بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جمادى الاخرى 1443ھ 18 جنوری 2022 ء

بینات

 
 

عالمِ انسانیت کے نام دو عالمی اور اہم پیغام

عالمِ انسانیت کے نام دو عالمی اور اہم پیغام


 عالمی اس لیے کہ یہ کسی خاص قبیلے وقوم سے یا کسی خاص شہر و ملک کے باشندوں تک محدود نہیں، اور نہ ہی ان کی رسائی کسی برّاعظم تک محدود ہے، بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے تازیانۂ عبرت ہیں اور تمام افرادِ انسانیت کی اندرونی و بیرونی شعبہ ہائے زندگی سے متعلق ہیں، جنہیں ہر دیکھنے والی آنکھ نےمشاہدہ کیا اور سننے والے کانوں نے بغور سنا،اور دلوں نے ان مناظر کو محفوظ کیا ہے، اور یہ عقلمندوں کے لیے باعثِ عبرت ہیں۔
یہ دو پیغام یا حادثے جب ان سے متعلق انسان پہلے پہل سنتا ہے تو اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آتا، کیوں کہ اس کے مثل واقعات وحوادث گزشتہ کئی صدیوں سے رونما نہ ہوئے،اور نہ ہی آج کے مادیت پرست دور میں اس کی نظیر ملتی ہے۔ بہرحال اس حقیقت کا کیا کیجئے! حقیقت مانتے ہی بنتی ہے، نیز حقیقت سے چشم پوشی کرنا اور اس کے سامنے آنکھیں بند کرکے یہ سمجھنا کہ کچھ ہوا ہی نہیں، یہ محض خام خیالی اور طفل تسلی ہے۔

پہلا پیغامِ عبرت

کرونا وائرس (Covid-19) جس کی تباہ کاریوں نے عالمِ انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، زندگی کی چلتی گاڑی کو گویا یکدم بریک لگادی ہے، بلکہ انسانی زندگی اتنی تنگ ہوگئی کہ انسان کو اس کے علاوہ کچھ سجھائی نہ دیا کہ وہ اپنے گھر کو زِندان بناکر اس میں بیٹھا رہے، طبی آلات ناکارہ ہوگئے، تمام اطباء نے اس کے آگے سرِتسلیم خم کردیا، اور اپنے عجز و درماندگی کا اظہار کیا، جدید مشینری آلات اس کی تشخیص وتحدید سے قاصر رہے۔

دوسرا تازیانہ

جماعتِ طالبان کی سرزمینِ افغانستان میں تیز ترین اور حیران کُن فتوحات، جبکہ دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادیوں کا انخلاء، بیس برس گنوا کر اس حال میں لوٹے کہ شکست وریخت کی گٹھڑیاں ان کے کاندھوں پر لادی گئیں، اور ہزیمت وناکامی کی رسوائی ان کے چہروں سے بالکل عیاں تھی، حالانکہ اس طویل دورانیے میں اپنی پوری معیشت اور فوج کو اس میں جھونک دیا تھا، انہوں نے بیس سال کے طویل ترین دورانیے میں اپنے تمام تر مادی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے سرزمینِ افغانستان پر اپنا تسلُّط جاری رکھا، خواہ وہ مادی وسائل بصورتِ اسلحہ ہوں یا میڈیا، انہوں نے شہروں کے شہر اُجاڑ دیئے، آبادیوں کو تاخت وتاراج کیا، اس بات کی آرزو دل میں بسائے ہوئے کہ یہاں کے ماحول کو عیسائیت وسیکولرزم میں بدل دیں، اور لگے ہاتھوں ان کے دماغوں میں جدّت پسندی کے زہر گھول دیئے جائیں، لیکن اس سب کے باوجود امارتِ اسلامیہ افغانستان اپنی پیہم کوششوں اور جہدِ مسلسل کے ساتھ میدانِ جہاد میں برسرِ پیکار رہی، بڑی تعداد میں جانوں کے نذرانے پیش کیے، جن کی مثال آج کے دور میں ملنا ناممکن ہے۔ ان سب پر مستزاد یہ کہ وہ عالمی طور پر اقتصادی، معاشی اور بدامنی کے بحران کا شکار رہے۔
یوں تو کہنے کو یہ دو پیغام ہیں، لیکن درحقیقت یہ اپنے دامن میں ایک ہی پیغام سموئے ہوئے ہیں جو درحقیقت خالقِ کائنات سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے اپنی تمام تر مخلوقات کو یہ ہے کہ: ’’اللہ جو چاہتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے، طاقت وقدرت سب اسی کے پاس ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
اس پیغام کی تفصیل کچھ یوں ہے:
اللہ تعالیٰ نے ایک کام کا ارادہ کیا، اور اس کا ارادہ ہر چیز پر غالب ہے، جیسا کہ رب العزت فرماتے ہیں: ’’وَنُرِيْدُ أَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَہُمْ أَئِمَّۃً وَّنَجْعَلَہُمُ الْوَارِثِيْنَ‘‘ ... ’’اور ہم کو یہ منظور تھا کہ جن لوگوں کا زمین (مصر) میں زور گھٹایا جا رہا تھا، ہم ان پر (دنیوی) احسان کرلیں اور (وہ احسان یہ کہ) ان کو (دین میں) پیشوا بنادیں اور (دنیا میں) ان کو (ملک کا) مالک بنائیں۔‘‘
آج ہمارے دور کے فرعون وہامان امریکا اور اس کے ساتھ ظلم وجور کے پلیٹ فارم پر قائم اتحادی ہیں، جو اس بات سے انتہائی خائف ہیں کہ کہیں طالبان اس خطّۂ سرزمین (افغانستان) پر حکمران نہ بن جائیں، لیکن مالک الملک کی چاہت یہ رہی کہ کمزور کو طاقتور بناکر اُن کو زمین کا حکمران بنائیں گے، امریکا اور اس کے اتحادیوں کو وہ دن بھی دکھائیں گے، جس کےتصور سے ہی ان کے بدن کانپ اُٹھیں گے، اور ان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے ۔
یہ پیغام ساری دنیا کو ہے کہ آج کے دن کے بعد کوئی طاقتور طاقت والا نہیں، اور کوئی کمزور کمزور نہیں، اور یہ کہ ظالم انسان جتنا بھی بڑا سپر پاور کیوں نہ ہو، وہ اپنے ناپاک عزائم کو اللہ کی اجازت کے بغیر پورا نہیں کرسکتا، اور مظلوم کمزور سے کمزور تر ہی کیوں نہ ہو، اللہ کی مدد ونصرت کے بل بوتے پر فتح وکامرانی اس کے قدم چومتی ہے، اور اس کی ساجھی ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: ’’وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِيْنَ  إِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ وَإِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغَالِبُوْنَ‘‘ ... ’’ اور ہمارے خاص بندوں (یعنی پیغمبروں) کے لیے ہمارا یہ قول پہلے ہی سے مقرر ہو چکا ہے کہ بے شک وہی غالب کیے جاویں گے اور (ہمارا قاعدہ تو عام ہے کہ) ہمارا ہی لشکر غالب رہتا ہے۔‘‘

معرکۂ حق وباطل

تقریباً آج سے بیس سال قبل میں نے ڈاکٹر مصطفی السباعی -رحمہ اللہ- کے کتابچہ میں ایک بہت خوبصورت بات پڑھی، اس کتابچہ کا عنوان یہ تھا: ’’ھٰکذا علَّمتني الحیاۃ‘‘ (زندگی نے مجھے کچھ یوں سبق دیا) یہ ایک مکالمہ ہے، اور یہ مکالمہ حق و باطل کے درمیان ہے، ایسا لگتا ہے انہوں نے آج سے بیس سال قبل آج سرزمین افغانستان پر رونما ہونے والے معرکہ کو حق و باطل کے مابین مکالمہ کی صورت میں منظر کشی کرتے ہوئے پیش کیا ہے، اور یہ آج کا مسئلہ نہیں، بلکہ فرعون عہدِ موسوی سے آج کے فرعون (امریکا) تک چلا آرہا ہے۔ وہ مکالمہ پیشِ خدمت ہے:
ایک دن باطل نے حق کو مخاطب کرکے کہا: ’’أنا أٲعلٰی منک رأسًا‘‘ میں قدوقامت میں تجھ سے برتر ہوں۔
حق نے جواب دیا: ’’أنا أثبت منک قدمًا‘‘ تو بڑا ہے تو کیا ہوا، میں تجھ سے زیادہ ثابت قدم ہوں۔
باطل نے کہا: ’’أنا أقوٰی منک‘‘ میں تجھ سے زیادہ طاقتور ہوں۔
حق نے جواب دیا: ’’أنا أبقٰی منک‘‘ تو میں تجھ سے زیادہ باقی رہنے والا ہوں۔
باطل نے کہا: ’’أنا معي الأغنياء والمترفون‘‘ مجھے تو مالداروں اور آسودہ حال لوگوں کا ساتھ میسر ہے۔
حق نے برجستہ جواب دیا: ’’ وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُّہْلِکَ قَرْيَۃً أَمَرْنَا مُتْرَفِيْہَا فَفَسَقُوْا فِيْہَا فَحَقَّ عَلَيْہَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاہَا تَدْمِيرًا‘‘ ... ’’اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوش عیش لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر (جب) وہ لوگ وہاں شرارت مچاتے ہیں، تب ان پر حجّت تمام ہوجاتی ہے، پھر اس بستی کو تباہ اور غارت کر ڈال دیتے ہیں ۔‘‘
باطل نے تلملاتے ہوئے کہا: ’’أنا أستطيع أن أقتلک الآن‘‘ میں تجھے اسی لمحہ قتل کرسکتا ہوں۔
حق نے بڑے سکون و اطمینان سے جواب دیا : ’’ولکن أولادي سيقتلونک ولو بعد حين‘‘ تو کیا ہوا؟ میرے بچے تم سے انتقام لیں گے۔ (مکالمہ اختتام پذیر ہوا)
میں اس پر مزید کہتا ہوں کہ حق ثابت قدم بھی ہے، اور کیوں نہ ہو؟ چونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’أَلَمْ تَرَ کَيْفَ ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا کَلِمَۃً طَيِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَيِّبَۃٍ أَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِي السَّمَاءِ‘‘ ... ’’ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ الله تعالیٰ نے کیسی مثال بیان فرمائی ہے کلمۂ طیبہ (توحید و ایمان) کی کہ وہ مشابہ ہے ایک پاکیزہ درخت کے، جس کی جڑ خوب گڑی ہوئی ہو، اس کی شاخیں اونچائی میں جاری ہوں۔‘‘
اور کیونکر باقی نہ رہے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’ کَذٰلِکَ يَضْرِبُ اللہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْہَبُ جُفَاءً وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْکُثُ فِي الْأَرْضِ‘‘ ... ’’الله تعالیٰ حق (یعنی ایمان وغیرہ) اور باطل (یعنی کفر وغیرہ) کی اسی طرح مثال بیان کر رہا ہے، سو جو میل کچیل تھا وہ تو پھینک دیا جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے لیے کار آمد ہے وہ دنیا میں (نفع رسانی کے ساتھ) رہتی ہے۔‘‘ لہٰذا حق و باطل دونوں کے حامی ومددگار موجود ہیں، حق اور اس کے حامی باقی رہیں گے، جبکہ باطل اور اس کے چیلے نامراد ہوںگے، کیونکہ یہ سود مند نہیں، بلکہ ناسور ہیں۔
طالبان کے ہاتھوں سقوطِ کابل وافغانستان پر اگرچہ دنیا انگشت بدنداں ہے، اس لیے کہ لوگ اسباب پر یقین رکھتے ہیں، اور اللہ پر ایمان رکھنے والا قرآن پڑھتا ہے، اور ا س طرح کے حوادث جو اہلِ باطل کے ساتھ صدیوں پہلے پیش آئے ان سے باخبر رہتا ہے، اور اس پر بس نہیں، بلکہ ان حوادث کا سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے: 
’’ ہُوَ الَّذِيْ أَخْرَجَ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مِنْ دِيَارِہِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوْا وَظَنُّوْا أَنَّہُمْ مَانِعَتُہُمْ حُصُوْنُہُمْ مِّنَ اللہِ فَأَتَاہُمُ اللہُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَہُمْ بِأَيْدِيْہِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَ فَاعْتَبِرُوْا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ۔‘‘ 
’’ وہی ہے جس نے (ان ) اہلِ کتاب (یعنی بنی نضیر) کو ان کے گھروں سے پہلی ہی بار اکٹھا کرکے نکال دیا۔ تمہارا گمان بھی نہ تھا کہ وہ (کبھی اپنے گھروں سے ) نکلیں گے اور (خود) انہوں نے یہ گمان کررکھا تھا کہ ان کے قلعے ان کو اللہ سے بچالیں گے۔ سو اُن پر خدا (کا عقاب ) ایسی جگہ سے پہنچا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ اپنے گھروں کو خوداپنے ہاتھوں سے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی اُجاڑ رہے تھے، سو اے دانشمندو! (اس حالت کو دیکھ کر) عبرت حاصل کرو۔‘‘
اس طرح کی آیات کی روشنی میں ہم قرآن کریم اور افغانستان میں رونما ہونے والے عظیم الشان واقعہ کا تقابل وموازنہ پیش کرتے ہیں:
ہمارے کئی اہلِ بصیرت کا یہ کہنا ہے کہ اتنی جلدی اور اس حدتک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد و نصرت کا اُترنا تو ہمارے وہم وگمان میں بھی نہ تھا، تو کیا ہوا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوْا‘‘ ... ’’تمہارا گمان بھی نہ تھا کہ وہ نکلیں گے۔‘‘
میڈیا نے محوِ حیرت یہ خبر جاری کی ہے کہ طالبان سپاہیوں کی تعداد ستر ہزار سے متجاوز نہیں، جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی لاکھوں سے متجاوز ہیں، پھر بھی ہزیمت سے دوچار ہوئے۔ اخباری ذرائع کے مطابق اس حادثہ سے قبل امریکی عہدیداران نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہم نے ایک اسپیشل فورس تیار کی ہے، جو کابل کے لیے مزاحمت کرے گی، اور کابل میں طالبان کا داخلہ ناممکن بنادے گی، مگر اللہ فرماتے ہیں: ’’وَظَنُّوْا أَنَّہُمْ مَّانِعَتُہُمْ حُصُوْنُہُمْ مِنَ اللہِ فَأَتَاہُمُ اللہُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا‘‘ ... ’’ اور (خود) انہوں نے یہ گمان کررکھا تھا کہ ان کے قلعے ان کو اللہ سے بچالیں گے۔ سو اُن پر خدا (کا عقاب) ایسی جگہ سے پہنچا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا۔‘‘
اخبارات میں شائع ہورہا ہے کہ عام لوگ اس فتح پر اور فریقِ ثانی کی ہزیمت پر سخت تعجب کا شکار ہیں کہ بھلا اتنی جلدی یہ سب کیونکر ممکن ہے؟! اور بغیر جنگ وجدال کابل کیسے طالبان کے ہاتھوں فتح ہوا؟! تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِہِمُ الرُّعْبَ‘‘ ... ’’اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔‘‘ اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے: ’’نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَۃَ شَہْرٍ‘‘ ... ’’ رعب کے ذریعہ ایک مہینہ کی مسافت تک میری مدد ونصرت کی گئی ہے۔‘‘ نیز دوسری جگہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ’’وَکَفَی اللہُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ‘‘ ... ’’ اور جنگ میں الله تعالیٰ مسلمانوں کے لیے آپ ہی کافی ہو گیا۔‘‘
اطلاعات کے مطابق امریکا نے بگرام ایئر پورٹ کے پاس اپنے تمام اسلحہ کو نذر آتش کردیا ہے، اور روانہ ہونے سے قبل تمام ٹینکوں، جنگی جہاز اور ڈرون کو ناکارہ بنادیا، نیز کابل میں واقع امریکی سفارت خانہ کو ا س بات کی ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ تمام خفیہ کاغذات اور فائلیں جو عسکری اور جنگی حربوں کا کئی سالہ ریکارڈ جو خون پسینہ ایک کرکے جمع کیا گیا ہے، ان سب کو تلف کردیا جائے۔
نیز تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، جیسا کہ قرآن میں ہے: ’’يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَہُمْ بِأَيْدِيْہِمْ وَأَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَ‘‘ ... ’’ اپنے گھروں کو خوداپنے ہاتھوں سے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی اُجاڑ رہے تھے۔‘‘
آپ کے علم میں یہ بات آئی ہوگی کہ طالبان کے ہاتھ اتنے جنگی طیارے واسلحہ لگا ہے، جس کی مالیت کئی ملین ڈالر ہے، اور یہ تو ہونا ہی تھا، کیونکہ یہی تو فتح مبین کا ثمرہ ونتیجہ ہے۔ اور قرآن نے سورۃالفتح میں اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے: ’’وَمَغَانِمَ کَثِيرَۃً يَّأْخُذُوْنَہَا وَکَانَ اللہُ عَزِيْزًا حَکِيْمًا۔‘‘ ... ’’ اور (اس فتح میں) بہت سی غنیمتیں بھی (دیں) جن کو یہ لوگ لے رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا زبردست، بڑا حکمت والا ہے۔‘‘
آخر میں یہ سوال ذہنوں میں اُبھرتا ہے کہ یہ سب کیوں ہوا؟ کس لیے ہوا؟ تو یہ تمام تر عقل والوں کی آنکھوں کو کھولنے کے لیے ہوا۔’’ فَاعْتَبِرُوْا يَا اُولِي الْاَبْصَارِ‘‘ ... ’’ سو اے دانشمندو! (اس حالت کو دیکھ کر )عبرت حاصل کرو ۔‘‘
خبر رساں اور تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ امریکا افغانستان سے بغیر کسی کامیابی اور بغیر حصولِ مقصد کے خالی ہاتھ لوٹا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’وَرَدَّ اللہُ الَّذِيْنَ کَفَرُوْا بِغَيْظِہِمْ لَمْ يَنَالُوْا خَيْرًا وَکَفَی اللہُ الْمُؤْمِنِيْنَ الْقِتَالَ وَکَانَ اللہُ قَوِيًّا عَزِيْزًا‘‘ ... ’’ اور الله تعالیٰ نے کافروں کو ان کے غصہ میں بھرا ہوا ہٹا دیا کہ ان کی کچھ مراد بھی پوری نہ ہوئی اور جنگ میں الله تعالیٰ مسلمانوں کے لیے آپ ہی کافی ہو گیا اور الله تعالیٰ بڑی قوت والا زبردست ہے۔‘‘

مسلمانوں کا اس میں کیا کردار ہونا چاہیے؟ 

یہ ایک سوال ہے! اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ مسلمان کو اس فتح پر خوشی و مسرت کا اظہار کرنا چاہیے اور اپنے کل کے مقہور اور آج کے منصور بھائیوں کے لیے دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے اور اس کو اپنے حق میں بشارت سمجھنا چاہیے، اور اپنے کل کے مقہور اور آج کے منصور بھائیوں کے لیے دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اللہ اکبر!!!
ہاں! یہی تو موقع ہے خوش ہونے کا، چونکہ ایک طویل عرصہ سے مسلمان اس طرح کی خبریں سننے کو ترس گئے تھے، اور اس خبر کے انتظار میں بیشتر مسلمان بھائیوں کو موت کے گھاٹ اُترتے دیکھا، خصوصاً شام،فلسطین اور لیبیا میں مسلمانوں کو درد ناک سزاؤں میں جھلستا ہوا دیکھا، لیکن سب بے بسی کی تصویر بنے رہے، کیونکہ اس کے پاس اپنے بھائیوں کی مدد کرنے کے لیے سوائے دعاؤں کے کچھ نہ تھا، تو پھر ان کو اس فتح پر بھلا خوشی کیوں نہ ہو، حالانکہ مسلمان (صحابہؓ) رومیوں کی فارس کے مقابلے میں فتح سے خوش ہورہے تھے، چونکہ رومی اہلِ کتاب تھے، اہلِ فارس کی بنسبت مسلمانوں سے مذہباً زیادہ قریب تھے، اور کیوں نہ ہوتے، چونکہ اہلِ فارس آتش پرست تھے۔
مسلمان رومیوں کی فتح سے اپنی فتح کا نیک فال لے رہے تھے، جبکہ مشرکین اس کے برعکس اہلِ فارس کی فتح کی اُمید لگائے اس کو اپنے لیے نیک شگون سمجھ رہے تھے۔ مکہ خبر پہنچتی ہے کہ اہلِ فارس کو رومیوں پر غلبہ حاصل ہوگیا ہے، مشرکین خوشی سے بغلیں بجانے لگتے ہیں، اور مسلمان کبیدہ خاطر ہوتے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ اس پر آیات نازل فرماتے اور انہیں غیر ملکی معاملات میں دلچسپی لینے سے منع فرمادیتے، اور ان کو اپنی دینی و دعوتی سرگرمیوں میں مصروف رہنے کی ترغیب دیتے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی حوصلہ شکنی نہ فرمائی، بلکہ ان کی حوصلہ افزائی فرمائی، اور اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ عنقریب چند ہی سالوں میں تم فتحِ فارس کی نوید سنوگے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’وَيَوْمَئِذٍ يَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ بِنَصْرِ اللهِ‘‘ ... ’’ اور اس روز مسلمان الله تعالیٰ کی اس امداد پر خوش ہوں گے۔‘‘ اس آیت سے قبل فرمایا: ’’الٓمٓ غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَی الْأَرْضِ وَہُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَيَغْلِبُوْنَ ‏فِيْ بِضْعِ سِنِيْنَ‘‘ ... ’’ الم، اہلِ روم ایک قریب کے موقع میں مغلوب ہو گئے۔ اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد عنقریب تین سال سے لے کر نو سال تک کے اندر اندر غالب آ جاویں گے۔‘‘
بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ آیت ’’وَعْدَ اللہِ لَا يُخْلِفُ اللہُ وَعْدَہٗ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَايَعْلَمُوْنَ، یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا‘‘ ... ’’اس کا وعدہ فرمایاہے، الله تعالیٰ اپنے وعدہ کو خلاف نہیں فرماتا ، ولیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ یہ لوگ صرف دنیوی زندگی کے ظاہر کو جانتے ہیں۔‘‘ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق ہے جو اسباب و مادیت پر یقین رکھتے ہیں، لہٰذ اوہ فتح ونصرت پر یقین نہیں رکھتے، اور نصرتِ الٰہی کو سر کی آنکھوں سےاُترتا دیکھتے ہیں تو اس کی عجیب وغریب تاویلیں کرتے ہیں، اور کہتے ہیں -مثال کے طور پر- یہ تو ان کی سوچی سمجھی تدبیریں ہیں، نیز یہ تو افغانی معاملہ ہے جو ان دونوں گروہوں کے درمیان پیش آ گیا ہے۔ واضح رہے کہ مسلمانوں کے جذبات کی رعایت کرتے ہوئے یہاں سورۂ روم کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے صراحۃً فارس کا ذکر نہیں فرمایا، بلکہ صرف روم کے ذکر پر اکتفا کیا گیا: ’’غُلِبَتِ الرُّوْمُ‘‘ ... ’’ روم مغلوب ہوگئے۔‘‘ ، ’’مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِہِمْ ‘‘ ...’’ ان کے مغلوب ہونے کے بعد‘‘کون ان پر غالب ہوا؟ اس کا ذکر نہیں۔ پھر فرمایا: ’’وَہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ‘‘ ... ’’ اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد غالب آ جاویں گے۔‘‘کس پر غالب ہوں گے؟ اس کا تذکرہ نہیں، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذکر کو رومیوں کے مقابلہ میں قابلِ اعتنا نہیں سمجھا۔

واقعہ سے حاصل ہونے والا سبق

۱:-’’ إِنَّ اللہَ یَفْعَلُ مَا یَشَاءُ‘‘ ... ’’ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔‘‘
۲: ’’تِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ‘‘ ...’’ ہم ان دنوں کو لوگوں کے مابین اُلٹتے پلٹتے رہتے ہیں۔‘‘ لہٰذا امریکا نے اپنا سنہرا دور دیکھا، اب مسلمانوں کی باری ہے۔
۳: فقر ومسکنت میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں، اس لیے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جہادِ اسلامی میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے اکثر غریب طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، جنہوں نے مشقتوں، بے کسی و ناداری کو غنیمت گردانا، جبکہ اس کے مقابل دولت کی ریل پیل میں بسنے والوں کا حوصلہ بہت کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
۴: مسلمانوں اور اسلام کی قوت کے ظاہری اسباب میں سے ایک سبب خاندانی منصوبہ بندی پر عدمِ یقین ہے، اور کفر وشرک کی کمزوری اور شکست کا ایک بنیادی سبب ان کا خاندانی منصوبہ بندی پر اعتماد کرنا ہے، حالیہ فتوحات میں اللہ کے فضل و احسان کے بعد اس کا بہت اہم وکلیدی کردار ہے۔
 ۵:اسلام کا سپاہی ایمان کے لیے لڑتا ہے، اور ایمانی قوت سے لڑتا ہے، اسلحہ ودیگر اسبابِ مادیت اس کے پیش نظر نہیں ہوتے، اس سے اس کے مقصد کی معنویت وروحانیت دو چند ہوجاتی ہے، جیسا کہ ہم نے اس معرکہ میں کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا کہ مجاہدین طالبان اپنی ایمانی قوت سے لڑے اور اللہ کی مدد ونصرت ان کے شامل حال رہی، اور جہاں تک بات امریکا اور اس کے اتحادیوں کی ہے، ان کا اس معنویت اور روحانیت سے دور کا بھی واسطہ نہیں، لہٰذا ہزیمت ورسوائی ان کا مقدر بنی۔
۶: نصرت اور جہاد کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ان دونوں کے پیچھے فتح وکامرانی دوڑی چلی آتی ہے، یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ تینوں لازم ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں، اس ترتیب پر کہ پہلے جہاد ، پھر نصرت پھر فتح مبین۔ اور یہ نظریہ حقیقت بن کر اُبھرا، جبکہ ایک مدتِ طویل کے بعد فتحِ افغانستان کا واقعہ منظرِ عام پر آیا، یہ الگ بات ہے کہ یہ نظریہ قرآن مجید میں موجود ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ’’إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ‘‘ ... ’’ جب خدا کی مدد اور (مکہ کی) فتح (مع اپنے آثار کے) آ پہنچے (یعنی واقع ہوجائے) ۔‘‘ نیز یہ دونوں جہاد کا ثمرہ ونتیجہ ہیں۔
۷: کوئی طاقتور آج کے بعد اپنے آپ کو طاقتور نہ سمجھے، اور کوئی کمزور اپنے آپ کو کمزور نہ سمجھے۔

فتحِ مبین کے بعد کیا ہو؟

اس سے متعلق چندباتیں قرآنی ہدایات کی روشنی میں پیشِ خدمت ہیں:
واضح رہے کہ تین مدنی سورتیں یعنی سورۂ محمد،سورۂ فتح اور سورۂ حجرات مکی سورتوں کے درمیان واقع ہیں، اور ان تینوں سورتوں کا آپس میں گہرا ربط ہے۔
مثال کے طور پر سورۂ محمد میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے جہاد وقتال پر فتح ونصرت کا وعدہ کیا: ’’يَا أَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا إِنْ تَنْصُرُوْا اللہَ يَنْصُرْکُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ‘‘ ... ’’ اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔‘‘ اور اس کا نتیجہ جو کہ فتحِ مبین کی صورت میں رونما ہوا، اس کو سورۂ فتح میں یوں بیان کیا: ’’إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِيْنًا‘‘ ... ’’ بے شک ہم نے آپ کو ایک کھلی فتح دی۔‘‘ پھر فتح ونصرت حقیقتاً واقع ہوگئی اور مسلمانوں کو ان کی زبوں حالی کے بعد شان وشوکت عطا ہوئی: ’’کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَویٰ عَلَی سُوْقِہٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ‘‘ ... ’’ جیسے کھیتی اس نے اپنی سوئی نکالی، پھر اس نے اس کو قوی کیا، پھر وہ اور موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کسانوں کو بھلی معلوم ہونے لگی، تاکہ ان سے کافروں کو جلادے ۔‘‘
اس سب کے بعد مسلمانوں کو اس کی ضرورت درپیش ہوئی کہ ایک اسلامی سوسائٹی جو مکمل اسلامی ماحول سے آراستہ ہو اور اس سوسائٹی کی بنیادیں حدود اللہ اور آپس کے حقوق اور اصلاحِ معاشرہ جیسی مستحکم بنیادوں پر استوار ہوں، اس کی بنیادوں میں جو جان ومال کے تحفظ کے ساتھ عزتِ نفس، اور آبرو کا بھی پورا پورا خیال رکھنا شامل ہو، اس کو سورۃا لحجرات میں ذکر کیا ہے، نیز یہ تینوں سورتیں ہمیں ایک درس دیتی ہیں کہ پہلی اور دوسری بات یعنی نصرت وفتح تو حاصل ہوگئی، لیکن اسلامی معاشرے کی تشکیلِ نو ہنوز باقی ہے، جو کہ خلافت کے راستے سے انجام پاسکتی ہیں، اور یہ آخری سورت اس موضوع پر کافی و شافی ہے، چونکہ اس سورت میں اس بات کی طرف رہنمائی ملتی ہے کہ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد کیونکر ممکن ہے؟ اور ان کے مابین اخوت وبھائی چارگی کے پاکیزہ جذبات کو کیسے اجاگرکیا جاسکتا ہے؟ فرمایا: ’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَۃٌ‘‘ ... ’’ مسلمان تو سب بھائی ہیں ۔‘‘ 
اطاعتِ امیر پر رعایا کو کیسے آمادہ کیا جاسکتا ہے؟ تو اس کو اللہ نے یوں بیان فرمایا: ’’يَا أَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوْا اللہَ۔‘‘ ... ’’ اے ایمان والو! اللہ اور رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم  کی اجازت) سے پہلے تم سبقت مت کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تعالیٰ (تمہارے سب اقوال کو ) سننے والا اور (تمہارے سب افعال کو ) جاننے والا ہے۔‘‘
نیز اس سورت میں یہ بھی سمجھا گیا کہ کس طرح ہمیں بڑوں کے ساتھ گفت وشنید میں رویّہ اختیار کرنا چاہیے؟ تو فرمایا: ’’إِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَکَ مِنْ وَّرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَکْثَرُہُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ‘‘ ... ’’ جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں، ان میں سے اکثروں کو عقل نہیں ہے۔‘‘ نیز مزید ارشاد فرمایا: ’’وَلَوْ أَنَّہُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ إِلَيْہِمْ لَکَانَ خَيْرًا لَّہُمْ‘‘ ... ’’ اور اگر یہ لوگ (ذرا) صبر (اور انتظار) کرتے، یہاں تک کہ آپ خود باہر ان کے پاس آجاتے تو یہ ان کے لیے بہتر ہوتا (کیوں کہ ادب کی بات تھی) اور اللہ غفور رحیم ہے۔‘‘
آج کے جدید دور میں میڈیا جو کہ ایک بہت بڑے جنگی آلے اور حربے کے طور پر بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے، اس کو کس طرح برتنا ہے اور کیسے استعمال کرنا ہے؟ تو اس بارے میں آیت قرآنی میں رہنمائی ملتی ہے: ’’يَا أَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا إِنْ جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوْا أَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِيْنَ۔‘‘ ... ’’ اے ایمان والو! اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لاوے تو خوب تحقیق کرلیا کرو، کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر نہ پہنچادو، پھر اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔‘‘
کیا ہم اس فتح پر فخر کرسکتے ہیں؟ یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ: ’’ وَلَکِنَّ اللہَ حَبَّبَ إِلَيْکُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَہٗ فِيْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ إِلَيْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْيَانَ‘‘ ... ’’ لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور کفر اور فسق اور عصیان سے تم کو نفرت دے دی۔‘‘ یہ سب محض اللہ کا فضل ہے: ’’لِیَبْلُوَنِيْ أَ أَشْکُرُ أَمْ أَکْفُرْ‘‘ ... ’’تاکہ وہ میری آزمائش کرے کہ میں شکر ادا کرتا ہوں یا (خدانخواستہ) ناشکری کرتا ہوں۔‘‘
جب ایک سوسائٹی تشکیل پائے گی اور معاشرہ وجود میں آئے گا تو فطری بات ہے کہ آپس میں ناگواریاں آئیں گی اور اختلافات و انتشار کا سبب بنیں گی۔ ان اختلافات کو کیسے دور کیا جائے اور کیسے صلح صفائی کی جائے؟ تو اس سے متعلق یہ سورت واضح رہنمائی کرتی ہے: ’’وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَأَصْلِحُوْا بَيْنَہُمَا‘‘ ... ’’ اور اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان اصلاح کردو ۔‘‘
اُخوتِ اسلامی کو باہمی انتشار وافتراق سے اور باہمی تنازعات سے کس طرح بچایا جائے؟ تو اس کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا: ’’ يَا أَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰی أَنْ يَّکُوْنُوْا خَيْرًا مِنْہُمْ‘‘ ... ’’ اے ایمان والو! نہ مَردوں کو مَردوں پر ہنسنا چاہیے ، کیا عجب ہے کہ (جن پر ہنستے ہیں) وہ ان (ہنسنے والوں) سے (خدا کے نزدیک) بہتر ہوں۔‘‘ اور ’’وَلَا تَلْمِزُوْا أَنْفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْأَلْقَابِ‘‘ ... ’’اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔‘‘ اور ’’ وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا‘‘ ... ’’ اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے۔‘‘
گویا معاشرتی خرابیاں جن سے معاشرے کے فساد وبگاڑ کا اندیشہ تھا تو ان سب کا سدِباب کردیا۔
اسلامی معاشرے میں جہاں مسلمان رہتے ہیں، وہیں ان کے ساتھ کچھ دوسرے مذاہب والے بھی سکونت پذیر ہوتے ہیں جن کو اقلیتیں کہا جاتا ہے، ان کے ساتھ کیا رویہ و برتاؤ شریعت میں روا ہے؟ اس کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: ’’يَا أَيُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَأُنْثٰی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا‘‘ ... ’’ اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف خاندان بنایا ہے، تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو ۔‘‘
اب اس بات کی تعیین کس طرح ہوگی کہ کون مرتبے ومنصب کا اہل وفضیلت کا حامل اور حقدار ہے؟ اس کے متعلق اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں: ’’إنّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ أَتْقَاکُمْ‘‘ ... ’’ اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو۔‘‘ اور ’’قَالَتِ الْأَعْرَابُ اٰمَنَّا قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلَکِنْ قُوْلُوْا أَسْلَمْنَا‘‘ ... ’’ یہ گنوار کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ فرمادیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے، لیکن یوں کہو کہ ہم (مخالفت چھوڑ کر) مطیع ہوگئے۔‘‘اور ’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ أُولٰئِکَ ہُمُ الصَّادِقُوْنَ ‘‘ ... ’’پورے مومن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان لائے، پھر شک نہیں کیا اور اپنے مال اور جان سے خدا کے رستے میں محنت اُٹھائی، یہ لوگ ہیں سچے۔‘‘
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے