بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

استنجا کرنے کے بعد کیا شک رفع کرنے کے لیے بار بار استنجا کرنا ضروری ہے؟


سوال

میں استبرا کرنے اور ٹشو پیپر استعمال کرنے کے بعد عضو خاص کے سر میں کچھ نمی دیکھتا ہوں، دوبارہ استبرا کرنے پر وہ بہت معمولی سی سر پہ آجاتی ہے،  کیا میں ایک بار استبرا کرنے کے بعد وضو کرکے نماز پڑھ سکتا ہوں؟  مجھے شک ہوتا ہے کہیں بعد میں اسی طرح کی معمولی مقدار میں پیشاب نہیں نکلا ہو؟ 

جواب

پیشاب کی نالی کے بالکل آخری سرے پر اگر پیشاب کا قطرہ ظاہر ہوجائے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اگر بالکل آخری سرے پر پیشاب کے قطرے ظاہر نہ ہوں، بلکہ صرف نالی کی اندرونی جانب تر ہو تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے، اس لیے اگر پیشاب کی نالی کے سرے پر پیشاب کا قطرہ نظر نہ آرہا ہو تو پھر بہ تکلف پیشاب کی نالی میں تری کو چیک کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر کسی نے  پیشاب کی نالی کو دباکر چیک کیا، مثلاً  کوئی کپڑا یا ٹشو پیپر یا ہاتھ سے چیک کیا اور اس کی وجہ سے پیشاب کا قطرہ نالی کے سرے پر ظاہر ہوگیا یا کپڑے، ٹشو یا ہاتھ وغیرہ پر تری لگ گئی تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا، لیکن اگر کپڑے، ٹشو یا ہاتھ وغیرہ سے دبا کر چیک کرنے سے پیشاب کا قطرہ نالی کے سرے پر ظاہر نہیں ہوا تو وضو نہیں ٹوٹ گا، لہذا ایک مرتبہ اچھی طرح اطمینان کرنے کے بعد شک میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے، وضو کرکے نماز ادا کرلیں، اور شک کے ازالہ کا علاج یہ ہے کہ وضو سے فارغ ہو کر اپنا ہاتھ تر کر کے اپنی رمالی پر چھینٹے مار لیا کریں، ان شاء اللہ شک سے خلاصی نصیب ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 135):

"ثم المراد بالخروج من السبيلين مجرد الظهور وفي غيرهما عين السيلان ولو بالقوة.  (قوله: مجرد الظهور) من إضافة الصفة إلى الموصوف: أي الظهور المجرد عن السيلان، فلو نزل البول إلى قصبة الذكر لاينقض لعدم ظهوره، بخلاف القلفة فإنه بنزوله إليها ينقض الوضوء، وعدم وجوب غسلها للحرج، لا لأنها في حكم الباطن كما قاله الكمال ط".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 148):

"(كما) ينقض (لو حشا إحليله بقطنة وابتل الطرف الظاهر) هذا لو القطنة عالية أو محاذية لرأس الإحليل وإن متسفلة عنه لاينقض، وكذا الحكم في الدبر والفرج الداخل (وإن ابتل) الطرف (الداخل لا) ينقض ولو سقطت؛ فإن رطبه انتقض، وإلا لا.  (قوله: إحليله) بكسر الهمزة مجرى البول من الذكر بحر (قوله: هذا) أي النقض بما ذكر، ومراده بيان المراد من الطرف الظاهر بأنه ما كان عالياً عن رأس الإحليل أو مساوياً له: أي ما كان خارجاً من رأسه زائداً عليه أو محاذياً لرأسه لتحقق خروج النجس بابتلاله؛ بخلاف ما إذا ابتل الطرف وكان متسفلاً عن رأس الإحليل أي غائباً فيه لم يحاذه ولم يعل فوقه، فإن ابتلاله غير ناقض إذا لم يوجد خروج فهو كابتلال الطرف الآخر.الذي في داخل القصبة (قوله: والفرج الداخل) أما لو احتشت في الفرج الخارج فابتل داخل الحشو انتقض، سواء نفذ البلل إلى خارج الحشو أو لا للتيقن بالخروج من الفرج الداخل وهو المعتبر في الانتقاض لأن الفرج الخارج بمنزلة القلفة، فكما ينتقض بما يخرج من قصبة الذكر إليها وإن لم يخرج منها كذلك بما يخرج من الفرج الداخل إلى الفرج الخارج وإن لم يخرج من الخارج اهـ شرح المنية (قوله: لاينقض) لعدم الخروج (قوله: ولو سقطت إلخ) أي لو خرجت القطنة من الإحليل رطبة انتقض لخروج النجاسة وإن قلت، وإن لم تكن رطبة أي ليس بها أثر للنجاسة أصلاً فلا نقض". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200230

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے