بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1441ھ- 13 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

استغفار کس طرح کیا جائے؟


سوال

 اگرگناہوں پر استغفارکیاجاۓتوکس طریقہ سے کیا جاۓاورکتنی مرتبہ روزانہ کرنا چاہیے؟ اور کون سی تسبیح پڑھنامسنون  ہے؟

جواب

’’استغفار‘‘ کے معنی ہیں تو بہ کرنا،  یعنی اپنے گناہوں اور قصوروں کی معافی مانگنا اور بخشش طلب کرنا۔  اور اس کی حقیقت اور روح یہ ہے کہ آدمی اپنے گناہوں کو سوچے، جنہوں نے اس کے نفس کو گھیر رکھا ہے، یعنی اس کو میلا اور گندہ کررکھا ہے اور پھر اسبابِ مغفرت اختیار کر کے نفس کو ان گناہوں سے پاک کرے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ اول باری تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں کا اعتراف کرے، اور اس پر ندامت کا اظہار کرے، اور آئندہ گناہ نہ کرنے پکا عزم کرے اور اس کے بعد صدقِ دل سے توبہ واستغفار کرے، اور اس کے لیے کوئی بھی ایسے الفاظ جن میں اللہ سے معافی مانگنے کا معنی موجود ہو استعمال کیے جاسکتے  ہیں، اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے سچے دل سے ”أَسْتَغْفِرُ الله “بھی کہا جاسکتا ہے، اور اس کے بہتر ین الفاظ  میں سے چند یہ ہیں:

"أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِيْ لَا اِلٰـه اِلَّا هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَأَتُوْبُ إِلَیْه" ، "أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّيْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ وَّ أَتُوْبُ إِلَیْهِ"اور "رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّك أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ".

استغفار کے کلمات تو مسلسل پڑھتے رہنا چاہیے، نبی کریم ﷺ سے ایک ایک مجلس میں ستر ستر مرتبہ استغفار ثابت ہے۔  البتہ گناہوں سے سچے دل سے توبہ کرنے کے بعد گناہوں کے بارے میں اپنے اختیار سے بار بار نہیں سوچنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھی جائے کہ وہ صدقِ دل سے توبہ کے بعد معاف کردیں گے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200186

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے