بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 جُمادى الأولى 1441ھ- 24 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

اہلِ مکہ کے لیے عمرہ کا میقات / کیا تنعیم سے عمرہ کی اجازت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ساتھ خاص تھی؟


سوال

1-  مکی لوگ عمرے کا احرام کہاں سے باندھیں گے؟

2-  جو حدیث اماں جی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا والی ہے،  اس پر مجھے اعتراض ہے کہ وہ حج کرنے مدینہ سے آئی تھیں؛  اس لیے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم بھیجا ؟

جواب

1- جو لوگ مکہ مکرمہ میں قیام پذیر ہوں اور وہ عمرہ کرنا چاہتے ہوں، یا پاکستانی حاجی اور معتمر جو عمرہ یا حج کرکے وہاں ٹھہرے ہوئے ہوں تو  حدودِ  حرم سے باہر  نکل کر  حَل(حدودِ حرم سے باہر اور میقات کے اندر) میں سے کہیں سے بھی احرام باندھ سکتے ہیں ، البتہ ان کے لیے مسجدِ عائشہ (مقام تنعیم)سے احرام باندھنا زیادہ افضل ہے۔

2۔۔ تنعیم حل میں داخل ہے، اور اہلِ مکہ کا عمرہ کے لیے میقات  حل ہے۔ مقامِ تنعیم مسجدِ عائشہ سے احرام باندھنے کی اجازت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص نہیں تھی، بلکہ جو مکی اور جو اہلِ مکہ کے حکم میں ہو  اس کے لیے یہ اجازت ہے، حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد  سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عبد اللہ ابن زبیر کو دیکھا کہ انہوں نے تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھا،(أخرجه مالك في الموطأ رقم (813) 1/365 وسنده صحيح)

  ابن قدامہ رحمہ اللہ نے مکہ والے اور جو اُن کے حکم میں ہیں ان کے لیے حل کے میقات ہونے پر اجماع نقل کیا ہے، اور مقامِ تنعیم بلاشبہ حل میں داخل ہے۔

مناسک ملاعلی قاری میں ہے:

"ولایکره الإکثار منها أي من العمرة في جمیع السنة، بل یستحب أي الإکثار منها، وأفضل مواقیتها لمن بمکة التنعیم والجعرانة، والأول أفضل عندنا". (مناسك ملا علي القاري ۴۶۷)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 479):
"(و) الميقات (لمن بمكة) يعني من بداخل الحرم (للحج الحرم وللعمرة الحل)؛ ليتحقق نوع سفر، والتنعيم أفضل".

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 479):
"(قوله: والتنعيم أفضل) هو موضع قريب من مكة عند مسجد عائشة، وهو أقرب موضع من الحل، ط أي الإحرام منه للعمرة أفضل من الإحرام لها من الجعرانة وغيرها من الحل عندنا، وإن كان صلى الله عليه وسلم أحرم منها؛ لأمره عليه الصلاة والسلام عبد الرحمن بأن يذهب بأخته عائشة إلى التنعيم؛ لتحرم منه، والدليل القولي مقدم عندنا على الفعلي".

"المغني“  لابن قدامة  (3/111 ):

قال ابن قدامة رحمه الله:"إن ميقات العمرة لمن كان بمكة سواء من أهلها أو ممن قدموا عليها هو الحل، وقال: لانعلم في هذا خلافاً". ("المغني" لابن قدامة 3/111).فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008201614

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے