بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جمادى الاخرى 1443ھ 18 جنوری 2022 ء

بینات

 
 

پاکستان کو ’’قرضستان‘‘ بننے سے بچائیں!

 

پاکستان کو ’’قرضستان‘‘ بننے سے بچائیں!
 

پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا، اس کے لیے مسلمانوں نے جان، مال، عزت وآبرو اور گھر بار کا نذرانہ پیش کیا۔ اسلام کے نام پر لاکھوں جانیں اور ہزاروں عزتیں ضائع ہوئیں، بچے یتیم ہوئے، سہاگ لٹے اور کروڑوں کی املاک تباہ ہوئیں، مگر اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں اسلام نہیں آسکا۔ مسلمانوں نے نہایت خلوص واخلاص سے پاکستان میں نفاذِ اسلام کی متعدد بار کوششیں کیں، مگر لاحاصل۔ پاکستان سے لادین طبقہ کی بالادستی ختم کرنے، یہودی، عیسائی اور قادیانی مہروں کو ہٹانے کے لیے تحریکیں چلائی گئیں، جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا، مگر ’’زمین جنبد نہ جنبد گل محمد ‘‘ کے مصداق آج تک پرنالہ وہیں کا وہیں ہے، یہاں جتنے بھی حکمران آئے، انہوں نے حصولِ اقتدار کے لیے نفاذِ اسلام اور عوام کی فلاح وبہبود کے نعرے ضرور لگائے، مگر اقتدار ملنے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے مظلوم اسلام اور مظلوم عوام پر ہی تیشہ زنی کی مشقِ ناز فرمائی۔
ہمارے حکمرانوں کے نزدیک جو بات مغرب سے آئے چاہے سمجھ میں آئے یا نہ آئے، اس پر عمل کرنا اپنے لیے سعادت اور باعثِ فخر وابتہاج سمجھتے ہیں، حالانکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہماری کامیابیوں اور کامرانیوں کے لیے اسلام جیسی دولت ہمیں عطا فرمائی، جس میں زندگی کے تمام مراحل اور تمام معاملات کا حل موجود ہے۔
قرآن کریم نے اقتصاد اور معیشت کی کامیابی کے لیے سود کو حرام قراردیا ہے، اس کی حرمت نصِ قطعی سے ثابت ہے، قرآن کریم ، سنتِ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  اور فقہائے امت کی واضح نصوص اس پر شاہد ہیں۔ سود، سودی نظام اور سود خوروں کے نتائج وعواقب کو قرآن کریم میں جس تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، اس کے لیے درج ذیل آیات ملاحظہ ہوں:
’’اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَایَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَـمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ۝۰ۭ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْٓا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا۝۰ۘ وَاَحَلَّ اللہ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۝۰ۭ فَمَنْ جَاۗءَہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ فَانْــتَہٰى فَلَہٗ مَا سَلَـفَ۝۰ۭ وَاَمْرُہٗٓ اِلَى اللہ۝۰ۭ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰۗىِٕکَ اَصْحٰبُ النَّارِ۝۰ۚ ھُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ ۝  یَمْحَقُ اللہ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ۝۰ۭ وَاللہ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیْمٍ ۝ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝۰ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۝ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہ وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۝ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہ وَرَسُوْلِہٖ۝۰ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِکُمْ۝۰ۚ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ ۝‘‘                             (البقرۃ:۲۷۵-۲۷۹)
’’ جو لوگ کھاتے ہیں سود وہ نہیں اُٹھیں گے قیامت کو مگر جس طرح اُٹھتا ہے وہ شخص کہ جس کے حواس کھو دیئے ہوں شیطان کے چھونے کی وجہ سے۔ انہوں نے کہا کہ سوداگری بھی تو ایسی ہی ہے جیسے سود لینا، حالانکہ اللہ نے حلال کیا ہے سوداگری کو اور حرام کیا ہے سود کو ۔ پھر جس کو پہنچی نصیحت اپنے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا تو اس کے واسطے ہے جو پہلے ہوچکا اور معاملہ اس کا اللہ کے حوالہ ہے اور جو کوئی پھر سود لیوے تو وہی لوگ ہیں دوزخ والے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو ، اور اللہ خوش نہیں کسی ناشکر گناہ گار سے۔ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کیے اور قائم رکھا نماز کو اور دیتے رہے زکوٰۃ، ان کے لیے ہے ثواب ان کا اپنے رب کے پاس اور نہ ان کو خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو کچھ باقی رہ گیا ہے سود اگر تم کو یقین ہے اللہ کے فرمانے کا۔ پھر اگر نہیں چھوڑتے تو تیار ہو جاؤ لڑنے کو اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اگر توبہ کر تے ہو تو تمہارے واسطے ہے اصل مال تمہارا، نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ کوئی تم پر۔‘‘
ان آیات میں سود کی حرمت، قباحت، نجاست اور شناعت کو بڑی تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے۔ اور یہ بتلایا گیا ہے کہ جو شخص سود جیسی لعنت کو نہیں چھوڑتا، اس کے خلاف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی جانب سے کھلا اعلانِ جنگ ہے۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے ظاہری طور پر انگریز سے آزادی حاصل کرلی، لیکن ملکی نظم ونسق چلانے کے لیے آج تک ہمارے پاس وہی قوانین ہیں جو انگریز اپنی یادگار کے طور پر چھوڑ کر گیا ہے۔ ہم نے بظاہر ۱۹۷۳ء میں مکمل آئین اور دستور بنالیا، لیکن اس میں بھی ہمارے اشرافیہ طبقہ کا رجحان اور میلان ہمیشہ انگریزی قوانین کی طرف رہا ہے۔ 
ان قوانین میں سے ایک قانون سود کا ہے، حالانکہ یہود ونصاریٰ کے نزدیک بھی سود لینا دینا حرام ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ سود معاشی نظام کے لیے نہایت مہلک اور تباہ کن ہے، لیکن ہمارے اربابِ اقتدار انہی کی تقلید میں اتنا آگے جاچکے ہیں کہ انہی کی آنکھ سے دیکھتے اور ان کے دماغ سے سوچتے ہیں، وہ جو کچھ کہتے ہیں، یہ اس پر فوراً سرِ تسلیم خم کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان کی دیکھا دیکھی ہر جائز وناجائز کو اپنے لیے فوز وفلاح اور کلیدِ سعادت سمجھتے ہیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے سود اور اس کی تباہ کاریوں کی نشان دہی کرتے ہوئے سفارشات مرتب کیں تو انہیں خاطر میں نہیں لایا گیا۔ ۱۹۹۱ء میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں وفاقی شرعی عدالت نے سود کو غیر اسلامی قراردیا اور اپنے فیصلے میں لکھا کہ سودی نظام کو فوری ختم کیا جائے، اس لیے کہ یہ غیراسلامی، ناجائز اور حرام ہے اور اللہ تعالیٰ سے کھلی بغاوت اور اعلانِ جنگ ہے، لیکن اس وقت کے وزیراعظم جناب میاں محمد نواز شریف صاحب اور پاکستانی بینکوں نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی اور یہ کوشش کی کہ وفاقی شرعی عدالت کا یہ فیصلہ تبدیل کیا جائے۔ نواز شریف کو اس کی سزا ملی کہ ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو اقتدار سے محروم کردیئے گئے، اس کے بعد سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ۸؍ مارچ ۲۰۰۱ء تک بلاسودی اقتصادی نظام متعارف کرایا جائے، اس کے بعد پرویز مشرف نے اپنی مرضی کے جج مقرر کرکے اس فیصلہ کو بھی رکوادیا اور آج تک سود کے متعلق فیصلہ عدالتوں کی فائلوں میں کہیں دبا ہوا ہے۔
قیامِ پاکستان سے اب تک ہر دور میں علماء کرام اور دینی جماعتوں نے سود جیسی لعنت کو پاکستانی معیشت و اقتصاد سے ختم کرنے کا مطالبہ ہر حکومت اور عدلیہ سے کیا اور اب بھی عدالتوں میں ایسی کئی درخواستیں زیرِ سماعت ہیں ۔ مگر یہ ایک المیہ اور حقیقت ہے کہ پاکستان میں انسدادِ سود کی کاوشوں میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی کردار اور اس کی دوغلی پالیسی رہی ہے۔ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے تقریباً ۷۴ سال اور ۱۹۷۳ء کا آئین بننے سے اب تک تقریباً پچاس سال ہونے کو ہیں، مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی معاملات جوں کے توں چلے آرہے ہیں۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ۳۸ الف کے مطابق سود کا عملی طور پر خاتمہ حکومت کی ذمہ داری میں شامل ہے، مگر جب بھی سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے سود کو غیر قانونی اور اسلامی احکامات کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کو اس کے خاتمہ کا حکم دیا، حکومت نے ہر بار اس فیصلہ کی خلاف ورزی کی، بلکہ عمل درآمد تو کیا کرتی، خود ہی اس فیصلے کے خلاف مدعی بن گئی اور بہانہ بہانہ سے اس معاملہ کو ٹالتی رہی، حتیٰ کہ مئی ۲۰۰۲ء میں ایڈووکیٹ جنرل آف پاکستان نے اس حکومتی موقف کا اظہار کیا کہ: ’’اب حکومت ایسے علماء کی آراء سے استفادہ کرے گی جو بینک انٹرسٹ( Bank Interest ) کو ’’رِبا‘‘ نہیں سمجھتے۔‘‘ حکومتی ترجمان کے اس فرمان سے حکومت کی فاسد نیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ علماء کرام اور دینی جماعتیں اس معاملہ میں جتنا کردار ادا کرسکتی تھیں ، انہوں نے ہر دور میں کیا بھی ہے اور آئندہ بھی ان شاء اللہ کرتی رہیں گی، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت بھی اسلام اور ملک کے ساتھ مخلص ہوکر آئین کے مطابق شریعت اپیلٹ بنچ کے فاصلہ کو نافذ کرے۔ اس ملک اور اس کی عوام کو سود جیسی لعنت اور اس کے نقصانات سے بچانے کی فکر کرے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے خلاف بغاوت اور جنگ کو بند کرے۔
۲۵ ؍ربیع الثانی ۱۴۴۳ھ مطابق یکم دسمبر ۲۰۲۱ء بروز بدھ چیف جسٹس نور محمد مسکانزئی کی سربراہی میں وفاقی شرعی عدالت کے تین رکنی بنچ نے سود کے خاتمہ کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالتی معاون انور منصور نے کہا کہ آئین کے مطابق ریاست دس سال میں ہر طرح کے استحصال کے خاتمے کی پابند تھی، سود بھی استحصال کی ہی ایک قسم ہے۔ عدالتی معاون نے کہا کہ ربا کا خاتمہ ضروری ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی ہے کہ تمام قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالا جائے، قرآن وسنت سے متصادم کوئی بھی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ خبر میں ہے کہ: مشیرِخزانہ نے اعتراف کیا کہ سودی نظام سے امیر اور غریب کا فرق بڑھ گیا ہے۔ مشیرِ خزانہ نے کہا کہ: ’’سود ادا کرنے کے لیے مزید قرض لینا ہوگا۔ سودی نظام کی وجہ سے معیشت ترقی نہیں کررہی۔‘‘ آج اسی کا شاخسانہ ہے کہ ۱۹۵۷ء میں پہلا قرض ۳۷ کروڑ ڈالر لیا گیا اور آج اس قرض کا حجم بڑھ کر پچاس اعشاریہ ۵ کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ 
اخلاقی اعتبار سے اگر سود کے نقصانات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سود کی تباہ کاریوں سے سود لینے والے، سود دینے والے اور جس معاشرہ میں سودی کاروبار کا چلن ہوتا ہے سبھی متاثر ہوتے ہیں اور کوئی بھی اس کے اخلاقی نقصانات سے نہیں بچ سکتا، چنانچہ اس کی وجہ سے سود لینے والوں کے اندر سے اپنے بھائیوں کے ساتھ ہمدردی، محبت، ایثار اور دسرے انسانوں کا اللہ کی رضا کے لیے تعاون کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔ سود خوروں کو اس سے سودی قرض لینے والے غریبوں کے دکھ درد، مجبوریوں اور پریشانیوں کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ اسی طرح سودی قرض لینے والوں کے دل بھی اس کی نحوست سے ایمان داری، سچائی، وفاداری اور احسان شناسی کے اوصافِ حمیدہ سے خالی ہوجاتے ہیں اور ان کے اندر بے ایمانی، کذب بیانی، بے وفائی اور احسان فراموشی جیسے اوصافِ خبیثہ پیدا ہوجاتے ہیں۔
یہ سودی قرضوں کا اثر ہے کہ مسلم حکمران اپنے آقاؤں کے حکم پر دینی تحریکوں کو کچلتے، دینی واخلاقی لٹریچر پر پابندی لگاتے اور فحش لٹریچر کی اشاعت کرتے اور اجازت دیتے ہیں اور طلبہ وعلماء کرام سمیت دینی طبقہ کی شہادتیں ہوتی ہیں۔ یہ اسی سود کا ہی نتیجہ ہے کہ دینی اداروں اور مساجد ومدارس بنانے پر پابندیاں اور ہندؤوں کے مندر اور سکھوں کے گردوارے قومی سرمائے سے بنائے جاتے ہیں۔ دینی مدارس پر پابندیاں ، لیکن یہود ونصاریٰ کی خواہشوں اور سازشوں کے مطابق سرکاری قومی نصاب میں آئے روز تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ ان میں مخلوط تعلیم ، اسکول کے طلبہ وطالبات کے لیے جنسی تعلیم کو لازم قرار دیا جارہا ہے، جس سے اخلاق وحیا اور عفت وپاکدامنی کا جنازہ نکل رہا ہے۔ 
میڈیا اور اخبارات کے حوالہ سے یہ رپورٹ آئی ہے کہ پاکستان پر واجب الاداء قرض بمع سود پچاس اعشاریہ پانچ کھرب ڈالر سے متجاوز ہوچکا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس طرح ہر پاکستانی دو لاکھ پینتیس ہزار روپے کا مقروض ہے۔ گزشتہ حکومتوں نے جو قرض دس سالوں میں لیا تھا، موجودہ حکومت نے اتنا قرض صرف تین سالوں میں لیا ہے۔ حکومت ماضی کی ہو یا حال اور مستقبل کی، جب بھی کوئی حکومت قرض لیتی ہے، اس کے قرض اور اس پر لگنے والے سود دونوں کا بوجھ عوام پر ہی پڑتا ہے اور عوام بجلی، گیس، پٹرول اور دوسرے ٹیکسیز کے علاوہ مختلف روزمرہ کی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کی صورت میں اُسے بھگتتی اور ادا کرتی ہے۔
پاکستان پر آج جتنا قرض چڑھ چکا ہے، اس میں اصل قرض سے کہیں زیادہ وہ سود ہے جو اس دیئے گئے قرض پر سال بہ سال بڑھ رہا ہے، بلکہ آج تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اس سودی قسط کو ادا کرنے کے لیے مزید سود پر قرض لیا جاتا ہے اور قرض دینے والے ادارے اپنی من مانی شرائط لگاتے ہیں، جیسے حالیہ اقتصادی بحران میں ہماری گورنمنٹ آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوئے ان کی من مانی شرائط پر قرض لینے پر مجبور نظر آتی ہے۔ آئی ایم ایف کا آرڈر آتا ہے ، ادھر بجلی کا نرخ بڑھادیا جاتا ہے، کبھی گیس مہنگی کردی جاتی ہے، کبھی پٹرول کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں، کبھی دوسرے ٹیکسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ عوام ہے کہ اسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ یہ سب نحوست ہے اس سود کی جس کو قرآن کریم سوا چودہ سو سال پہلے حرام قرار دے چکا ہے اور بتاچکا ہے کہ: ’’اَحَلَّ اللہ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا‘‘ ... ’’حالانکہ اللہ نے حلال کیا ہے سوداگری کو اور حرام کیا ہے سود کو ۔‘‘اور کہہ چکا ہے کہ : ’’یَمْحَقُ اللہ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ‘‘...’’مٹاتا ہے اللہ سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو۔‘‘
سود ہمیشہ اجتماعی معیشت میں دولت کے بہاؤ کو ناداروں سے مال داروں کی طرف پھیردیتا ہے، حالانکہ اجتماعی فلاح کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مال داروں سے ناداروں کی طرف جاری ہو۔ ظاہر ہے کہ کوئی تاجر، زمین دار اور صنعت کار اپنی گرہ سے سود ادا نہیں کرتا،جو اسے سرمایہ دار کو دینا ہوتا ہے، وہ سب اس بار کو اپنے اپنے مال کی قیمتوں میں ڈالتے ہیں اور اس طرح عام لوگوں سے پیسہ پیسہ چندہ اکٹھا کرکے لکھ پتیوں اور کروڑ پتیوں کی جھولی میں پھینکتے رہتے ہیں۔
دیکھیے! جو مسلمان اپنے دینِ اسلام کی بات نہیں مانتے، قرآن وسنت کے احکامات پر عمل نہیں کرتے اور ہر معاملہ میں یہود ونصاریٰ سمیت کفار کی تقلید کرنے کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی فہمائش اور عبرت کی غرض سے یہودیوں کے بارے میں فرمایا ہے، ان یہودیوں نے جن کے اوپر اُن کی شریعت میں سود کو حرام قرار دیا گیا تھا اور اس کی مخالفت کی پاداش میں انہیں بہت سی پاکیزہ اور عمدہ چیزوں اور نعمتوں سے محروم کر دیا گیا، جیسا کہ اللہ رب العالمین نے فرمایا:
’’فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَہُمْ وَبِصَدِّہِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللہ کَثِیْرًا وَاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْہُ وَاَکْلِہِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِل۔‘‘ (النساء:۱۶۰-۱۶۱)
’’ سو یہود کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے حرام کیں ان پر بہت سی پاک چیزیں جو اُن پر حلال تھیں اور اس وجہ سے کہ روکتے تھے اللہ کی راہ سے بہت، اور اس وجہ سے کہ سود لیتے تھے اور ان کو اس کی ممانعت ہو چکی تھی اور اس وجہ سے کہ لوگوں کا مال کھاتے تھے ناحق ۔ ‘‘
انہی یہودیوں نے دنیا کے اقتصاد اور حکمرانوںکو اپنے کنٹرول میں کرنے ، پوری دنیا پراپنادبدبہ وغلبہ قائم کرنے اور جب چاہیں دوسرے ممالک اور خاص طور سے جن سے ان کی عداوت اور دشمنی ہو کے اقتصاد کو تہ و بالا کرنے کے لیے یہ سودی نظام رائج کیا اور دنیا پر اس کو اس طرح مسلط کیا کہ لوگوں کے لیے اس سے نجات اور بلاسود لیے کوئی بڑا کاروبار کرنا مشکل ہوگیا ہے ، یہودی پروٹوکولز میں ہے:
’’ہماری انتظامیہ کو ماہرینِ معیشت کی بہت بڑی تعداد کی خدمات میسر ہوں گی ، یا یہ کہہ لیجئے کہ وہ ماہرینِ اقتصادیات سے گھری ہوئی ہوگی، یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کو دی جانے والی تعلیم میں اقتصادی سائنس کو ایک اہم مضمون کی حیثیت حاصل ہے، ہمارے چاروں طرف بنکاروں ، صنعت کاروں ، سرمایہ کاروں اور کروڑ پتیوں کا ایک مجمع ہوگا، ہمیں ان کی خدمات بہت سے کاموں کے لیے درکار ہوں گی، کیونکہ ہم ہر مسئلے کا فیصلہ اعدادوشمار کی روشنی میں کرتے ہیں۔وہ وقت بہت قریب ہے جب ہماری مملکتوں کے کلیدی عہدوں پر ہمارے یہودی بھائی تعینات ہوں گے، ان کی تقرریوں میں نہ کوئی رکاوٹ ہوگی اور نہ کوئی خطرہ ہوگا، لیکن وہ وقت آنے تک ہم معاملات کی باگ دوڑ ایسے لوگوں کو دیں گے جن کا ماضی اور حال یہ ثابت کر سکے کہ ان کے اور عوام کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہے۔ ہماری ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں سخت الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا، یا پھر شرم و ندامت کی وجہ سے خودکشی کیے بغیر کوئی چارہ نہ ہوگا ۔ اس طریقہ کار سے دوسرے لوگوں کو نا فرمانی کرنے والوں کے انجام سے سبق ملا کرے گا اور وہ آخری وقت تک ہمارے مفاد کے لیے کام کرنے پر مجبور ہوں گے۔‘‘             (یہودی پروٹوکولز ، ص:۱۳۳) 
سودی نظام کی بنا پر پوری قوم کو ناکارہ، بے غیرت اور بے دین بنایا جارہا ہے۔ شنید ہے کہ آئی ایم ایف نے ایک ارب ڈالر قرض کے بدلہ میں اب یہ شرط رکھ دی ہے کہ ’’پاکستان اسٹیٹ بینک‘‘ کا کنٹرول ہمارے ہاتھ میں دیا جائے اور ہم سے پاکستان کا کوئی ادارہ مقننہ ہو یا عدلیہ کوئی باز پرس نہیں کرسکتا۔ اگر ایسا ہے تو آپ بتائیے پاکستان کی آزادی کہاں گئی؟ گویا اس صورت میں ہماری تمام اقتصاد پر قبضہ اُنہیں کا ہوگا اور خدانخواستہ پاکستان کو اتنا نیچے لے جائیں گے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہ کہیں گے کہ تم دیوالیہ ہوچکے ہو، لہٰذا تمہارا جو ایٹم بم ہے وہ تم نہیں سنبھال سکتے، لہٰذا وہ ہمارے حوالہ کردو، اس وقت حکومت کے پاس کیا جواب ہوگا؟!
خدارا آنکھیں کھولیں اور اتنا زیادہ قرضوں پر انحصار نہ کریں کہ ہماری خودمختاری داؤ پر لگ جائے۔ اگر حکومتِ پاکستان اور اس کے ماہرینِ اقتصادیات عقل وشعور، احساسِ ذمہ داری، سلیقہ مندی اور فرض شناسی سے کام لیں تو انہیں چاہیے کہ آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کی بجائے آج تک ۷۴؍سالوں میں جتنے لوگوں نے بینکوں کے ذریعہ جتنے قرض حاصل کرکے معاف کرائے ہیں، ان سب کی فہرست بنائی جائے اور ان سے وہ تمام قرضے واپس لیے جائیں، چاہے ان کے اَثاثے ہی کیوں نہ بیچنے پڑیں۔ اسی طرح بے نظیر انکم اسکیم میں بہت سارے حاضر سروس حضرات، ان کی بیویوں اور جعلی لوگوں نے فراڈ کے ذریعہ جو رقومات حاصل کی ہیں، ان سب سے ریکوری کرکے خزانہ میں جمع کرائی جائے۔
جن لوگوں نے اس ملک میں ناجائز اثاثے بنائے ہیں، ان سب کے اثاثے بحقِ سرکار ضبط کیے جائیں، خود حکومتی کابینہ میں جو آٹا چور، چینی چور، دوائیوں کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کرکے مال بنانے والے موجود ہوں، ان سب کے اثاثے ضبط کیے جائیں۔
اسی طرح سابق چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب نے ڈیم فنڈ کے نام پر جتنے پیسے لوگوں سے اکٹھے کیے وہ سب ان سے وصول کرکے قرض کی ادائیگی میں دیئے جائیں۔ شنید ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا میں جو امداد پاکستان کو دی گئی اس کا کثیر حصہ خوردبرد ہوگیا ہے اور اس کا حساب وکتاب بھی کسی کے پاس نہیں، حکومت کو چاہیے کہ جس کی جیبوں میں یہ پیسہ گیا ہے، ان سے اسے واپس لیا جائے اور ان کو اس قومی چوری پر عبرت ناک سزا دی جائے۔ اسی طرح بے جا خرچ ہونے والی سرکاری رقوم پر کنٹرول کرکے سرکاری قرضوں کی وصولی کو یقینی بنایا جائے اور حکومتی اخراجات میں کمی کرکے پہلی فرصت میں یہ تمام قرضے اُتارے جائیں۔
ہماری حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ امریکہ اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے افغانستان سے ۲۰ سالہ طویل جنگ ہارچکا ہے، اور اس نے افغانستان میں بہت بری شکست کھائی ہے، لیکن وہ اپنی اس شکست کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا کر اُسے اقتصادی نقصان پہنچانے کا منصوبہ رکھتا ہے، ان حالات میں ہمیں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ہمارا ملک اقتصادی بحران سے بچ جائے، وما ذٰلک علی اللہ بعزیز۔
بہرحال اب بھی وقت ہے کہ ملکی معیشت کو سنبھالا دیا جائے اور سنجیدگی سے روپے کی گرتی ہوئی قدر کو روکا جائے، اس کے لیے سادگی اور کفایت شعاری کو رواج دیا جائے اور ملک وقوم کی خیرخواہی کے جذبہ کے تحت قومی خزانہ کو امانت سمجھتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔ بین الاقوامی تجارت کے لیے مسلمانوں کو ڈالر پر انحصار کرنے کے بجائے اسلامی ممالک کو اتفاقِ رائے سے الگ کوئی کرنسی متعین کرنی چاہیے، اور ان سب سے بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ اللہ کے حضور توبہ کرکے ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے اعلان کے ساتھ ساتھ ملک کو سود سے پاک کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔ ان اقدامات سے ان شاء اللہ ! اللہ تعالیٰ کی مدد آئے گی اور دشمنوں کے عزائم خاک میں ملیں گے۔

وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد و علٰی آلہٖ و صحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے