بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

بینات

 
 

مدینہ منورہ کے ایک نامور محدث کی رحلت حضرت مولانا حبیب اللہ قربان مظاہری رحمہ اللہ 

مدینہ منورہ کے ایک نامور محدث کی رحلت
حضرت مولانا حبیب اللہ قربان مظاہری رحمہ اللہ 

(۱۳۶۳ھ-۱۴۴۱ھ) = (1943ء- 2020ء)

 

۱۹ رجب ۱۴۴۱ھ مطابق ۱۴ مارچ ۲۰۲۰ء کو حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی مہاجر مدنی رحمہ اللہ کے خادمِ خاص وشاگردِ رشید حضرت مولانا حبیب اللہ بن قربان علی مظاہری مہاجر مدنی رحمہ اللہ ، مدینہ منورہ میں زندگی کی اٹھہتر بہاریں دیکھ کر راہیِ سفرِ آخرت ہوگئے۔ 

تعلیم وتربیت

حضرت مولانا رحمہ اللہ ہندوستان کے شمال میں واقع صوبہ ’’بہار‘‘ کے شہر ’’چمپارن‘‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم علاقہ کی سرکاری تعلیم گاہ اور مقامی دینی درس گاہ میں حاصل کرنے کے بعد ’’سہارن پور‘‘ تشریف لے گئے اور جامعہ مظاہر علوم سہارن پور سے ۱۳۹۰ھ میں درسِ نظامی کی تکمیل کی، ان کے اساتذۂ حدیث مولانا محمد یونس جون پوری (صحیح بخاری، صحیح مسلم اور موطأ مالک بروایتِ امام محمد رحمہ اللہ )، مفتی مظفر حسین (سنن ترمذی، شمائل ترمذی اور عللِ صغیر) ، مفتی محمد یحییٰ رحمہم اللہ اور مولانا سید محمد عاقل مدظلہم (سنن أبی داود، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ اور موطأ مالک بروایتِ امام یحییٰ لیثی رحمہ اللہ ) نمایاں ہیں۔ دورانِ تعلیم اور حرمین شریفین کے اسفار میں حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ کی مجلسوں کے حاضر باش رہے، رمضان سنہ ۱۴۳۹ھ کے آخری عشرہ میں مولانا رحمہ اللہ سے ملاقات ہوئی تو اس موقع پر خود فرمایا:
’’میں حضرت شیخ رحمہ اللہ کے درسِ بخاری میں کافیہ سے جلالین تک چار سال شریک رہا ہوں، شیخ کا ہی نام سن کر سہارن پور پہنچا تھا، داخلہ کے بعد میں تو ’’ہدایۃ النحو‘‘ اور ’’نور الإیضاح‘‘ وغیرہ پڑھتا تھا، لیکن بھاگ کر جاتا اور حضرت شیخ کے درسِ بخاری میں اہتمام سے شریک ہوتا تھا، حالانکہ جب میں ’’کافیہ‘‘ میں داخل ہوا تو میری عمر گیارہ سال تھی، لیکن غور سے سنتا تھا، اور اس ڈر سے پیچھے چھپ کر بیٹھتا تھا کہ شیخ یہ نہ پوچھ لیں: یہ چھوٹا سا لڑکا کون بیٹھا ہے؟ اور یہ بھی مجھے یاد ہے کہ کس حدیث پر شیخ نے کیا فرمایا تھا؟ شاید ان بخاری پڑھنے والوں کو یاد نہ ہو، لیکن مجھے یاد ہے۔ ‘‘
فراغت کے بعد حضرت شیخ رحمہ اللہ کی خدمت کے زمانہ میں دیگر امور کے ساتھ شیخ کی جانب سے خط وکتابت کی ذمہ داری مولانا رحمہ اللہ کے ذمہ ہوتی تھی، حضرت شیخ کی آپ بیتی اور مکاتیب کے مختلف مجموعوں کے آخر میں جابجابقلم حبیب اللہ کا مصداق مولانا ہی تھے، ایک نجی مجلس میں مولانا نے فرمایا: 
’’حضرت شیخ رحمہ اللہ کی خدمت میں رہتے ہوئے بارہ برسوں میں لگ بھگ پچاس ہزار خطوط تو لکھے ہوں گے، ان خطوط کی مختلف نوعیتیں ہوتی تھیں، حضرت شیخ تمام ڈاک سنتے تھے، پھر بعض خطوط کا جواب لکھنا میرے ذمہ فرمادیتے تھے، بعض کے متعلق مجھے کچھ اشارات بیان فرماتے اور میں ان کا مضمون مرتب کرلیتا تھا، اکثر خطوط ان دو قسموں کے ہوتے تھے، جبکہ کچھ ایسے خالص علمی خطوط ہوتے تھے، جن کے جوابات حضرت املا کرواتے تھے اور بعض اوقات یہ جوابات مفصل اور کئی کئی صفحات پر مشتمل ہوتے تھے۔ ‘‘
بہرکیف اس دورانیے میں حضرت شیخ رحمہ اللہ کی صحبت سے خوب علمی و روحانی فیض حاصل کیا، شیخ کی رحلت کی بعد مولانا‘ مدینہ منورہ میں ہی مقیم ہوگئے اور ابتدائی دور میں ’’مکتبۃالإیمان‘‘ کی مشغولیت رہی، لیکن بعد ازاں خود کو صرف کتبِ حدیث پڑھنے پڑھانے اور علومِ حدیث کے مطالعہ وتحقیق کے لیے یکسو کرلیا، اس طویل قیام کے دوران ایک سال حضرت شیخ رحمہ اللہ کے خلیفہ، مولانا محمد یحییٰ مدنی رحمہ اللہ کی دعوت پر کراچی میں ان کے ادارے ’’معہد الخلیل الإسلامي‘‘ میں تدریسِ حدیث کے لیے تشریف لائے تھے، اس کے علاوہ مختلف اداروں کی جانب سے مشیختِ حدیث کی دعوتوں کے باوجود مدینہ منورہ میں قیام کو ترجیح دی اور دیارِ حبیب میں ہی عالمِ عرب ودیگر مسلم ممالک کے اہلِ علم وطلبائے علم ان سے حدیث پڑھتے اور مولانا اجازتِ حدیث سے نوازتے رہے۔ ان اہلِ علم میں شیخ حامد اکرم بخاری (مدرسِ مسجدِ نبوی)، شیخ احمد عاشور، ڈاکٹر حمزہ بکری، شیخ وائل حنبلی، شیخ عبد الرحمن نمنکانی اور شیخ حسین شکری حفظہم اللہ وغیرہ نمایاں ہیں۔

عرب علماء کی نظر میں

۱:- شامی محدث اور محقق عالم، شیخ عبدالفتاح ابوغدہ رحمہ اللہ کے شاگرد، شیخ مجد مکی حفظہ اللہ (حال مقیم قطر) کا مولانا سے قدیم تعلق رہا ہے، شیخ مجد نے لکھا ہے:
’’شیخ حبیب اللہ قربان کے ساتھ میرا تعارف رمضان سنہ ۱۴۰۰ء میں مکہ مکرمہ میں سکونت پذیر ہونے کے بعد ہوا، مدینہ منورہ میں محدث محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کی مجلس میں شیخ سے بھی ملاقات رہتی تھی، اس دور میں مدینہ منورہ کا ’’مکتبۃ الإیمان‘‘ جب شیخ کے ہاتھ آیا تو ہمارا تعلق مزید مستحکم ہوگیا، ’’مکتبۃ الإیمان‘‘ اس زمانے میں مدینہ منورہ کے اہم کتب خانوں شمار ہوتا تھا، جہاں مختلف ممالک کی مطبوعات مہیا ہوتی تھیں، میں کتب خانہ میں وقتاً فوقتاً مولانا سے ملتا، شیخ بکثرت اللہ عزوجل کا ذکر کرتے تھے، زبان یادِ الٰہی سے تر رہتی، خرید وفروخت میں نرم خُو تھے، میں اس دورانیہ میں بیروت کے مشہور کتب خانے ’’دار البشائر الإسلامیۃ‘‘ کی جانب سے مدینہ منورہ میں وکیل تھا، جب کبھی شیخ سے کتابوں کی خرید وفروخت کا معاملہ ہوتا تو شیخ ادائیگی طے شدہ وقت پر فرماتے تھے۔ اس دوران شیخ کی معیت میں بہت سے مشائخ سے حرمین میں ملاقاتیں رہی ہیں۔ ‘‘
۲:- شیخ ابوغدہ رحمہ اللہ کے ہی ایک اور شاگرد ڈاکٹر ماجد درویش حفظہ اللہ(طرابلس، لبنان) لکھتے ہیں:
’’ایک بار سنہ ۱۹۹۵ء میں، میں نے شیخ حبیب اللہ رحمہ اللہ سے اپنے شیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ کی کتاب ’’أثر الحدیث الشریف فی اختلاف الفقہاء ‘‘ کے نسخے خریدے، جب شیخ کو علم ہوا کہ میں اپنے طلبا کے لیے یہ نسخے خرید رہا ہوں تو انہوں نے ان کتب کی قیمت وصول کرنے سے انکار کردیا اور اپنی طرف سے بطورِ ہدیہ کتابیں مرحمت فرمائیں۔ ‘‘
۳:-- فلسطینی عالم استاذ سالم حفظہ اللہ، مولانا رحمہ اللہ کے شاگرد رہے ہیں، مدینہ منورہ میں قیام کے دوران مولانا کی مجلسوں میں حاضر ہوکر استفادہ کرتے تھے، مولانا کی اتباع میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے تبرک کی نیت سے اپنے بیٹے کا نام بھی ’’حبیب اللہ‘‘ رکھا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے :
’’ ایک بار میں نے مولانا سے حافظ ذہبی رحمہ اللہ کے علمی مقام کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا: ’’امام ابن حبان رحمہ اللہ ، حافظ ذہبی رحمہ اللہ سے بڑے محقق ومدقق تھے، حافظ متسرّع ہیں۔ ‘‘
ان کے بقول مولانا فرماتے تھے:
’’تصوف خوابوں کا نہیں، عمل کا نام ہے، بہت سے لوگ خوابوں سے دھوکہ کھاتے ہیں اور یوں شیطان کا کھلواڑ بن جاتے ہیں۔ ‘‘
انہی کی روایت ہے کہ مولانا رحمہ اللہ فرماتے تھے:
’’اگر کسی شخص کو کوئی مربی شیخ نہ ملے تو وہ روزانہ اہتمام سے روزانہ ایک ہزار بار درود شریف پڑھے، اللہ تعالیٰ اسے سیدھی راہ پر گامزن رکھیں گے اور آسانی سے مربی تک پہنچ ہوجائے گی۔ ‘‘
۴:- شامی محقق ڈاکٹر حمزہ بکری حفظہ اللہ (حال مقیم ترکی) کا مولانا رحمہ اللہ کے ساتھ رجب ۱۴۲۷ھ سے تعلق رہا ہے، انہوں نے مولانا سے ’’موطأ إمام مالک‘‘ بروایتِ یحییٰ لیثی رحمہ اللہ دس روز میں پڑھی، اس کے علاوہ کئی کتبِ حدیث پڑھیں اور اجازتِ عامہ حاصل کی ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’(۱۴۲۷ھ کی مجلسوں میں) شیخ نے میرے لیے یومیہ دو گھنٹہ مخصوص کر رکھے تھے، نویں دن میں نے بتایا کہ کل میرا مکہ مکرمہ کا سفر ہے، جبکہ کتاب ابھی ختم نہیں ہوئی۔ شیخ نے فرمایا کہ کل صبح چھے بجے آجانا؛ تاکہ نمازِ ظہر سے قبل ہم کتاب پوری کرلیں؛ کیونکہ ظہر کے فوراً بعد میرا سفر تھا، اگلے روز میں چھے بج کر پانچ منٹ پر پہنچا تو دروازہ کھولتے ہی شیخ نے عتاب آمیز مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا: کیا یہ چھے بجے کا وقت ہے؟ پھر الحمد للہ اسی روز ظہر سے پہلے ہماری کتاب مکمل ہوگئی۔ 
اگلے برس ۱۴۲۸ھ میں، میں نے شیخ سے ’’کتاب الآثار‘‘ بروایت امام محمد بن حسن رحمہ اللہ پڑھی اور تعلق مزید مضبوط ہوگیا، شعبان ۱۴۳۱ھ امام ترمذی رحمہ اللہ کی ’’الشمائل المحمدیۃ‘‘ پڑھی اور ۱۴۳۴ھ میں کتبِ ستہ کے اوائل سے لگ بھگ بیس احادیث پڑھیں۔ بس یہی ہماری آخری ملاقات تھی۔ 
شیخ رحمہ اللہ نہایت متواضع، بااخلاق اور مربی تھے، وعدے کے پابند تھے، زمینی فرش پر بیٹھتے، ارد گرد کتابیں ہوتیں، اطراف سے آنے والے طلبائے علم کو کتبِ حدیث پڑھانے میں دن گزارتے، وقت ملتا تو کسی کتاب کے مطالعہ، کسی مسئلہ کی تحقیق یا کسی حدیث کی تحقیق میں مصروف رہتے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قوی حافظہ عطا فرمایا تھا، جب میں ان کے سامنے کوئی کتاب پڑھ رہا ہوتا تو خواہ لغوی ولفظی غلطی ہوتی یا راویوں کے ناموں میں، شیخ اپنے حافظہ کی مدد سے تصحیح فرمادیتے، میں جب تک (عبارت) صحیح پڑھتا جاتا خاموش رہتے، حالانکہ ان کے علم میں ایسے فوائد تھے کہ ہر حدیث کی تشریح وتوضیح پر گفتگو کرسکتے تھے، البتہ بعض اوقات میں خود رک کر کسی مناسبت سے کچھ پوچھتا تو شیخ اپنے کلام سے فیضیاب فرماتے۔‘‘

ذوقِ کتب

مولانا رحمہ اللہ کو کتابوں کے حصول وخریداری اور ان کے مطالعہ وتحقیق کابے حد شوق وذوق تھا، ہر وقت کتابوں کی جستجو میں رہتے، مختلف اطراف میں چھپی کتابوں کے متلاشی رہتے، بلاشبہ مولانا کتابوں کے عاشق تھے، خاص طور پر صحیح بخاری سے متعلق ہر کتاب انہیں مرغوب تھی، مولانا فرماتے تھے: 
’’علامہ عینی رحمہ اللہ کے قلم سے صحیح بخاری کی شرح ’’عمدۃ القاری‘‘ کی ’’المکتبۃ المنیریۃ (مصر) ‘‘ کی طباعت میں نے تیس برس قبل سات سو ریال میں خریدی تھی۔ ‘‘
تیس برس قبل ایک کتاب کے لیے اتنی رقم کافی زیادہ شمار ہوتی تھی، گویا کتابوں کے سلسلے میں مولانا رحمہ اللہ کا مسلک وہی تھا جو کسی شاعر نے بیان کیا ہے: 

جمادے چند دادم جاں فریدم
بحمد اﷲ عجب ارزاں خریدم

یعنی ’’میں نے چند ٹھیکریوں (روپوں) کے عوض عزیز از جاں شے حاصل کرلی ہے، شکر ہے کہ یہ سودا ارزاں ہے، گھاٹے کا نہیں۔‘‘

اہم علمی کارنامے

۱:- اپنے استاذ مولانا سید محمد عاقل مدظلہم کی ترتیب دی ہوئی کتابوں ’’الحلّ المفہم لصحیح مسلم‘‘ اور ’’الفیض السمائي علی سنن النسائي‘‘ کی ترتیب میں ان کی معاونت فرمائی۔ 
۲:- علامہ محمد بن رسول بَرزَنجِی حسینی رحمہ اللہ (متوفی ۱۱۰۳ھ) کی کتاب ’’الإشاعۃ في أشراط الساعۃ‘‘ کی اشاعت کا اہتمام کیا، اس کتاب پر شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ کی مفید تعلیقات ہیں، جن سے کتاب کی اہمیت بڑھ گئی ہے، حضرت شیخ نے مولانا کو اپنی تعلیقات پر مشتمل نسخہ مہیا فرمایا اور مولانا نے انہیں ترتیب دے کر شائع کیا۔ 
۳:- حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی فضائلِ درود شریف کا عربی ترجمہ کیا، یہ کتاب عنقریب چھپ کر عام ہوگی۔
۴:- صحیح بخاری پر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کے درسی افادات، حضرت شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی تحقیق وتعلیق کے ساتھ ’’لامع الدَّراري‘‘ کے نام سے شائع ہوچکے ہیں، مولانا رحمہ اللہ اس کتاب پر کافی عرصہ سے تحقیقی کام کر رہے تھے اور آخر تک اسی میں مشغول رہے، خاص طور پر کتاب کے مقدمہ پر ان کے قیمتی اضافات اور گراں قدر تعلیقات ہیں، جن کی کچھ تفصیل ان کی زبان سے سنی ہے اور پیشِ نظر تحریر کا حصہ ہے، اللہ کرے کہ مولانا کی یہ مفید حدیثی خدمت جلد منظرِ عام پر آئے اور ان کی روح کی مزید آسودگی کا باعث بنے۔
۵:- ’’ کشف الأستار عن زوائد البزار‘‘ علامہ نور الدین ہیثمی رحمہ اللہ کی معروف کتاب ہے، جو محدثِ کبیر مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمہ اللہ کی تحقیق کے ساتھ چار جلدوں میں چھپی ہے۔ مولانا رحمہ اللہ نے کام شروع کیا اور دو جلدوں پر ان کا کام مکمل ہوچکا تھا، برادرم مولانا محمد مظاہری حفظہ اللہ کے مطابق یہ دو جلدیں بھی جلد چھپ جائیں گی، ان شاء اللہ!
۶:- تواریخ مدینہ کی چند کتابوں پر بھی مولانا رحمہ اللہ کاکام ہے، جو ان کے شاگرد شیخ حسین شکری کے نام سے چھپی ہیں۔
۷:- ’’الدرالمنضود شرح سنن أبی داؤد‘‘ مولانا محمد عاقل صاحب مدظلہم کی اردو شرح ہے۔ اس شرح میں مولانا بھی اپنے استاذ محترم کے معاون رہے ہیں اور کتاب پر ان کے بعض قیمتی اضافات ہیں، جو انہی کی نسبت کے ساتھ چھپے ہوئے ہیں۔
۸:- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین پر مولانا رحمہ اللہ کی ایک کتاب شائع شدہ ہے۔

چند علمی افادات

مولانا رحمہ اللہ سے چند ہی مجلسیں رہیں، ان مجلسوں میں ان کے خوانِ علم سے جو بکھرے موتی چنے، ان میں سے بعض فوائد، افادہ عام کی غرض سے ذیل میں درج کیے جارہے ہیں: 
۱:- انگوٹھی کے متعلق فرمایا: ’’یہ آج کل سنتِ متروکہ بن گئی ہے(۱)، علماء بھی نہیں پہنتے، حالانکہ بخاری شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چھے انگوٹھیوں کا ذکر ہے، اس سلسلے میں امام بیہقی رحمہ اللہ کا مستقل رسالہ ’’جزء الخاتم‘‘ بھی ہے اور میرے مطالعہ اور یاد کے مطابق (ہوسکتا ہے کہ اس سے زیادہ ہوں) حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارہ انگوٹھیاں تھیں۔ مہر کے کے لیے صرف ایک انگوٹھی تھی، اس کے علاوہ بھی گیارہ تھیں، جبکہ بخاری شریف میں ہی اس کے علاوہ پانچ انگوٹھیوں کا ذکر ہے۔ 
ایک روایت میں ہے: ’’فَصُّہُ حَبَشِیٌّ۔‘‘ (سننِ ابوداود: ۴۲۱۶) یعنی کالا پتھر تھا، جس کو سلطانی پتھر کہتے ہیں اور بادشاہ وامراء پہنتے ہیں، موجودہ سعودی فرماں روا شاہ سلمان اور حرم کے ایک امام بھی پہنتے ہیں۔ شراح نے یہاں ’’حبشی پتھر‘‘ لکھا ہے، حالانکہ ’’حَبش‘‘ نامی جگہ ہے، جو ’’یمن‘‘ میں ہے، جہاں سے پتھر نکلتے ہیں، یہ وہ ’’حبشہ‘‘ نہیں ہے۔ یہ بات مجھے پڑھنے کے دوران سمجھ نہیں آئی تھی، بعد میں سمجھ میں آئی۔ 
۲:- ایک ہی راوی کے متعلق بعض اوقات ائمہ جرح وتعدیل کے مختلف جوابات ہوتے ہیں، مولانا نے فرمایا: ’’بعض اوقات یہ مختلف روایات، مختلف اسئلہ کی بنا پر ہوتی ہیں، مثلا: ایک ہی راوی

حاشیہ:(۱)…     یہ حضرت مولانا رحمہ اللہ کی تحقیق تھی، عام فقہاء اہلِ افتاء کی رائے کے مطابق مردوں کے لیے انگوٹھی پہننے کا حکم یہ ہے کہ ایک مثقال (ساڑھے چار ماشے یعنی ۴ گرام اور ۳۷۴ ملی گرام) [4.374] سے کم وزن کی چاندی کی انگوٹھی یا چھلا پہننا جائز ہے، چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں، البتہ عام آدمی کے لیے چاندی کی انگوٹھی بھی نہ پہننا بہتر اور افضل ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب اللباس،باب من کرہہٗ، رقم الحدیث: ۴۰۴۹ اور رد المحتار، ج:۶، ص:۳۶۲-۳۶۳)

 کے متعلق ایک موقع پر کہہ دیتے ہیں: ’’فلانٌ ثقۃٌ‘‘ اور دوسرے موقع پر کہتے ہیں: ’’لا بأس بہ‘‘.
۳- ’’امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کے ہاں ’’لا بأس بہ‘‘ کا مطلب ’’ثقۃ‘‘ ہی ہے، ان کے ہاں (حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی) ’’تقریب التہذیب‘‘ والا معنی مراد نہیں ہوتا۔ ائمہ کے درمیان بھی ان اصطلاحات میں کافی فرق ہے، کسی کے نزدیک ’’لا بأس بہ‘‘ ثقاہت کے لیے ہے اور کسی کے نزدیک ضعف کا ایک درجہ ہے۔ ‘‘
۴- شیخ البانی رحمہ اللہ کے متعلق فرمایا: ’’ان کے ہاں احادیث پر حکم لگانے کی بنیادیں ’’تقریب التہذیب‘‘، ’’لسان المیزان‘‘ اور ’’میزان الاعتدال‘‘ ہیں، میرے نزدیک محض ان کتب کی بنیاد پر حکم لگانا جائز نہیں۔ خود ان کے تلامذہ نے ان کی اغلاط پر رد لکھے ہیں اور کئی ردود آچکے ہیں۔‘‘
۵:- ’’آج کل میرا سارا ذہن ’’لامع الدَّراريّ‘‘ کی طرف ہے، ’’لامع الدَّراريّ‘‘ میں حضرت شیخ رحمہ اللہ کے مقدمہ کا آخری باب ہے:’’ما أُلِّف حولَ الجامع الصحیح‘‘ یعنی صحیح بخاری کے متعلق لکھی گئی کتابیں، اس میں ہمارے حضرت شیخ رحمہ اللہ نے ایک سو چھبیس (۱۲۶) کتابوں کا ذکر کیا ہے، مولانا عبدالسلام مبارک پوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’سیرۃ الإمام البخاري‘‘ (میں ایک سو چھیالیس (۱۴۶) کا تذکرہ کیا ہے، اس میں متفرق زبانوں کے تراجم کا بھی ذکر کیا ہے۔) میں حضرت شیخ رحمہ اللہ کے تین نمبروں پر تنقید کی ہے، میرے شیخ نے جہاں سے نقل کیا ہے، ان سے غلطی ہوئی ہے، غلطی پر تنبیہ پر کرکے درست بات ذکر کردی ہے۔ مولانا مبارک پوری سے بھی کئی غلطیاں ہوئی ہیں۔ حضرت شیخ کی ایک سو چھبیس (۱۲۶) پر میں نے دو ہزار (۲۰۰۰) ناموں کا اضافہ کیا ہے اور شیخ کے ہاں متفرق غیر مرتب تذکرہ تھا، میں نے بیالیس (۴۲) ابواب قائم کیے ہیں اور ان ابواب میں سے ہر باب کے تحت بتایا ہے کہ اس میں کیا کیا چیزیں ہیں؟ اور بخاری شریف کے متعلق تین سو زیادہ کتابیں میرے پاس ہیں۔ 
ان ابواب میں سب سے پہلے رواۃِ بخاری کو لیا ہے، پھر روایاتِ بخاری اور اس کے بعد نسخِ بخاری کا ذکر ہے۔ بخاری کے سامعین تو نوے ہزار سے زیادہ ہیں، لیکن جن سے بعد میں روایت چلی ہے وہ صرف رواۃ چار ہی ہیں، ساتویں صدی ہجری سے محاملی کو پانچواں راوی قرار دینے کی غلطی چلی آرہی ہے، اس پر اہم رد لکھا ہے کہ محاملی رحمہ اللہ سامع تھے، راوی نہیں تھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ آخری بار بغداد گئے تو ’’الجامع الصحیح‘‘ ان کے پاس نہیں تھی، اس موقع پر انہوں نے محدثین کے طریقے کے مطابق اپنے حفظ سے احادیث بیان کیں، ان میں سے بعض احادیث وہی ہیں جو بخاری شریف میں ہیں، سامعین میں محاملی رحمہ اللہ ، ان کے بھائی اور دیگر لوگ بھی تھے، اس کو لے کر محاملی رحمہ اللہ کو راوی قرار دے دیا گیا اور یہ غلطی پہلے شیخ الحرم امام طبری رحمہ اللہ سے ہوئی اور اب تک چلی آرہی ہے، میں نے بتایا ہے کہ محاملی سامعین میں سے تھے، راوی نہیں تھے، ورنہ تو ان کے بھائی کو بھی راوی قرار دے دینا چاہیے، ان کو تو کوئی بھی راوی نہیں کہتا۔ اس کے ساتھ لکھا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی دیگر کتابوں ’’التاریخ الکبیر، التاریخ الأوسط، التاریخ الصغیر، الأدب المفرد‘‘ اور’’خلق أفعال العباد‘‘ کے راوی کون کون ہیں؟ ان میں سے بعض ’’الجامع الصحیح‘‘ کے بھی راوی ہیں اور بعض صرف انہی کتابوں کے راوی ہیں، بخاری کے نہیں۔
پھر نسخوں کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے اور ہم نے لکھا ہے کہ بخاری شریف کے تیس نسخے ہیں، جیسے یونینی اور عبداللہ بن سالم بصری کے نسخے مشہور ہیں، اب تک بخاری شریف کا آخری نسخہ حضرت مولانا احمد علی محدث سہارن پوری رحمہ اللہ کا ہے۔ نسخہ کی تعریف کسی نے نہیں کی کہ نسخہ کسے کہتے ہیں؟ ہر منسوخ چیز کو نسخہ نہیں کہا جاتا، ہم نے یوں تعریف کی ہے: ’’نسخہ وہ ہوتا ہے کہ جس کے لکھے جانے کے بعد عرصہ دراز تک کاتب اس میں مشغول رہے، دیگر نسخوں کا پتہ چلے کہ ان کے ساتھ اس کا تقابل کرے اور فروق کو ذکر کرے، یعنی جس نسخہ کے ساتھ کاتب کا بہت اعتنا رہا ہو۔‘‘ جیسے عبد اللہ بن سالم رحمہ اللہ نے اپنے نسخہ کے ساتھ بیس سال تک اعتنا کیا ہے اور فروق کو حواشی میں ذکر کرتے رہے، یونہی یونینی نے بھی اپنے نسخے کا بیس سال سے زیادہ اعتنا کیا ہے۔ 
بخاری شریف کے سب سے بڑے راوی امام فِرَبرِی رحمہ اللہ ہیں، لیکن وہ صاحبِ نسخہ نہیں ہیں، حالانکہ بخاری شریف کی اصل انہی کی پاس پہنچی ہے، جو امام بخاری رحمہ اللہ نے تالیف کی تھی، اللہ کرے کہیں مل جائے، انہوں نے تین بار امام بخاری رحمہ اللہ سے بخاری شریف سنی ہے۔ ‘‘
۶:- اسی موقع پر دعا کے بعد فرمایا: ’’ہمارے حضرت شیخ رحمہ اللہ جب دعا کراتے تھے تو اتنا سنا جاتا تھا کہ شروع میں ’’سبحانک اللّٰہم‘‘ کہتے تھے اور آخر میں ’’وصلی اللّٰہ وسلم۔۔۔‘‘، درمیان میں آہستہ دعا فرماتے تھے، میں بھی شیخ کے انداز پر چلنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن ایک دعا بآواز پڑھ لیتا ہوں، ہمارے حضرت شیخ نے بعد میں ایک حدیث اہتمام سے چھپوائی تھی، ’’سننِ ترمذی‘‘ میں حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی دعائیں کیں، ہمیں ان میں سے کچھ بھی یاد نہ رہا، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے بہت دعائیں کیں، لیکن ہمیں کچھ بھی یاد نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ایسی دعا نہ بتاؤں جو ان سب کی جامع ہو؟ یوں دعا کرو: 
’’اَللّٰہُمَّ إِنَّا نَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا سَأَلَکَ مِنْہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ الْمُسْتَعَانُ، وَعَلَیْکَ الْبَلَاغُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللَّہِ۔‘‘
یہ ساری دعاؤں کی جامع دعا ہے۔ بعض حضرات اس دعا میں ’’وَعِبَادُکَ الصَّالِحُوْنَ‘‘ کا اضافہ کرتے ہیں، یہ اضافہ حدیث میں نہیں ہے، لیکن جائز ہے اور زائد ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو سب کو جامع ہیں تو ’’عبادُک الصالحون‘‘ کو بھی جامع ہیں۔ ‘‘
۷:- فرمایا: امام ابن جوزی رحمہ اللہ کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
’’ما لہ فیہ ذوق المحدثین۔‘‘ (تاریخ الإسلام، ترجمۃ ابن الجوزی) 
۸:- ’’ابن شاہین رحمہ اللہ کے سامنے فقہاء کے مذاہب ذکر کیے جاتے تو کہا کرتے تھے:’’أنا محمدي المذہب‘‘، اس پر حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کے بارے میں محمد بن عمر داودی کا بیان نقل کیا ہے: ’’کان لا یعرف من الفقہ لا قلیلا ولا کثیرا‘‘(تاریخ الإسلام، ترجمۃ ابن شاہین) 
۹:- مولانا نے فرمایا:’’ کسی عالم کی دوسرے عالم کے متعلق رائے پر اعتماد کے لیے میری نظر میں تین شرائط ہیں:۱:- معاصرت، ۲:- معاشرت، ۳:- ملازمت۔‘‘

مولانا مظاہری رحمہ اللہ اور چند کتبِ حدیث کی طباعت 

مولانامرحوم ، مولانا حبیب اللہ مختار شہید رحمہ اللہ کی کتاب ’’کشف النقاب عما یقولہ الترمذی: وفی الباب‘‘ کے نہایت قدردان تھے، مولانا رحمہ اللہ کی زندگی میں اس کتاب کی پانچ جلدیں چھپی تھیں، شہادت کے بعد معروضی احوال کی بنا پر یہ کام رک گیا تھا، ’’کُلُّ أَمْرٍ مَرْہُوْنٌ بِوَقْتِہ‘‘ کے بمصداق ہر کام اپنے وقت پر ہی ہوتا ہے اور اس کے لیے اسباب وماحول بھی ہموار ہوتے چلے جاتے ہیں، کچھ عرصہ قبل جب جامعہ میں یہ کام دوبارہ شروع ہوا تو حضرت مولانا رحمہ اللہ کو اس کی خبر پہنچی، کیا خبر کہ علمِ حدیث کے شغف کے ساتھ ناموں کے اشتراک کو بھی دخل ہو کہ مولانا حبیب اللہ قربان، مولانا حبیب اللہ مختار E کی تحقیقی کاوش کے منظرِ عام پر آنے کے لیے فکرمند ہوگئے، مولانا رحمہ اللہ نے بندہ سے رابطہ فرماکر اس کام کے لیے اپنی خدمات پیش فرمائیں اور اس کی طباعت کی جانب اپنے بعض متوسلین کو متوجہ فرمایا، رمضان سنہ ۱۴۳۹ھ کے آخری عشرہ میں مدینہ منورہ میں جامعہ کے بعض اساتذہ کی معیت میں مولانا رحمہ اللہ کی رہائش گاہ میں حاضری ہوئی تو اس موقع پر بندہ نے مولانا سے اس کام کی تکمیل کے لیے دعاؤں کا عرض کیا، مولانا فرمانے لگے: ’’میں دعاؤں اور دواؤں سب کے لیے تیار ہوں۔‘‘ پھر فرمایا: ’’میں ملاقات اور فون پر بات صرف صبح دس سے بارہ کے درمیان کرتا ہوں، بقیہ اوقات میں نہ کسی سے ملاقات کرتا ہوں اور نہ کسی سے فون پر بات کرتا ہوں، اپنے (علمی وتحقیقی) کاموں میں مشغول رہتا ہوں، لیکن اس کتاب کے سلسلے میں نے کہہ رکھا ہے کہ دن رات میں جس وقت چاہو فون کرلو۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اصل کام تو آگے (تکملہ) کا ہے۔‘‘ 
موصوف رحمہ اللہ چند کتابوں کی طباعت کے لیے نہایت فکرمندتھے:
۱:- ’’کشف النقاب‘‘ اور اس کا تکملہ، ۲:- ’’نثر الأزہار شرح معاني الآثار‘‘مولانا محمد امین اورکزئی رحمہ اللہ اور اس کا تکملہ، ۳:- ’’الاتحاف لمذہب الأحناف‘‘یعنی مولانا ظہیر احسن نیموی رحمہ اللہ کی ’’آثار السنن‘‘ پر مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے گراں قدر حواشی، اور ۴:- ’’معارف السنن شرح سنن الترمذي‘‘ کا طبع جدید اور تکملہ۔ اس مجلس میں بھی اور دیگر مختلف مواقع پر ان کتابوں کی طباعت کی جانب توجہ دلاتے رہے ، اپنی جانب سے مادی وروحانی تعاون کی یقین دہانی کراتے رہے اور متوسلین کو بھی اس جانب متوجہ فرماتے رہے۔ الحمد للہ! جامعہ میں ان کتابوں پر کام جاری ہے۔الحمدللہ ’’کشف النقاب‘‘ کی مزید چار جلدیں شائع ہوچکی ہیں اور نو جلدوں میں صرف ’’أبواب الطہارۃ‘‘ اور ’’أبواب الصلاۃ‘‘ مکمل ہوئے ہیں، دسویں اور گیارہوں جلد بھی ان شاء اللہ! جلد ہی شائع ہوجائے گی۔ ’’الإتحاف‘‘ پر بھی کام جاری ہے، جو ان شاء اللہ کچھ عرصہ میں منظر عام پر آجائے گا اور باقی کتب بھی ان شاء اللہ! یکے بعد دیگرے سامنے آئیں گی۔ دیگر حسنات کے ساتھ یہ نیکی بھی مولانا رحمہ اللہ کے نامۂ اعمال میں درج ہوگی۔

وفات وتدفین

بروز ہفتہ، بتاریخ ۲۰ رجب ۱۴۴۱ھ بعد نمازِ فجر مسجدِ نبوی-علٰی صاحبہٖ آلاف آلاف تحیات و تسلیمات- میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور بقیع میں تدفین ہوئی۔ 
مولانا رحمہ اللہ کے شاگرد ادریس بن عبدالقادر مدنی کی روایت ہے:مجھے ’’حدیث الرحمۃ‘‘ سناکر فرمایا: ’’ میں نے اپنے شیخ محمد زکریا کاندھلوی مہاجر مدنی سے یہی حدیث ابتدا میں سنی، شیخ بقیع میں مدفون ہیں، مجھے امید ہے کہ میں بھی بقیع میں دفن ہوں گا۔ ‘‘
مولانا کی امید بَر آئی اور ساری زندگی جس نبی کی احادیث کے گیت گاتے رہے، اب انہیں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں تا قیامِ قیامت آرام فرما ہیں۔ مولانا نے پسماندگان میں ایک صاحب زادہ اور دو صاحب زادیاں چھوڑی ہیں۔ برادرم مولانا محمد مظاہری حفظہ اللہ نے ابتدائی کتب مولانا سے پڑھی ہیں، بعد ازاں جامعہ مظاہر علوم قدیم وجدید دونوں سے فیضیاب ہوئے ہیں، البتہ درسِ نظامی کی تکمیل جامعہ مظاہر علوم جدید سے کی ہے۔ مولانا کے علمی ذخیرے کو برادر موصوف ہی سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کی اشاعت کی ذمہ داری بخوبی نبھارہے ہیں۔ 
اللہ تعالیٰ مولانا کی کامل مغفرت فرمائے اور ان کے علوم وفیوض کو تا قیامت جاری رکھے، ان کے صاحب زادے برادرم مولانا محمد مظاہری اور دیگر اہل خانہ کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے، آمین!
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے