بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ذو الحجة 1445ھ 15 جون 2024 ء

بینات

 
 

نقدونظر (تبصرہ وتعارفِ کتب)

نقدونظر (تبصرہ وتعارفِ کتب)


امام اعظم ابوحنیفہؒ ۔۔۔۔ شہیدِ اہلِ بیتؓ

مؤلف:ـ مفتی ابوالحسن شریف اللہ الکوثری۔ صفحات: ۱۷۶۔ طباعتـ: سوم ۔ زیرِ اہتمام: سید زید الحسینی۔ ملنے کا پتا: مکتبہ سید نفیس الحسینی لاہور، خانقاہ سید احمد شہیدؒ، سگیاں پل، الجنت روڈ، اور نفیس منزل، کریم پارک ، راوی روڈ، لاہور۔ رابطہ نمبر: 0321-4791991
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  کے سوانح اور فضائل و مناقب پر شمار کتابیں لکھی گئی ہیں، زیرِ نظر کتاب بھی اسی موضوع پر ایک اچھوتی کاوش ہے، جو آپؒ کی زندگی کے اس پہلو کو اُجاگر کرتی ہے جب آپ عَلَمِ جہاد کے علمبردار تھے۔ آپؒ کی زندگی میں ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کے دو مواقع پیش آئے، ایک اس وقت جب ہشام بن عبدالملک کے خلاف حضرت امام زید بن علی زین العابدین بن امام حسین  رضی اللہ عنہم  نے خروج کیا، اور دوسرا اس وقت جب ابوجعفر منصور عباسی کے سامنے حضرت امام ذوالنفس الزکیہ محمد بن عبداللہ بن حسن بن امام حسن اور ان کے بھائی حضرت ابراہیم حسنی رضی اللہ عنہم  نے عَلَمِ بغاوت بلند کیا۔ 
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے ان دونوں مواقع پر ائمہ سادات کے ساتھ مالی تعاون بھی کیا اور اپنے حلقۂ درس میں اُن کے حق پر ہونے کی گواہی بھی دی، جب اس بات کی خبر عباسی بادشاہ ابوجعفر منصور کو ہوئی تو اس نے آپؒ کو اپنا موافق بنانے کے لیے عہدۂ قضا کی پیشکش کی، لیکن آپؒ نے انکار فرمادیا، جس پر طیش میں آکر اس نے آپؒ کو زندان میں ڈلوادیا اور وہیں آپؒ کو زہردے کر شہید کرادیا۔ 
حضرت امام اعظمؒ کے اس عمل کی وجہ سے آپ کو ’’شہیدِ اہل بیتؓ‘‘ کہا گیا ہے کہ آپ نے ائمہ اہلِ بیت اطہارؓ کی محبت و نصرت میں جان ، جانِ آفریں کے سپرد کردی۔
زیرِ تبصرہ کتاب میں آپؒ کی زندگی کے اس پہلو پر اُمہات الکتب و بنیادی مآخذکے حوالہ جات کی روشنی میں مفصل کلام کیا گیا ہے۔ کتاب کے شروع میں حضرات اہلِ بیت اطہارؓ کے فضائل و مناقب اور صحابہ کرامؓ و اہلِ بیتؓ کے درمیان مثالی تعلقات پر ضروری مواد شامل ہے۔ اس کے بعد امام اعظمؒ کی ولادت سے شہادت تک وہ تمام ضروری مواد اکٹھا کردیا گیا ہے، جو آپؒ کو بلاشبہ ’’شہیدِ اہل بیتؓ‘‘ کا مصداق ٹھہراتا ہے۔ 
یہ کتاب عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے سابق نائب امیر مرکزیہ، خانقاہ رائے پور کے گل سرسبد سید السادات حضرت اقدس مولانا سید نفیس الحسینی شاہ نوراللہ مرقدہٗ کی فکر کا نتیجہ ہے، جب کہ اس پر عالمی مجلس مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے امیرِ مرکزیہ ہفتم شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒاور ماہنامہ بینات کے مدیر حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدؒ کی تائید اُن کی تقریظات کی صورت میں ثبت ہے۔
 اللہ تعالیٰ مؤلف کو اس کاوش پر جزائے خیر عطا فرمائے اور ہم سب کو آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ کے اہلِ بیت اطہارؓ اور صحابۂ کرامؓ کی محبت و اُلفت میں موت نصیب فرمائے، آمین!

مسنون استخارہ (اہمیت-طریقہ-وضاحت طلب امور) 

ترتیب: مولانا محمد شفیق الرحمٰن علوی۔ صفحات:۸۔ طباعت: 2 کلر ۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: مکتبہ علوی، کراچی۔ رابطہ نمبر: 0335-2102186
استخارہ ایک مسنون عمل ہے،  استخارہ کا مطلب اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی کی درخواست ہے۔ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشادِ گرامی ہے:’’ جب تم میں سے کسی کو کوئی کام درپیش ہو تو فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نماز (نفل) پڑھ لے۔‘‘ (صحیح البخاری) اللہ تعالیٰ سے امید رکھنی چاہیے کہ استخارہ کے بعد وہی معاملہ ہوگا جو استخارہ کرنے والے کے حق میں انجام کے اعتبار سے بہتر ہوگا، ان شاء اللہ ۔ استخارہ ایک ایسا عمل ہے جس سے ہر مسلمان کا اکثر وبیشتر واسطہ پڑتا ہے۔زیرِتبصرہ کتابچہ میں استخارہ کا مفہوم اور مقصد، اہمیت ، مسنون طریقہ، استخارہ کی دعا، مختصر استخارے کا مسنون طریقہ اور دعا اور استخارے سے متعلق چند ضروری وضاحتیں اور استخارے سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ جیسے موضوعات اختصار کے ساتھ درج کیے گئے ہیں ۔ 
زیرِتبصرہ کتابچہ مختصر اور جیبی سائز میں دو رنگہ طباعت سے مزیّن ہے، استخارہ کے موضوع پر ضروری مباحث کو اختصار کے ساتھ سمیٹے ہوئے یہ کتابچہ عوام الناس کی رہنمائی اور استخارہ کے مسنون طریقہ کی ترویج واشاعت کے لیے بہترین ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کا نفع عام فرمائے اور مسلمانوں کو اپنے ہر معاملہ میں اس سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

فتنۂ انکارِ حدیث

علامہ محمد ایوب دہلویؒ۔ صفحات: ۸۰۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشرـ: مدنی کتب خانہ، مدنی منزل، آر ۷۹۹، سیکٹر ۱۶- اے، بفرزون، نارتھ ناظم آباد، کراچی۔ رابطہ نمبر: 0323-2945381
قرآن کریم کے بعد احادیثِ نبویہ، دینِ اسلام کا دوسرا ماخذاور وحیِ الٰہی ہی کی ایک صورت ہے۔ احادیثِ نبویہ آیتِ قرآنی ’’تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئیٍ‘‘ کی عملی شکل اور قرآن کریم کی تفسیر و توضیح ہے۔ بدقسمتی سے امت میں ایک طبقہ ایسا پیدا ہوگیا جو قرآن کریم کا انکار نہیں کرسکا تو اس نے احادیثِ نبویہ کو اپنےنشانے پر رکھ لیا اور اس کے وحیِ الٰہی ہونے اور اُمتِ مسلمہ کے لیے قابلِ احتجاج ہونے سے منکر ہوگیا۔ وطنِ عزیز پاکستان میں مسٹر غلام احمد پرویز اور اس کی ذریت نے اس شجرئہ خبیثہ کو پروان چڑھایا۔ زیر ِنظر کتاب میں مؤلف محترم نے دلائل و براہین کی روشنی میں اس فتنے کے تار و پود بکھیر دیے ہیں۔ 
کتاب اپنے اختصار کے باوجود زیرِ نظر آٹھ عنوانات کے تحت مکمل و مدلل مواد پر مشتمل ہے: 
۱-وحی کی کتنی صورتیں ہیں اور کیا کتابِ الٰہی کے علاوہ بھی وحی ہوسکتی ہے؟ ۲-حدیثِ رسول فی نفسہٖ دین میں حجت ہے یا نہیں؟ ۳-احادیثِ رسول کا جو معتبر مجموعہ ہمارے پاس ہے ، وہ یقینی ہے یا ظنی؟ ۴- ظنِ شرعی حجت ہے یا نہیں؟ ۵- احادیثِ مسلَّمہ واجب العمل ہیں یا نہیں؟ ۶-منکرینِ حدیث کے جوابات، ۷-منکرینِ حدیث کے ترجمے کی غلطی،اور ۸- طلوعِ اسلام (جون، ۱۹۵۷ء) کے باب المرسلات کے جوابات!
 اللہ تعالیٰ مؤلف کی اس کاوش کے ذریعے انکارِ حدیث کے مرض میں مبتلا مریضوں کو اس ایمان کش مرض سے نجات عطا فرمائے، آمین!

الشہاب الثاقب 
 

مؤلف:ـ شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی قدس سرہٗ۔ صفحات: ۱۴۴۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشرـ: مدنی کتب خانہ، مدنی منزل، آر ۷۹۹، سیکٹر ۱۶- اے، بفرزون، نارتھ ناظم آباد، کراچی۔ رابطہ نمبر: 0323-2945381
اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اکابرین دیوبند سے دین کی تجدیدو اصلاح کا جو کام لیا ہے، وہ شہرئہ آفاق ہے۔ ان خدا منش درویشوں نے جس للہیت و اخلاص کے ساتھ بندگانِ خدا کو خدائے تعالیٰ کے ساتھ جوڑا ہے، اس نے دورِ صحابہؓ کی یاد تازہ کردی۔ مگر وائے افسوس! کہ ان کی ان خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کرنے کی بجائے اسے مسلکی تعصب کی عینک لگاکر دیکھا گیا اور دنیا کو ان سے متنفرکرنے کی کوشش کی گئی، مولوی احمد رضا خان صاحب نے اسی جذبے سے مغلوب ہوکر علمائے دیوبند کی عبارات میں قطع و برید کرکے انہیں علمائے حرمین کے سامنے پیش کیا اور ان سے علمائے دیوبند کی تضلیل و تکفیر کا فتویٰ حاصل کرنے کی کوشش کی، چونکہ علمائے حرمین اصل صورت حال سے واقف نہیں تھے، اس لیے شیخ الاسلام والمسلمین شیخ العرب والعجم حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہٗ جو اس وقت مدینہ منورہ میں تدریسِ علومِ نبوت میں مشغول تھے، نے علمائے حرمین کے سامنے صورت حال واضح کی اور اکابرین کی اصل عبارات پیش فرمائیں تو انہوں نے علمائے دیوبند کے مسلک کی تائید فرمائی۔
 اس کی تمام تر تفصیلات حضرت مدنی قدس سرہٗ نے اپنی کتاب ’’ الشہاب الثاقب‘‘ میں درج فرمادی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ فاضل بریلوی کے بانی دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام حضرت اقدس مولانا محمد قاسم نانوتوی، فقیہ النفس حضرت اقدس مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت اقدس مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ اسرارہم کی عبارات پر اعتراضات کے جوابات اور ان کی وضاحت فرمادی ہے۔
یہ کتاب بارہا شائع ہوچکی ہے، مدنی کتب خانہ نے حال ہی میں دوبارہ شائع کی ہے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین