بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

اٹیچڈ باتھ میں وضو کے دوران دعائیں پڑھنا


سوال

اٹیچڈ باتھ روم میں آدمی گفتگو کرتا ہے، وضو کے دوران دعا پڑھے گا یا نہیں؟

جواب

مشترکہ غسل خانہ اوربیت الخلا  جس میں داخل ہونےکے لیے ایک ہی دروازہ ہوتاہے اور قضائے حاجت کی جگہ اور غسل کی جگہ کے درمیان کوئی دیوار یا آڑ نہیں ہوتی، اس قسم کے غسل خانوں میں وضو کے شروع اور درمیان کی  دعائیں زبان سے پڑھنا منع ہے؛ کیوں کہ درمیان میں آڑ نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیت الخلامیں پڑھنا شمارہوگا، اوربیت الخلا میں اذکار پڑھنےسے شریعت نے منع کیا ہے، ایسی جگہ دل ہی دل میں زبان کو حرکت دیے بغیر پڑھنے کی اجازت ہے۔ البتہ اگر  غسل خانہ اور بیت الخؒلا دونوں ایک دوسرے سے ممتاز ہیں، دونوں کے درمیان کوئی دیوار یا پردہ حائل ہے اور غسل خانے میں گندگی بھی نہیں ہے تو اس صورت میں وضو کی دعائیں زبان سے پڑھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اٹیچڈ باتھ روم (جس میں بیت الخلا کی جگہ بھی ساتھ ہی ہو) میں بلاضرورت گفتگو کرنا بھی مکروہ ہے، لہٰذا اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔

فتاوی شامی  (1/ 156):
"ويستحب أن لا يتكلم بكلام مطلقاً، أما كلام الناس؛ فلكراهته حال الكشف، وأما الدعاء؛ فلأنه في مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال"اهـ.فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200248

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے