بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

اسٹیج شو میں خواتین کا مردانہ ہیئت اختیار کرنا


سوال

بعض بنات کے مدارس میں پروگرام ہوتے ہیں، اسٹیج شو  میں بنات  ٹوپیاں پہنتی ہیں،اور ڈاڑھیاں بھی لگاتی ہیں، کیا یہ تشبہ بالرجال ہے؟

جواب

عورت کے لیے مردوں کا مخصوص لباس پہننا یا ان کی ہیئت اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، حدیثِ مبارک میں ایسی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے، صورتِ مسئولہ میں خواتین کا اسٹیج شو میں مردانہ ہیئت اختیار کرنا، ٹوپی پہننا اور ڈاڑھی لگانا تشبہ بالرجال میں داخل اور ناجائز ہے۔

باقی یہ اسٹیج شو کس قسم کا ہوتا ہے، اور اس کے مقاصد کیا ہیں اور اس میں اور کیا کیا چیزیں پائی جاتیں ہیں؟ ان کی تفصیل معلوم ہونے کے بعد ہی خود اس اسٹیج شو کا حکم بیان کیا جاسکے گا۔

بذل المجهود في حل سنن أبي داود (12 / 127):
"عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم: أنه لعن المتشبِّهات من النساء بالرجال) قال ابن رسلان: وهذا الحديث له سبب، وهو ما رواه الطبراني : "أن امرأة مرَّت على رسول الله صلى الله عليه وسلم متقلدةً قوسًا، فقال: لعن الله المتشبهات" الحديث.
(والمتشبهين من الرجال بالنساء) بأن يلبس لِبسة النساء ويتزيَّا بزيهن، قال النووي في "الروضة" : والصواب: أن التشبه بالرجال للنساء وعكسه حرام.
4098 - (حدثنا زهير بن حرب، نا أبو عامر) عبد الملك بن عمرو، (عن سليمان بن بلال، عن سهيل، عن أبيه) أبي صالح، (عن أبي هريرة) - رضي الله عنه - (قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجل يلبس لبسة المرأة، والمرأة تلبس لبسة الرجل).
4099 - (حدثنا محمد بن سليمان لوين) مصغرًا (وبعضه) أي بعض الحديث (قرأت عليه، عن سفيان، عن ابن جريج، عن ابن أبي مليكة قال: قيل لعائشة) - رضي الله عنها -: (إن امرأة تلبس النعل) الذي يلبسه الرجال (فقالت: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجلة) بضم الجيم، وقال المنذري: بكسر الجيم (من النساء) وهي المترجلة، يقال: امرأة رجلة إذا تشبهت بالرجل في الزي،فأما في العلم والرأي فمحمود، ومنه أن عائشة كانت رجلة الرأي". 
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200735

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں