹس۔ ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ دیتے ہیں۔ 

ان کا کیا حکم ہے؟

جواب

ایزی پیسہ اکاؤنٹ  کھلوانے کا مقصد رقم کی منتقلی ہو یا موبائل میں ری چارج وغیرہ کرنا، اگر اس اکاؤنٹ کھلوانے  یا اس میں رقم رکھنے پر  کمپنی کوئی مشروط نفع (مثلاً: فری منٹس، ایم بی ، میسج وغیرہ) نہ دیتی ہو تو اس حد تک اس اکاؤنٹ کااستعمال درست ہوگا،رقم منتقلی کی صورت میں اگر کمپنی صارف سے کچھ رقم (بطور سروس چارجز) وصول کرے تو یہ بھی درست ہوگا۔

اور اگر  کمپنی  اکاؤنٹ ہولڈر کو اس مخصوص رقم جمع کرانے کی شرط پر  یومیہ فری منٹس اور میسیجز وغیرہ کی سہولت فراہم کرتی ہےیا تو درحقیقت یہ قرض ہے، قرض دینا تو فی نفسہ جائز ہے، لیکن کمپنی اس پر جو  مشروط منافع دیتی  ہے، یہ  شرعاً ناجائز ہے؛ اس لیے کہ قرض پر شرط لگا کر نفع اٹھانے کو نبی کریم ﷺ نے سود قرار دیا ہے۔ (مصنف بن أبی شیبہ، رقم: ۲۰۶۹۰ )اور   چوں کہ اس صورت میں  مذکورہ اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز معاملے کےساتھ مشروط ہے ؛ اس لیے یہ اکاؤنٹ کھلوانا یا کھولنا جائز نہیں ہوگا۔

لہذ ا چوں کہ اس اکاؤنٹ میں رکھی ہوئی رقم کی حیثیت قرض کی ہے ، اور قرض پر مشروط نفع سود ہے، اس لیے  نمبر پر لوڈ کرانے کی صورت میں یا بل جمع کرانے کی وجہ سے جو کچھ منافع دے وہ جائز نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ ہماری معلومات کے مطابق  ’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ‘‘  اب  دوسری صورت کا ہی ہے؛  لہٰذا ایسا اکاؤنٹ کھلوانا ہی جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201469

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں