بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

بینات

 
 

’’صحیح بخاری‘‘ کے ’’تراجمِ ابواب‘‘ سے متعلق چند اُصول (تیسری اور آخری قسط)

’’صحیح بخاری‘‘ کے ’’تراجمِ ابواب‘‘ سے متعلق چند اُصول

افاداتِ شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوری  رحمہ اللہ 

(تیسری اور آخری قسط)


فصلِ دوم: ’’تراجم ابواب کے لیے امام بخاری  رحمہ اللہ  کا طریقۂ استدلال

علامہ سندھی ودیگر محققین  رحمۃ اللہ علیہم  کی تصریح اور حافظ ابن حجر  رحمہ اللہ  وغیرہ کے بیان کے مطابق صحیح بخاری کے تراجم کی دو قسمیں ہیں:
 (۱) اکثر وبیشتر تراجم، دعوے کی صورت میں ہیں۔
 (۲) بعض تراجم، حدیث کی تشریح اور اس کی مراد کی وضاحت کرتے ہیں، مثلاً:
۱:- کسی عام حدیث پر خاص ترجمہ قائم کرکے اس نکتے پر تنبیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیثِ عام کی مراد خاص ہے۔
۲:- کسی خاص حدیث پر عام ترجمہ لاکر اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ خصوصیت معتبر نہیں ہے، جیسے: ’’باب من برک عند الإمام أو المحدّث‘‘ (۱)
۳:- مقید ترجمہ کے تحت مطلق حدیث لاکر اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حدیث کا اطلاق‘ مقید ہے، جیسے: ’’باب الصُفرۃ والکُدرۃ بعد الطہر‘‘ (کذا)(۲) اور ’’باب لایبصُق عن یمینہٖ في الصلاۃ‘‘۔ (۳)
۴:- کبھی مطلق ترجمہ کے تحت مقید حدیث لاکر اس حدیث کے اطلاق کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جیسے:’’ باب الجمع في السفر‘‘ کے تحت حضرت عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما  کی حدیث لائے ہیں، جو ’’جدّ بہ السیر‘‘ کی قید کے ساتھ مقید ہے (۴) اور ’’باب لیبصق عن یسار‘‘ کے تحت ایسی حدیث لائے ہیں جو نماز کے ساتھ مقید ہے (۵)، اس میں اس جانب اشارہ ہے کہ نماز کی قید احترازی نہیں ہے، بلکہ بائیں جانب تھوکنا ہر حال میں مطلوب ہے۔
۵:- کبھی حدیث میں اجمال ہوتا ہے اور امام بخاریؒ ترجمہ کے ذریعہ تفسیر وتفصیل فرماتے ہیں۔
دعووں پر مشتمل تراجم کی بھی دو قسمیں ہیں: ظاہر اور خفی۔
(۱) ’’ظاہرتراجم‘‘ یعنی وہ تراجم جو حدیث سے صراحۃًثابت ہوں، مثلاً:حدیث کے الفاظ ہی سے ترجمہ قائم کرکے یہ بتانا کہ یہ مسئلہ اس حدیث سے ثابت ہے یا اس مسئلہ کی دلیل یہ حدیث ہے۔
(۲) ’’خفی تراجم‘‘ کے اثبات کے کئی طریقے ہیں:
۱:- کبھی ترجمہ کو (باب کے تحت حدیث کے بجائے) اپنی کتاب میں درج حدیث کے کسی اور طریق میں وارد الفاظ سے ثابت کرتے ہیں، جیسے:
۱:…’’باب الفُتیا وہو واقف علی ظہر الدابۃ‘‘ (ص:۱۸) کے تحت مذکور حدیث میں سواری پر وقوف کا ذکر نہیں ہے (۶)، لیکن’’ کتاب الحج‘‘میں (اسی حدیث کے دوسرے طریق میں)اس کا ذکر ہے اور اسی کی جانب اشارہ فرمایا ہے۔ (۷)
۲:… ’’باب السمر في العلم‘‘ کے تحت حدیث میں ’’سمر‘‘ (عشا کے بعد باہمی گفتگو)کا ذکر نہیں (۸)، لیکن ’’کتاب التفسیر‘‘ میں (اسی حدیث کے دوسرے طریق میں) ’’سمر‘‘کا ذکر ہے۔ (۹)
۳:…’’باب التقاضي والملازمۃ في المسجد‘‘ کے تحت حدیث میں ملازمت (مقروض کا پیچھا کرنا) کا ذکر نہیں (۱۰) ، لیکن’’ کتاب الخصومات‘‘ (ص:۳۲۷) میں (اسی روایت کے دوسرے طریق میں) ’’ملازمت‘‘ کا ذکر ہے (۱۱)، اس نوع کے مزیدبہت سے نظائر موجود ہیں۔
۲:-  کبھی دیگر محدثین کے ہاں حدیث کے بعض طرق کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جیسے: ’’باب التقاط الخِرَق والقَذَی إلخ (کذا)‘‘ (۱۲) کے ترجمہ کو دیگر محدثین کی روایات سے ثابت کیا ہے اور ’’باب دلک المرأۃ نفسہا‘‘ (۱۳) کے عنوان میں ’’صحیح مسلم‘‘ کی حدیث کی طرف اشارہ فرمایاہے۔ (۱۴)
۳:- کبھی ترکِ استفسار سے استدلال فرماتے ہیں، جیسے:’’ باب وضوء الرجل مع امرأتہٖ وفضل وضوء المرأۃ‘‘ کے تحت حضرت عمر  رضی اللہ عنہ  کا اثر لائے ہیں کہ انہوں نے گرم پانی سے اور نصرانی عورت کے گھر سے وضو فرمایا (۱۵)، اس اثر سے ترجمہ پر ترکِ استفسار کی بناپر استدلال کیا ہے، اس نکتے کی جانب حافظ ابن حجر  رحمہ اللہ  نے متوجہ فرمایا ہے ۔ (۱۶)
۴:- کبھی باب میں درج مجموعی احادیث سے ترجمہ پر استدلال فرماتے ہیں، جیسے: بعض شراح کے نزدیک (امام بخاری  رحمہ اللہ  نے) ’’باب بدء الوحي‘‘ (۱۷) میں یہی اسلوب اپنایا ہے، اسی طرح ’’باب الفُتیا بإشارۃ الید والرأس‘‘ (ص:۱۸) (۱۸) میں بھی یہی اسلوب ہے۔ امام موصوف کی یہ عادت معروف ہے۔
۵:-  کبھی عموم سے استدلال فرماتے ہیں، جیسے:’’ باب السؤال والفُتیا عند رمي الجِمار‘‘ (ص:۲۳) کے تحت حضرت عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہ  کی حدیث لائے ہیں ،جس میں’’ عند الجمرۃ‘‘ کے الفاظ ہیں(۱۹)، یہ الفاظ حالت ِرمی وغیرِ رمی دونوں کے لیے عام ہیں، حافظ ابن حجر  رحمہ اللہ  وغیرہ شراح نے اس نکتے کی جانب توجہ دلائی ہے۔ (۲۰)
۶:-  کبھی اصل سے استدلال فرماتے ہیں، جیسے:ران کے ستر نہ ہونے پرحضرت زید بن ثابت  رضی اللہ عنہ  کی حدیث سے استدلال کیا ہے:’’ وفخذہٗ علی فخذي‘‘ (اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ران میری ران پر تھی) (۲۱)، حالانکہ اس موقع پر درمیان میں کپڑا حائل ہونے کا احتمال ہے، لیکن ’’فخذ‘‘ میں اصل‘ عضو ہے۔ اسی سے امام موصوف نے استدلال فرمایا ہے۔
۷:-  اسی طرح اشارۃ النص،دلالۃ النص اور اقتضاء النص سے بھی استدلال فرماتے ہیں، جیسے اگلی سطور میں آپ کے سامنے آرہا ہے۔
۸:- کبھی ’’اولویت‘‘ (اولیٰ ہونے) سے استدلال فرماتے ہیں، جیسے:’’ باب التیمّن في الوضوء والغسل‘‘ میں غسلِ میت کے متعلق حضرت ام عطیہ t کی حدیث لائے ہیں: ’’ابدأن بمیامنہا ومواضع الوضوء منہ‘‘ (اس خاتون کے دائیں جانب اور اس کے اعضاء وضو سے ابتدا کرو) (۲۲)، اس حدیث سے زندہ کے لیے بطریقِ اولیٰ دائیں جانب سے ابتدا کو ثابت کیا ہے، اس لیے کہ یہی اصل ہے، اسی طرح ’’باب البول قائمًا وقاعدًا‘‘ کے تحت حضرت حذیفہ  رضی اللہ عنہ  کی حدیث لائے ہیں کہ انہوں نے کھڑے ہوکر قضائے حاجت فرمائی(۲۳)  اور اس روایت سے بیٹھ کر قضائے حاجت کو بطریقِ اولیٰ ثابت کیا ہے۔
۹:- کبھی حدیث کے کسی ایک محتمل سے استدلال فرماتے ہیں، جیسے: ’’باب العَلَم في المُصلَّی‘‘ (۲۴) کے تحت حدیث میں مذکورعَلَم میں دو احتمال ہیں ،نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  (کے زمانے) کی عید میں تھا یا آپ کے بعد، امام موصوف نے پہلے احتمال سے استدلال فرمایا ہے، یہی طریقۂ استدلال ’’باب الرجل یأتمّ بالإمام‘‘(۲۵)  میں بھی اپنایا ہے۔
۱۰:- کبھی التزام (دلالت ِ التزامی)سے استدلال فرماتے ہیں، جیسے: ’’باب الماء الذي یغسل بہ شعر الإنسان‘‘ (۲۶) کے تحت انسانی بالوں کے پاک ہونے کو (حدیث کی) دلالتِ التزامی سے ثابت کیا ہے، اس لیے کہ جب اس پانی سے وضو جائز ہے تو ثابت ہوا کہ بال پاک ہیں، ورنہ وضو جائز نہ ہوتا۔
۱۱:-  کبھی حدیث کے ظاہر سے استدلال فرماتے ہیں، جیسے: ’’باب الوضوء من النوم‘‘ (۲۷)  اور ’’باب الوضوء مرتین‘‘(۲۸)۔
۱۲:-  کبھی عادت سے استدلال فرماتے ہیں، جیسے: ’’باب التماس الوَضوء‘‘ (۲۹) کے تحت ، حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہٗ فرماتے ہیں: ’’امام بخاریؒ کا مقصود یہ ہے کہ صحابہؓ    کی عادت (وضو کے لیے) پانی تلاش کرنے کی تھی۔‘‘ (۳۰)
 ’’باب طول القیام في صلاۃ اللیل‘‘ کے تحت حضرت حذیفہ  رضی اللہ عنہ  کی حدیث لائے ہیں: ’’إذا قام للتہجّد یشوص فاہ بالسّواک‘‘ (نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  جب تہجد کے لیے اٹھتے تو اپنے منہ کو مسواک سے مانجھتے تھے) (۳۱)، علامہ ابن رشید  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: ’’امام بخاریؒ اس روایت کو حضرت حذیفہ  رضی اللہ عنہ  کے قول ’’إذا قام للتہجّد‘‘ کی بنا پر اس باب کے تحت لائے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  اپنی عادت و معمول کے لیے بیدار ہوتے اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی عادت‘ باب کے تحت مذکور دوسری حدیث سے ثابت ہوچکی ہے۔(۳۲)
۱۳:-  کبھی مطلق حدیث سے مقید ترجمہ پر استدلال کرتے ہیں، اس لیے کہ دوسرے صحابی کی حدیث میں قید وارد ہوتی ہے تو گویا امام بخاریؒ دونوں صحابہ  رضی اللہ عنہما  کی حدیثوں کو ایک حدیث قرار دیتے ہیں، جیسے: ’’باب وجوب الزکاۃ‘‘ میں حضرت ابوایوب  رضی اللہ عنہ  کی حدیث میں ’’المفروضۃ‘‘ کی قید نہیں ہے، بلکہ یہ قید حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  کی روایت میں ہے۔ (۳۳)
۱۴:-  بسا اوقات (بعض تراجم کے متعلق) شراح ذکر کرتے ہیں کہ امام بخاری  رحمہ اللہ  نے قیاس سے استدلال فرمایا ہے ، لیکن میرے نزدیک یہ بات درست نہیں ہے۔ (۳۴)

استدلال کی مذکورہ انواع کا خلاصہ

۱:-  اپنے پاس موجود کسی حدیث کی جانب اشارہ مقصود ہو، جیسے: ’’باب التقاضي والملازمۃ في المسجد‘‘ (۳۵)
۲:-  دیگر محدثین کی کسی حدیث کی جانب اشارہ مقصود ہو، جیسے: ’’باب کنس المسجد والتقاط القَذَی والخِرَق والعِیدان‘‘ (۳۶)
۳:- ترک ِاستفسار سے استدلال، جیسے: ’’باب وضوء الرجل مع امرأتہٖ وفضل وضوء المرأۃ‘‘ (۳۷)
۴:-  مجموعی روایات سے استدلال، جیسے: ’’باب بدء الوحي‘‘ (۳۸) اور ’’باب من أجاب الفُتیا بإشارۃ الید والرأس‘‘ (۳۹)
۵:-  عموم سے استدلال، جیسے: ’’باب السؤال والفتیا عند رمي الجمار‘‘ کے تحت حضرت عبد اللہ ابن عمر  رضی اللہ عنہ  کی حدیث لائے ہیں، جس میں ’’وہو عند الجمرۃ‘‘کے الفاظ ہیں ۔(۴۰)
۶:-  اصل سے استدلال، جیسے:’’ باب ماجاء في الفخذ‘‘ کے تحت حضرت زید  رضی اللہ عنہ  کی حدیث میں ’’فخذہٗ علی فخذي‘‘ سے استدلال۔ (۴۱)
۷:-  اشارۃ النص،دلالۃ النص اور اقتضاء النص سے استدلال۔
۸:-  ’’اولویت‘‘ (اولیٰ ہونے) سے استدلال، جیسے :’’باب البول قائمًا وقاعدًا‘‘ (۴۲) میں حضرت شاہ ولی اللہ  رحمہ اللہ  کے نزدیک ’’اولیٰ‘‘ سے قعود ثابت کیا ہے۔ (۴۳) اور ’’باب التیمّن في الوضوء والغسل‘‘ میں غسلِ میت کے متعلق حضرت ام عطیہ t کی حدیث لائے ہیں۔ (۴۴)
۹:-  ہرمحتمل سے استدلال ، حضرت شاہ ولی اللہ  رحمہ اللہ  کے بقول امام موصوف کی کتاب ’’صحیح بخاری‘‘ میں اس نوع کے تراجم بہت سے ہیں، جیسے: ’’باب العَلَم في المصلَّی‘‘ (۴۵) کے تحت روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے زمانے کا احتمال بھی ہے اور آپ کی وفات کے بعد کا بھی احتمال ہے، اسی طرح ’’باب الرجل یأتمّ بالإمام ویأتمّ الناس بالمأموم‘‘ (ص:۹۹) (۴۶)
۱۰:-  دستیاب الفاظ (ظاہرِحدیث) سے استدلال، جیسے:’’ باب الوضوء مرتین‘‘ (۴۷) اور ’’باب المضمضۃ والاستنشاق في الجنابۃ‘‘ (ص:۴۰) (۴۸)
۱۱:-  ایسی دوحدیثوں سے استدلال، جن میں سے ایک مقید اور دوسری مطلق ہو، امام موصوف انہیں ایک ہی حدیث قرار دیتے ہیں اور پہلی حدیث کی قید کو دوسری حدیث میں ملحوظ رکھتے ہیں، جیسے:’’ کتاب الزکاۃ‘‘ میں’’ باب وجوب الزکاۃ‘‘ (ص:۱۸۷) کے تحت حضرت ابوایوب انصاری  رضی اللہ عنہ  کی حدیث لائے ہیں، جس میں’’ تؤتي الزکاۃ‘‘ کے الفاظ ہیں (اور ’’المفروضۃ‘‘ کی قید نہیں ہے) اسی باب کے تحت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  کی حدیث میں ’’المفروضۃ‘‘ کی قید وارد ہے۔ (۴۹)
۱۲:-  التزام (دلالتِ التزامی) سے استدلال، جیسے:’’ باب الماء الذي یغسل بہ شعر الإنسان‘‘ (۵۰) میں انسان کے بالوں کی طہارت کوحضرت شاہ ولی اللہ  رحمہ اللہ  کے بقول ’’دلالتِ التزامی‘‘ سے ثابت کیا ہے۔ (ص:۲۶) (۵۱)
۱۳:-  عادت سے استدلال، جیسے:’’ باب طول القیام في صلاۃ اللیل‘‘ کے تحت حضرت حذیفہ  رضی اللہ عنہ  کی حدیث لائے ہیں ،جس میں ’’إذا قام من اللیل‘‘ کے الفاظ ہیں۔ (۵۲) علامہ ابن رشید رحمہ اللہ  نے ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد’’ قیامِ عادی‘‘ ہے۔ (۵۳)
۱۴:- قیاس سے استدلال ،جو محل نظر ہے، بلکہ میرے نزدیک یہ استدلال دلالۃ النص یا اشارۃ النص یا اقتضاء النص یا عموم یا احتمال یا اولویت سے ہوتا ہے۔ (۵۴)
 

واللّٰہ تعالٰی أعلم وعلمہٗ أتمّ !
 

حواشی و حوالہ جات

۱:- کتاب العلم، باب من برک علی رکبتیہ عند الإمام أو المحدث، (۱/۲۰) 
۲:- کتاب الحیض، باب الصفرۃ والکدرۃ في غیر أیام الحیض، (۱/۴۷) 
۳:- کتاب الصلاۃ، باب لایبصق عن یمینہ في الصلاۃ، (۱/۵۹) 
۴:- أبواب تقصیر الصلاۃ، باب الجمع في السفر بین المغرب والعشاء ، (۱/۱۴۹) 
۵:- کتاب الصلاۃ، باب لیبصق عن یسارہ في الصلاۃ، (۱/۵۹) 
۶:- کتاب العلم، باب الفتیا وہو واقف علی ظہر الدابۃ أو غیرہا، (۱/۱۸) 
۷:- کتاب المناسک، باب الفتیا علی الدابۃ عند الجمرۃ، (۱/۲۳۴) 
۸:- کتاب العلم، باب السمرفي العلم، (۱/۲۲) 
۹:- کتاب التفسیر، سورۃ آل عمران، باب : إن في خلق السمٰوٰت والأرض، (۲/۶۵۷)
۱۰:- کتاب الصلاۃ، باب التقاضي والملازمۃ في المسجد، (۱/۶۵) 
۱۱:- في الخصومات، باب في الملازمۃ، (۱/۱۲۷) 
۱۲:- کتاب الصلاۃ، باب کنس المسجد والتقاط الخرق والقذی أ لخ، (۱/۶۵) 
۱۳:- کتاب الحیض، باب دلک المرأۃ نفسہا إلخ، (۱/۴۵)
۱۴:- صحیح مسلم، کتاب الحیض، باب استحباب المغتسلۃ من الحیض فرصۃ إلخ، (۱/۱۵۰) 
۱۵:- کتاب الوضوء ، باب وضوء الرجل مع امرأتہ وفضل وضوء المرأۃ، (۱/۳۲) 
۱۶:- فتح الباري، کتاب الوضوء ، باب وضوء الرجل مع امرأتہ وفضل وضوء الرمأۃ، (۱/۲۹۹) 
۱۷:- باب کیف کان بدء الوحي إلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، (۱/۲-۵) 
۱۸:- کتاب العلم، باب من أجاب الفتیا بإشارۃ الید والرأس، (۱/۱۸) 
۱۹:- کتاب العلم، باب السؤال والفتیا عند رمي الجمار، (۱/۱۲۳) 
۲۰:- فتح الباري، کتاب العلم، باب السؤال والفتیا عند رمي الجمار، (۱/۲۲۳) 
۲۱:- کتاب الصلاۃ، باب ما یذکر في الفخذ، (۱/۵۳) 
۲۲:- کتاب الوضوء ، باب التیمن في الوضوء والغسل، (۱/۲۸-۲۹) 
۲۳:- کتاب الوضوء ، باب البول قائما وقاعدا، (۱/۳۵) 
۲۴:- کتاب العیدین، باب العلم بالمصلی، (۱/۱۳۳) 
۲۵:- کتاب الأذان، باب الرجل یأتم بالإمام إلخ، (۱/۹۹) 
۲۶:- کتاب الوضوء ، باب الماء الذي یغسل بہ شعر الإنسان، (۱/۲۹) 
۲۷:- کتاب الوضوء ، باب الوضوء من النوم إلخ، (۱/۳۴) 
۲۸:- کتاب الوضوء ، باب الوضوء مرتین مرتین، (۱/۲۷) 
۲۹:- کتاب الوضوء ، باب التماس الوضوء إلخ، (۱/۲۹) 
۳۰:- شرح تراجم أبواب البخاري ، کتاب الوضوء، باب التماس الوضوء، ص:۹۳، دارالتقویٰ، دمشق، شام ۱۴۳۹ھ 
۳۱:- کتاب التہجد، باب طول القیام في صلاۃ اللیل، (۱/۱۵۲-۱۵۳) 
۳۲:- فتح الباري، کتاب التہجد، باب طول القیام في صلاۃ اللیل، (۳/۲۰) 
۳۳:- کتاب الزکوۃ، باب وجوب الزکوۃ، (۱/۱۸۷) 
۳۴:- مولانا محمد یونس جونپوری  رحمہ اللہ  فرماتے ہیں: ’’حضرت امام بخاریؒ عام علماء کی طرح کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اجماعِ امت کو تو حجت مانتے ہیں، رہی یہ بات کہ وہ قیاس کو حجت مانتے ہیں یا نہیں؟ عامۃََ شراحِ کرام: حضرت علامہ مہلب، علامہ ابن التین، علامہ کرمانی، حافظ ابن حجر، علامہ عینی، علامہ قسطلانی وغیرہ حضرات کی رائے ہے کہ امام بخاریؒ قیاس کو حجت مانتے ہیں، اگر قیاس صحیح ہو اور اس کے اوضاع اور طریقوں پر استعمال کیا گیا ہو اور نصوص کے ہوتے ہوئے قیاس نہ کیا گیا ہو، اور اگر نصوص کے ہوتے ہوئے قیاس کو استعمال کیا گیا ہو، یا قیاس کو اس کے طریقوں پر استعمال نہ کیا گیا ہو اور خواہ مخواہ علتِ جامعہ کو زبردستی تلاش کیا گیا ہو تو حضرت امام بخاریؒ قیاس کو حجت نہیں مانتے ہیں،لیکن علامہ داؤدیؒ اور علامہ کشمیریؒ کی رائے یہ ہے کہ امام بخاریؒ قیاس کو حجت نہیں مانتے ہیں، یہی میرا اپنابھی خیال ہے ، چنانچہ امام بخاریؒ نے قیاس کے متعلق جتنے تراجم منعقد فرمائے ہیں، سب سے اس کی مذمت ہی نکلتی ہے۔‘‘ (الفیض الجاري في دروس البخاري، آخری جلد، ص:۲۶۰، مکتبۃ القلم، سورت ، گجرات، انڈیا، ۱۴۳۹ھ/۲۰۱۷ء) 
۳۵:- کتاب الصلاۃ، باب التقاضي والملازمۃ في المسجد، (۱/۶۵) 
۳۶:- کتاب الصلاۃ، باب کنس المسجد و التقاط الخرق والقذی والعیدان، (۱/۶۵) 
۳۷:- کتاب الوضوء ، باب وضوء الرجل مع امرأتہٖ و فضل وضوء المرأۃ، (۱/۳۲) 
۳۸:- باب کیف کان بدء الوحي إلٰی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، (۲-۵) 
۳۹:- کتاب العلم، باب من أجاب الفتیا بإشارۃ الید والرأس، (۱/۸۱-۱۹) 
۴۰:- کتاب العلم، باب السؤال والفتیا عند رمي الجمار، (۱/۲۳-۲۴) 
۴۱:- کتاب الصلاۃ، باب ما یذکر في الفخذ، (۱/۵۳) 
۴۲:- کتاب الوضوء ، باب البول قائما وقاعدا، (۱/۳۵) 
۴۳:- شرح تراجم أبواب البخاري، کتاب الوضوء، باب البول قائما وقاعدا ، ص:۱۰۳
۴۴:- کتاب الوضوء ، باب التیمن في الوضوء والغسل، (۱/۲۸-۲۹) 
۴۵:- کتاب العیدین، باب العلم بالمصلي، (۱/۱۳۳) 
۴۶:- کتاب الأذان، باب الرجل یأتم بالإمام ویأتم الناس بالمأموم، (۱/۹۹) 
۴۷:- کتاب الوضوء ، باب الوضوء مرتین، (۱/۲۷) 
۴۸:- کتاب الغسل، باب المضمضۃ والاستنشاق في الجنابۃ، (۱/۴۰) 
۴۹:- کتاب الزکوۃ، باب وجوب الزکوۃ، (۱/۱۸۷) 
۵۰:- کتاب الوضوء ، باب الماء الذي یغسل بہ شعر الإنسان، ( ۱/۲۹) 
۵۱:- شرح تراجم أبواب البخاري، کتاب الوضوء، باب الماء الذي یغسل بہ شعر الإنسان ، ص:۹۳۔
۵۲:- کتاب الوضوء ، باب الماء الذي یغسل بہ شعر الإنسان، (۱/۲۹) 
۵۳:- فتح الباري، کتاب التہجد، با ب طول القیام في صلاۃ اللیل، (۳/۲۰) 
۵۴:- ملاحظہ

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے