بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الاول 1443ھ 22 اکتوبر 2021 ء

بینات

 
 

گھریلو تشدد/ تحفظ بل 

گھریلو تشدد/ تحفظ بل 

Domestic violence (prevention and protection)  Bill,2021

 

۱۹؍ اپریل ۲۰۲۱ء کو وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری صاحبہ کی طرف سے قومی اسمبلی میں گھریلو تشدد تحفظ بل کے نام سے ایک بل پیش کیا گیا۔ بعد میں ۲۱جون ۲۰۲۱ء کو سینٹ میں اس بل کو منظور کیا گیا۔ بل کی متعدد شقوں پر ملک بھر کے اہلِ علم اور حساس عوام کو شدید تحفظات تھے، جس سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ یہ بل پاکستان کے چند آزاد خیال صاحبانِ اقتدار کی سوچ کا عکاس ہے اور ملک کا ایک بڑا طبقہ اس کے خلاف ہے۔ دینی سیاسی جماعتوں کے نمائندگان اور علمائے کرام کے ردِعمل میں کی جانے والی تقریروں کے نتیجے میں وزیر اعظم کے پارلیمانی مشیر بابر اعوان صاحب کے مشورے سے اس بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف بھیج دیا گیا، تاکہ وہ اسلامی نقطۂ نظر سے بل پر رائے دے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس اس قسم کا مسودہ بھیجا جائے، ایسے بل ماضی میں بھی بنتے رہے ہیں، لیکن اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر کما حقہ عمل در آمد نہیں کیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ اس بل میں وہ کیا خرابیاں ہیں، جن کی وجہ سے اس بل کو بھرپور تنقید کا سامنا ہے؟ اس کا سیدھا سادہ جواب تو یہ ہے کہ یہ بل متعدد ایسی شقوں پر مشتمل ہے، جو قرآنِ کریم، تعلیماتِ نبوی اور آئینِ پاکستان کے خلاف ہیں۔ اس کی بعض باتیں وضاحت طلب ہیں اور قرآن وسنت کی روشنی میں ان کی وضاحت ضروری ہے۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور اس کا آئین‘ اقتدارِ اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ کو قرار دیتا ہے۔ یہ آئین حکومت کو ایسے اقدامات کا پابند بناتا ہے، جو شہریوں کو کتاب وسنت کے نظام کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے میں آسانیاں پیدا کریں، لہٰذا ہر ایسا قانون اور بل جو کتاب وسنت کے خلاف ہوگا، آئینِ پاکستان کی رو سے وہ مسترد قرار دیا جائے گا۔
قبل اس کے کہ دینی اور شرعی نقطۂ نظر سے اس بل کا جائزہ لیں، ہم اسلام کے خاندانی نظام کو مختصراً ذکر کریں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ گھریلو تشدد تحفظ بل کا سب سے زیادہ اثر عائلی نظام (Family System) پر پڑتا ہے۔ اس کے مضر اثرات کے نتیجے میں گھریلو معاشرہ افراتفری کا شکار ہوتے دکھائی دیتا ہے، اور یوں یہ اس معاشرتی اَبتری کی تمہید دِکھتی ہے، جس کے عطا کردہ زخموں سے آج اقوامِ مغرب کا جسم چور چور ہے۔
اسلامی نظامِ حیات میں گھریلو زندگی اور خاندانی نظام کو امتیازی شان حاصل ہے، چناںچہ خالقِ ارض وسماوات نے اپنی عبادت کے بعد ساتھ ہی والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا:
’’وَقَضٰی رَبُّکَ أَلَّا تَعْبُدُوْا إِلَّا إِيَّاہُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ أَحَدُہُمَا أَوْ کِلَاہُمَا فَلَا تَقُلْ لَّہُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِيْمًا۔‘‘         (الاسراء:۲۳)
’’اور آپ کے رب نے اس بات کا حکم دیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، اگر ان دونوںمیں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں، تو انہیں اُف تک نہ کہنا اور اُنہیں نہ جھڑکنا، اور ان سے نرمی سے بات کرنا۔‘‘
’’وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْہِ حُسْنًا۔‘‘                (العنکبوت: ۸)
’’اور ہم نے انسان کو اپنے والدین سے اچھے سلوک کی وصیت کی ہے۔‘‘
نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے باپ کی رضامندی کو اللہ کی رضامندی کا ذریعہ قرار دیا اور باپ کی ناراضگی کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی قرار دیا گیا۔ (ترمذی) اور تمام لوگوں میں ماں کے حق کو سب پر مقدّم کیا گیا۔ (ترمذی) اسی طرح ازدواجی تعلقات کو پائیدار اور خوشگوار رکھنے کی تعلیم دی گئی، عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی خود قرآن کریم میں تعلیم دی گئی :
’’وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ‘‘                 (النساء: ۱۹)
’’اور ان عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔‘‘
آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس شخص کو افضل قرار دیا، جو اپنی اہلیہ کے ساتھ اچھا سلوک کرے، اور فرمایا: 
’’تم میں سے بہتر ین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ زیادہ اچھا ہو، اورمیں تم سب سے زیادہ اپنے گھر والوں سے اچھا ہوں۔‘‘                                                  (ترمذی)
بیوی کے لیے خاوند کے متعلق ارشاد فرمایا :
’’عورت اپنے رب کا حق اس وقت تک ادانہیں کر سکتی جب تک اپنے خاوند کا حق ادا نہ کرلے۔‘‘                                                  (المعجم الکبیر للطبرانی:۵۰۸۴)
خاوند اور بیوی کے درمیان خوشگوار اور مستحکم تعلق شیطان کے لیے باعثِ تکلیف اور اس تعلق کا ٹوٹنا شیطان کے لیے باعثِ خوشی قرار دیا گیا۔ اولاد کی اچھی تربیت اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی خاص تاکید کی گئی ہے، قرآن حکیم کی سورۂ لقمان میں والد کے لیے رہنمائی فراہم کی گئی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کے سلسلے میں کن باتوں کا خیال رکھے،نیک لوگوں کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی ذکر کی گئی ہے :
’’رَبَّنَا ہَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّۃَ أَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔‘‘ (الفرقان: ۷۴)
’’اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دیجیے، اور ہمیں متقیوں کا امام بنادیجیے۔‘‘
اولاد کے حقوق کی ادئیگی کو والد کی ذمہ داری قرار دیا گیا، اور اچھی تربیت کو بہترین تحفہ قرار دیا گیا۔
ماں باپ، خاوند بیوی اور بچوں کےعلاوہ دیگر اہلِ خاندان کے حقوق بھی مقرر کیے گئے، قرابت داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی گئی۔ بڑے بہن بھائیوں کا احترام اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ شفقت اسلامی طرزِ زندگی کی خصوصیت ہے۔ اگر اہلِ خاندان کے درمیان رنجشیں پیدا ہوجائیں تو اس کے لیے رہنمائی فرمائی گئی کہ جو تجھ سے توڑے تو اس سے جوڑ۔
پھر اگر کبھی ایسے ناخوشگوار حالات پیش آئیں، جن کی وجہ سے خاندانی نظام بکھرنے لگے تو اس سلسلے میں مستقل تعلیمات کتاب وسنت میں موجود ہیں، مثلاً: اگر میاں بیوی میں رنجش ہوجائے تو اسے ختم کرنے کے لیے بھی تعلیمات موجود ہیں، جیسے:
’’کوئی مومن مرد اپنی مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے، ہو سکتا ہے کہ اگر اسے اس کی ایک عادت ناپسند ہو تو دوسری پسند آجائے۔‘‘                                     (صحیح مسلم)
اور اگر رنجش اس حد تک بڑھ جائے کہ آپس میں حل نہ ہوسکے تو پھر خاندان کے بزرگوں اور عقل وشعور رکھنے والے لوگوں کو آگے بڑھ کر اسے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اور اگر بات یہاں تک بھی نہ رکے تو پھر طلاق کے ذریعے رشتۂ نکاح ختم کرنے کا بھی راستہ رکھا گیا ہے، لیکن اس میں بھی ایسے قواعد وضوابط مقرر کیے گئے ہیں، جن کو ملحوظِ خاطر رکھنے سے نفرت اور دشمنی کو فروغ نہیں ملتا ہے۔
اس سب کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت میں ایسے اعمال ملتے ہیں، جن سے گھریلو زندگی جنت کا نمونہ بن جاتی ہے، مثلاً : گھر میں داخل ہوتے وقت دعا کا اہتمام کرنا، سلام کرنا، غیبت، چغلی اور حسد سے بچنا، ادائیگیِ حقوق کی فکر کرنا، میراث کی صحیح تقسیم کرنا۔
ایک منصف مزاج شخص دیکھ سکتا ہے کہ ان پیغمبرانہ تعلیمات کو عام کرنے اور عمل کرنے سے گھریلو زندگی نمونۂ جنت بن سکتی ہے، خصوصاً جب ان کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی مشہور حدیث کو شامل کرلیا جائے کہ:
’’اعلیٰ درجے کا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ (صحیح بخاری)
اسلامی نظامِ زندگی کا ایک خاکہ پیش کرنے کے بعد ہم گھریلو تشدد تحفظ بل ۲۰۲۱ء پر اپنا تبصرہ پیش کرتے ہیں:
۱:- اس بل کے حصہ ۱ کے سیکشن ۲ میں متعدد تعریفات کی گئی ہیں، ان میں نمبر (v) پر گھریلو تعلق (Domestic  Relationship) کی تعریف ایسے الفاظ سے کی گئی ہے جو ایک خاندان یا فیملی تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ایک گھر میں رہنے والے عارضی یا مستقل تعلقات سب ہی کو شامل ہے، حالانکہ گھریلو معاشرہ اور عائلی زندگی کے اصل ارکان ماں باپ، (دادا، دادی) بیوی بچے، (پوتے،پوتی) اور بہن بھائی ہوتے ہیں، ان کے علاوہ بسا اوقات ملازمت یا پڑھائی وغیرہ کے سلسلے میں بھی لوگوں کو اکٹھا رہنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے ان تمام تعلقات کی نوعیتیں مختلف ہیں، اور ان سب پر خاندانی تعلقات کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔
حصہ دوم سیکشن (۳) میں گھریلو تشدد ( Domestic violence ----) کی تعریف میں جسمانی، جذباتی، نفسیاتی، جنسی اور معاشی تشددکو شامل کیا گیا ہے۔ سب سیکشن میں معاشی، نفسیاتی اور لفظی تشدد کی وضاحت کچھ اس انداز سے ہے جو شریعت کی مقرر کردہ حدود سے متصادم ہوسکتی ہے، مثلاً لکھا گیا ہے کہ رقابت اور حسد کا بار بار مظاہرہ جو دوسرے کی خلوت، آزادی، اخلاقی برتری اور سلامتی کو متاثر کرے۔ 
پہلی بات تو یہ ہے کہ ساتھ رہنے والے افراد میں ایک دوسرے کے لیے رقابت یا حسد پیدا ہوجانا بعید نہیں، پھر ان منفی جذبات کو پہچاننا اور اس کی بنیاد پر سزا دینا آسان نہیں۔ تیسرے ان جذبات میں عدالت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مداخلت مزید نفرتوں کو فروغ دے گی، بلکہ عین ممکن ہے کہ اگر ہر دو افراد کو مناسب انداز میں نصیحت کی جائے تو وہ اپنا رویہ تبدیل کرلیں۔ پانچویں یہ کہ بسا اوقات گھر کے بڑے اپنے چھوٹوں کی اصلاح کی غرض سے ان کی بے جا آزادی پر قد غن لگاتے ہیں، مثلاً: باپ اپنے بیٹے سے اگر یہ پوچھے کہ وہ رات دیر سے گھر کیوں آیا ہے؟ یا وہ اپنی پڑھائی پر توجہ کیوں نہیں دے رہا؟ یا نماز کیوں نہیں پڑھتا؟ تو یہ اگر چہ بیٹے کی خلوت میں مداخلت اور بظاہر اس کی تحقیر ہے، لیکن حقیقت میں یہ عین اس کی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے، جو وہ پورا کر رہا ہے۔ ایسے ہی اگر ایک آدمی اپنی بیوی یا بیٹی کو شرعی پردہ کرنے کی تاکید کرتا ہے، جبکہ بیوی یا بیٹی بے حجابانہ باہر آنا جانا چاہتی ہیں تو آدمی کا پردے کی تاکید کرنا شرعاً ایک پسندیدہ عمل ہے، بظاہر اس سے بیوی یا بیٹی کی خودی متاثر ہوتی ہے اور انہیں تحقیر محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں اس سے بڑے بڑے فساد کا دروازہ بند ہورہا ہے۔
 اسی طرح حصہ (۲) سیکشن (۳) سب سیکشن (b) نمبر (vi) میں متاثرہ شخص کی عمداً یا سہواً عدمِ خبر گیری کو بھی ایک طرح کے جذباتی ونفسیاتی تشدد میں شامل کیا گیا ہے۔ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ خبر گیری سے کیا مراد ہے؟ کیا متاثرہ شخص کو نان نفقہ دینا یا حال احوال معلوم کرنا، نیز چونکہ بل میں گھریلو تعلق کی تعریف میں عموم بہت ہے، لہٰذا اس سے تو یہ لازم آئے گا کہ کبھی بھی اگر کسی شخص کے ساتھ آپ ایک گھر میں رہے ہوں اور اب آپ کے اس کے ساتھ تعلقات نہیں تو وہ عدالت میں آپ کے خلاف عدمِ خبر گیری کی درخواست دے دے۔ ایک باپ اپنی نابالغ اولاد کو نہ پوچھے یا شوہر اپنی بیوی کو رہائش، مناسب خرچہ یا کھانا نہ دے یا بوڑھے والدین کی اولاد خبر نہ لے تو یہ تو ایک جرم ہے، لیکن اگر ایک شخص اپنی چچی کی خبر گیری نہ کرے یا شوہر کے ہوتے ہوئے سسر‘ بہو کی خبر گیری نہ کرے تو یہ جرم نہیں ہوگا۔
اسی نمبر (vi) سے متصل نمبر (vii) میں ٹوہ میں رہنے کو بھی تشدد کی ایک قسم قرار دیا گیا ہے۔ بسااوقات والد کو اپنی اولاد، شوہر کو بیوی او ربڑے بہن بھائیوں کو چھوٹے بہن بھائیوں کے معاملات پر کڑی نگاہ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تو کیا یہ بھی جرم ہوگا؟ بل بنانے والے حضرات نے اس پہلو کو نظر انداز کیا ہوا ہے۔
حصہ دوم سیکشن (3) سب سیکشن (c) میں جنسی تشدد میں جنسی نوعیت کی ایسی حرکت کو شامل کیا گیا ہے، جو متاثرہ شخص کی عزت کم کرے یا ختم کرے، اس میں زوجہ کا استثناء ضروری ہے، کیونکہ زوجہ سے ایسی نوعیت کی حرکت کی اجازت شریعت کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اس میں خاوند زوجہ کی اجازت کا پابند نہیں۔ تو کیا اگر بیوی اپنے خاوند کے خلاف یہ درخواست دائر کرے کہ وہ اس کی رضامندی کے بغیر اس سے جنسی تعلق قائم کرتا ہے تو یہ بھی گھریلو تشدد کے زمرے میں آئے گا جس کی سزا خاوند کو بھگتنی پڑے گی؟! پھر اگر یہ تصور کیا جائے کہ اس صورتِ حال میں خاوند کو سزا دی جائے تو کیا اس کے بعد ایک معتدل خاندانی نظام کو قائم رکھا جاسکے گا؟
حصہ سوم سیکشن (6) نمبر (1) میں متاثرہ شخص کو درخواست دائر ہونے کے بعد یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ نقصان پہنچانے یا تشدد کرنے والے کے ساتھ مشترکہ گھر میں رہے گا، اس بات سے قطع نظر کہ اسے اس گھر میں رہنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ یہ بھی ایک عجیب منطق ہے جو شرعاً اور عرفاً قابلِ رد ہے کہ ایک شخص کسی گھر میں قیام کا حق دار نہ ہو، پھر بھی اُسے وہاں رہنے کا اختیار دیا جائے۔
اسی سیکشن کے نمبر (2) میں ملزم کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ اگر متاثرہ شخص کسی دوسری جگہ رہنا چاہے تو اس کے لیے انتظام کرے، یہ شق اس وقت خطرناک نوعیت اختیار کر جائے گی، جب باپ اپنی بیٹی کی مصلحت پر نظر رکھتے ہوئے اسے کسی غیر مرد سے تعلق رکھنے پر روکے اور وہ بیٹی خود باپ کے خلاف عدالت میں درخواست دے تو کیا باپ قانوناً اس بات کا پابند ہوگا کہ بیٹی کے لیے علیحدہ رہائش کا انتظام کرے، جہاں رہتے ہوئے بغیر روک ٹوک کے گناہ میں ملوث ہونا آسان ہو سکے ؟
حصہ سوم سیکشن(8 ) نمبر (b) اور (c) میں درج ہے کہ عدالت کو گھریلو تشدد کےوقوع یا مستقبل میں واقع ہونے کے امکان کا اطمینان ہو جائے تو وہ جواب دہندہ کو اس بات کا پابند کرے گی کہ وہ متاثرہ شخص سے کوئی تقریری یا تحریری کوئی رابطہ نہیں رکھے گا، نیز اس سے بہر صورت دور رہے گا، گویا افہام و تفہیم کے تمام راستے مسدود کر دئیے جائیں گے، جب کہ آپس کی گفت وشنید سے اہلِ خانہ بہت سے معاملات بخوبی حل کرسکتے ہیں ۔
مندرجہ بالا خامیوں کے علاوہ بھی اس بل کے متعدد مقامات وضاحت کے محتاج ہیں، جن کی وضاحت قرآن وسنت اور آئینِ پاکستان کی روشنی میں ہونی چاہیے۔ اس بل کے نتیجے میں خاندانی اور گھریلو معاشرہ توڑ پھوڑ کا شکار ہوتا ہے، رشتوں کا تقدس پامال ہوتا ہے، اور نفرتوں کو فروغ ملتا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقات خصوصاً کمزور اور مظلوم افراد کی داد رسی حکومت کی ذمہ داری ہے، اور اس حوالے سے قانون سازی ہونی چاہیے، لیکن وہ قانون سازی اسلامی فکر کی روشنی میں ہونی چاہیے، نہ کہ انسانوں کے خود ساختہ افکار و اقدار کی روشنی میں ۔ گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ کے حوالے سے مندرجہ ذیل اقدامات خاندان اور معاشرے کی سطح پر بہتری لانے میں مفید ثابت ہوں گے:
۱:- اسلام کے عائلی نظام (فیملی سسٹم) کے حوالے سے آگاہی مہم
۲:-رشتوں کی نوعیت اور ان کے متعلق حقوق وفرائض
۳:- اہلِ علم اپنے خطبات کے ذریعے لوگوں کو امن وآشتی، محبت اور ضبط وتحمل کا درس دیں۔
۴:- گھریلو تشدد کے حوالے سے کیسز سامنے آئیں تو خاندان کے معتبر افراد کو شامل کرکے خاندان کی سطح تک معاملات کو نمٹانے کی کوشش کی جائے۔
۵:- گھریلو تشدد سے تحفظ کے لیے قانون سازی کرتے ہوئے کتاب وسنت کے واقف کار علماء کو ضرور شامل کیا جائے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے